حامد میرکالملکھاری

حامد میرکا کالم:جب میں القاعدہ کے فکری رہنماؤں سے ملا

ایمن الظواہری سے میری پہلی ملاقات 1998 میں ہوئی۔ وہ اسامہ بن لادن کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے تھے لیکن یہ واضح تھا کہ القاعدہ میں ان کا اصل مقام اس ذمہ داری سے کہیں زیادہ تھا۔
اسامہ بن لادن کے ساتھ یہ میرا دوسرا انٹرویو تھا اور ایمن الظواہری نے فوراً مجھے متاثر کیا۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کے جوابات کا عربی سے فصیح انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ایمن الظواہری تعلیم کے اعتبار سے ایک مصری ڈاکٹر تھے۔ وہ میرے تنقیدی سوالات اپنے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ عربی میں ترجمہ کر کے اسامہ بن لادن کو سناتے اور پھر اگلے ہی لمحے بہت جارحانہ لہجے میں اسامہ بن لادن کے جوابات مجھ تک پہنچاتے۔
جب مجھے خبر ملی کہ ایمن الظواہری کابل شہر کے مرکزی علاقے ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں تو مجھے افغانستان میں جہاد سے ان کے گہرے تعلقات کا خیال آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ دارالحکومت کابل میں کھلے عام رہ رہے تھے۔ یہ امر بذات خود ایک واضح یاد دہانی تھی کہ طالبان نے اپنے پرانے طور طریقے نہیں بدلے۔ یہ واضح ہے کہ بین الاقوامی دہشت گردوں سے دور رہنے کے مغرب سے وعدوں کے باوجود ایمن الظواہری کے ساتھ احترام سے پیش آیا جا رہا تھا۔ اگرچہ ایمن الظواہری ماضی کی طرح القاعدہ کی عملی طور پر قیادت نہیں کر رہے تھے لیکن وہ طالبان کے لیے بدستور اہمیت رکھتے تھے۔ ایمن الظواہری ایک ایسے عرب جہادی تھے جنہوں نے کھل کر اسلامک اسٹیٹ (ISIS) یعنی داعش کی مخالفت کی اور طالبان کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ کیا۔
اگر اسامہ بن لادن کبھی القاعدہ کا عوامی چہرہ تھے تو ایمن الظواہری اس تنظیم کا دماغ تھے۔
اسامہ بن لادن کے ساتھ میرا پہلا انٹرویو 1997 میں تورا بورا پہاڑوں کے ایک غار میں ہوا، جہاں ان کے متعدد ساتھی مترجم کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ یہ افراد عرب نہیں تھے اور اسامہ بن لادن واضح طور پر ان کے کام سے مطمئن نہیں تھے۔ ایک سال بعد دوسرا انٹرویو بہت مختلف تھا۔
دوپہر کے کھانے کا وقفہ ہوا تو میں نے ایمن الظواہری سے پوچھا، ”آپ پچھلے سال کہاں تھے؟“ ”میں روس کی جیل میں تھا،“ انہوں نے جواب دیا۔ اسامہ بن لادن نے میرے تجسس کو محسوس کرتے ہوئے کہا کہ ”ان کی دوست کی یہ پہلی گرفتاری نہیں تھی۔ اس نے کئی سال مصر کی جیلوں میں بھی گزارے۔“ اب میں اس شخص کے بارے میں مزید جاننا چاہتا تھا۔
”آپ تم کون ہو؟“ میں نے پوچھا۔ ”میں آنکھوں کا سرجن ہوں، لیکن اب یہ میرا پیشہ نہیں رہا، محض ایک مشغلہ ہے،“ ایمن الظواہری نے جواب دیا۔ میں نے ہنس کر ان کے اصلی پیشے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ادویات اور کیمیکلز کا کاروبار کرتے ہیں۔ ”روسیوں نے آپ کو کیوں گرفتار کیا؟“ میں نے پوچھا۔ ”کیونکہ میں کچھ چیچن افراد سے ملا تھا،“ ان کا جواب واضح طور پر تہہ دار تھا۔
ہماری گفتگو کے اختتام پر مجھے معلوم ہوا کہ ایمن الظواہری مختلف پاسپورٹوں پر یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سفر کر چکے ہیں۔ وہ امریکہ کے خلاف اسامہ بن لادن کے فتوے پر دستخط کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ اس انٹرویو میں اسامہ بن لادن کے ساتھ میری گفتگو کا بنیادی موضوع یہی فتویٰ تھا۔ ”اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آپ معصوم غیر مسلم خواتین اور بچوں کے قتل کو کیسے جائز قرار دے سکتے ہیں؟“ میں نے اسامہ بن لادن سے پوچھا۔
ایمن الظواہری نے میرے سوال کا ترجمہ کیا۔ اور پھر حوالے کے لئے ایک کتاب اسامہ بن لادن کو دی۔ اسامہ بن لادن نے ایک اچھے طالب علم کی طرح کتاب سے حوالہ پڑھ کر سنایا۔ واضح ہو گیا تھا کہ القاعدہ کے اقدامات اور مقاصد کو جواز فراہم کرنے اور ان کے فروغ میں ایمن الظواہری نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
میں نے 1998 میں القاعدہ کے ساتھ افغانستان میں دو دن گزارے۔ القاعدہ کے دیگر ذرائع سے مجھے معلوم ہوا کہ ایمن الظواہری نے بلیک مارکیٹ میں ممکنہ پورٹیبل ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں چیچنیا کا سفر کیا تھا۔ جب چیچن مافیا کے ناراض ارکان کے ساتھ معاہدہ طے نہ پا سکا تو انہوں نے غصے میں روسی سیکورٹی فورسز کو گروزنی میں ایک پراسرار عرب تاجر کی موجودگی کے بارے میں معلومات لیک کر دیں۔ ایمن الظواہری کو جلد ہی جعلی سوڈانی پاسپورٹ کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا، لیکن چھ ماہ بعد رہا کر دیا گیا کیونکہ روسی ان کی اصل شناخت جاننے میں ناکام رہے۔
بن لادن کے ساتھ اپنے دوسرے انٹرویو کے چند ہفتوں کے اندر، مجھے ایک پاکستانی مذہبی پیشوا کے ذریعے ایمن الظواہری کے ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط اور کتابچے ملنا شروع ہو گئے۔ 9 / 11 کے حملوں کے سات ہفتے بعد میں نے دوبارہ کابل میں ایمن الظواہری سے ملاقات کی۔ ایک بار پھر، وہ اسامہ بن لادن کے ساتھ میرے تیسرے انٹرویو کے دوران مترجم کے طور پر کام کر رہے تھے۔
امریکہ تب تک آپریشن اینڈورنگ فریڈم (افغانستان پر حملہ) شروع کر چکا تھا اور ہمارا انٹرویو دھماکوں اور گولیوں کے درمیان ہو رہا تھا۔ ایمن الظواہری پرسکون دکھائی دے رہے تھے اور یہاں تک کہ بالکل رواروی میں مجھ سے میرے چائنا سنکیانگ ائر لائنز کے سفری بیگ کے بارے میں بھی پوچھا۔ اور پھر کہا کہ انہوں نے بھی چین جانے کے لیے یہی ائر لائن استعمال کی تھی۔ میں نے اپنی پریشانی چھپانے کی کوشش کی۔ ”آپ القاعدہ کے جیمز بانڈ ہو سکتے ہیں، اسی لیے آپ پریشان نہیں لگ رہے، لیکن میں جیمز بانڈ نہیں ہوں ؛ میں یقینی طور پر پریشان ہوں،“ میں نے مذاق میں کہا۔ ”آئیے انٹرویو شروع کرتے ہیں کیونکہ مجھے یہاں جتنی جلد ممکن ہو، بھاگنا ہے۔“
اس انٹرویو میں اسامہ بن لادن نے جوہری ہتھیار رکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔ مجھے ان کے دعوؤں پر شک تھا، لیکن ایمن الظواہری نے کہا کہ ”اگر آپ کے پاس 30 ملین ڈالر ہیں تو کوئی بھی روسی بلیک مارکیٹ سے جوہری ہتھیار خرید سکتا ہے۔“ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے جنون نے ایمن الظواہری کو القاعدہ کے لیے بہت اہم بنا دیا۔
اس زمانے میں ایمن الظواہری کو افغانستان میں چھپے ہوئے مختلف عسکریت پسند گروپوں میں باپ کے طور پر احترام دیا جاتا تھا۔ طالبان نے انہیں وہاں رہنے کی اجازت دے کر غلطی کی۔ حتمی تجزیے میں، کابل میں ان کی موجودگی ثابت ہونے سے افغانستان کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ جو ممالک طالبان کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں اور القاعدہ کو الگ تھلگ کے لیے سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، ان کے لئے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker