حامد میرکالملکھاری

حامد میرکا کالم۔۔پاور پالیٹکس اور میڈیا

تقریر پر تقریر۔ تقریر پر تقریر۔ ایک گھنٹہ گزرا۔ پھر دو گھنٹے گزرے۔ پھر تین گھنٹے گزر گئے۔
بیٹھ بیٹھ کر تھک جانے والا محاورہ مجھے بڑی اچھی طرح سمجھ آ رہا تھا۔ مجھے اپنی باری کا انتظار تھا لیکن اس اجتماع کے میزبان کے پاس مقررین کی لمبی فہرست تھی۔
ایک طویل عرصے کے بعد سیاستدانوں اور صحافیوں کی قیادت وکلا، مزدوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی قیادت کے ساتھ ایک چھت تلے، ایک میز کے گرد بیٹھ کر اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے مل کر جدوجہد کرنےکے امکانات کا جائزہ لے رہی تھی۔
اس یادگار اجتماع کا اہتمام کراچی یونین آف جرنلسٹس نے کیا تھا جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ستر سالہ تاریخ پر مبنی کتاب کی رونمائی بھی کی گئی۔
یہ کتاب آزادیٔ صحافت کی جدوجہد کی کہانی ہے اور کے یو جے نے کتاب کی تقریبِ رونمائی کو آل پارٹیز کانفرنس بنا دیا تھا۔ کے یو جے کے جنرل سیکرٹری فہیم صدیقی نے ہمیں دعوت تو کتاب کی تقریبِ رونمائی اور آزادیٔ صحافت کو درپیش مسائل پر سیمینار میں شرکت کی دی تھی لیکن یہ اندازہ نہ تھا کہ وہ یہاں پر زندگی کے ہر اہم شعبے کے نمائندوں کو اکٹھا کر لیں گے۔
اس سیمینار میں وفاقی حکومت کی طرف سے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے شرکت کی حامی بھری تھی۔ تاہم جب اُنہیں یہ پتہ چلا کہ سیمینار میں سندھ حکومت کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ بھی آئیں گے تو اُن کی طرف سے فہیم صدیقی کو اطلاع دی گئی کہ اُن کی جگہ وفاقی وزیر علی زیدی سیمینار میں آئیں گے۔
سیمینار کا آغاز ہوا تو ابتداء ہی میں نیشنل ٹریڈ یونینز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے دبنگ اور بےباک انداز میں کہا کہ آزادیٔ اظہار صرف صحافیوں کا نہیں، پاکستان کے ہر شہری کا مسئلہ ہے اور موجودہ دورِ حکومت میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے مزدوروں کی آواز کو وہی لوگ دبا رہے ہیں جو میڈیا کی آواز بھی دباتے ہیں۔
اُنہوں نے ٹریڈ یونینز کے بارے میں ریمارکس دینے والے کچھ اعلیٰ صاحبان پر بھی تنقید کی۔
ابھی اُن کی تقریر کی گونج ختم نہ ہوئی تھی کہ فون پر ایک پیغام موصول ہوا کہ صدر مملکت کی طرف سے ایک آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت کسی سیاسی جماعت کا صدر یا نمائندہ سینیٹ کے الیکشن میں ڈالے جانے والے ووٹ کو دیکھنے کی درخواست دے سکے گا۔
آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس قانون کا اطلاق اُس صورت میں ہو گا کہ اگر سپریم کورٹ یہ رائے دے دیتی ہے کہ سینیٹ کا الیکشن آئین کی دفعہ 226کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
دوسرے الفاظ میں حکومت چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں تو سیکرٹ بیلٹ چاہتی ہے لیکن ارکانِ سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ کی خواہاں ہے۔
صدر نے حکومت کی طرف سے دفعہ 186کے تحت سپریم کورٹ میں دائر ریفرنس کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی آرڈیننس جاری کر دیا تھا۔ کے یو جے کے سیمینار میں بہت سے معروف وکلا شریک تھے اور وہ اس آرڈیننس کو آئین کی روح کے منافی قرار دے رہے تھے۔
صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ حکومت نے یہ تاثر دیا کہ عدلیہ آزاد و خود مختار نہیں ہے بلکہ حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ جو فیصلہ ابھی آنا ہے اُس کو ایک آرڈیننس کا حصہ بنا کر عدلیہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ایک طرف کے یو جے کا سیمینار اپنے چوتھے گھنٹے میں داخل ہو چکا تھا اور دوسری طرف وفاقی حکومت کے نمائندے علی زیدی کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔
ایک وفاقی وزیر امین الحق اس سیمینار میں موجود تھے لیکن وہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پھر پتہ چلا کہ علی زیدی بھی نہیں آ رہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی نے 12؍مئی 2007کو کراچی میں ہونے والے قتلِ عام کے ذمہ داروں کو سزائیں نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا تو ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے زور زور سے اثبات میں سر ہلایا۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے کرامت علی اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین اسد اقبال بٹ نے لیبر اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر بعض ریاستی اداروں کے غیرآئینی دبائو کا ذکر کیا اور کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ صحافی، وکلا، مزدور اور سیاسی کارکن متحد ہو کر تحریک چلائیں اور مختلف تنظیموں کا ایک اتحاد بنایا جائے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ یہاں کچھ اداروں کے دبائو کا ذکر تو کیا گیا لیکن عمران خان کا نام نہیں لیا گیا جو وزیراعظم ہیں۔ محمد زبیر کی تقریر میں یہ پیغام تھا کہ اداروں کی بجائے عمران خان پر تنقید کی جائے۔
اے این پی کے شاہی سید، جماعت اسلامی کے اُسامہ رضی، جے یو آئی ف کے سرور بلیدی اور پاکستان بار کونسل کے شہادت اعوان مشترکہ جدوجہد کی تجویز سے اتفاق کر رہے تھے۔
سندھ کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے بڑے محتاط انداز میں صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اور بتایا کہ بہت جلد سندھ اسمبلی صحافیوں کے تحفظ کا بل منظور کر لے گی۔
بزرگ صحافی جی این مغل نے ہاتھ جوڑ کر صحافی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کریں ورنہ انہیں آپس میں لڑا کر ختم کر دیا جائے گا۔ اور پھر آخر میں پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے پاکستان میں غیراعلانیہ سنسر شپ اور میڈیا میں جبری برطرفیوں کے خلاف اپریل کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ کچھ لوگ یہ سمجھیں گے کہ پی ڈی ایم نے 26؍مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کیا اور پی ایف یو جے نے اپریل میں لانگ مارچ کا اعلان کیا، شاید دونوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا ہو۔
پی ایف یو جے نے موجودہ حکومت کی غیراعلانیہ سنسر شپ کے خلاف پہلا یومِ سیاہ 2019میں منایا تھا جب پی ڈی ایم بنی بھی نہیں تھی۔ پی ایف یو جے مشترکہ جدوجہد پر یقین رکھتی ہے لیکن فی الحال ایسا نظر آتا ہے کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ دراصل پاور پالیٹکس کا حصہ ہے۔
پی ڈی ایم عمران خان کو حکومت سے نکالنا چاہتی ہے لیکن پی ڈی ایم نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ عمران خان کو نکال کر پاکستان کے مسائل کیسے حل کئے جائیں گے؟
عمران خان کی حکومت نے سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ کے لئے آرڈیننس جاری کرکے اپنی بوکھلاہٹ اور اندرونی کمزوریوں کو بےنقاب کر دیا ہے۔
صاف نظر آ رہا ہے کہ عمران خان شدید عدم تحفظ اور انجانے خوف کا شکار ہیں۔ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کی اس لڑائی میں پاکستان کے میڈیا، سول سوسائٹی، وکلا، مزدوروں اور طلبہ کے مسائل کا کوئی مستقل حل نظر نہیں آتا لہٰذا پی ایف یو جے اپنے لانگ مارچ سے پہلے مختلف شہروں میں صحافیوں، وکلا، مزدوروں اور سول سوسائٹی کو اکٹھا کرکے ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی کوشش کرے گی اور ایک وسیع البنیاد قومی اتحاد بنائے گی تاکہ آئین کے دائرے کے اندر رہ کر اُن مسائل کا حل تلاش کیا جائے جنہیں عمران خان حل نہیں کر سکے اور جن پر پی ڈی ایم کی بھی توجہ نہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی پاور پالیٹکس ہے جبکہ ہمیں پاور نہیں، بولنے کی آزادی اور معاشی تحفظ چاہئے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker