ادبشاہین شہزادیلکھاری

حارث خلیق کی نظم”کاناباتی کر“ کا تجزیہ ۔۔ شاہین شہزادی

”کاناباتی کر“ اس نظم کے پیچھے ایک عظیم ماضی جھانکتا نظر آتا ہے لفظ بھی کیا جادو ہے؟ایک ذ را سی آواز کتنے ماضی کھولتی چلی جاتی ہے ۔اس بات کا احساس حارث خلیق کے ہر مصرعے میں نظر آتا ہے اس نظم کے پس منظر میں اردو نظم کی ایک پوری تاریخ ہے اس نظم میں افسانوی حقیقت دکھائی دیتی ہے یہ نظم افسانے اور حقیقت کا وصال ہے اس نظم میں بہت سے رنگ ہیں اور اس کا ابلاغ کئی سطحوں پر ہوتا ہے ۔
نظم “کانا باتی کر ” کی بے شمار تہیں ہیں جو کہ منزل در منزل زینہ بہ زینہ نظم ہے اس میں طرح طرح کے کردار کچھ بالکل گھریلو،سزاوار،بی بی،اماں،تائی جی،چھوٹا ببلو،محلے کی عورتیں ہیں اور کچھ کردار چہار دیواریوں سے بہت دور والے ،راجا،مہاراجا،سیاسی ریاستوں کے مالک۔ایک طرف رات کو کہانیاں سنائی جا رہی ہیں ،خوشبو دار سالن پکایا جارہا ہے تایا جی ڈانٹ رہے ہیں اور دوسری طرف دربار اور ریاست کی سازشیں ہیں ،لگان اور آبیانے وصول کیے جارہے ہیں ،بغاوتیں کچلی جا رہی ہیں سپاہی کے دلوں میں خوف بو رہے ہیں گلیوں اور محلوں میں راجا کے مخبر گشت کر رہے ہیں یہ دونوں دنیائیں کتنی مختلف اور جدا ہیں مگر ان دونوں کو حارث خلیق نے ایک دوسرے میں الجھا دیا ہے اور یوں اس نظم میں گوناگوں معنی پیدا ہوگئے ہیں ۔
“جس طرح خلائے بسیط کا کوئی مرکز نہیں ہوتا اور اس کا کوئی رخ ،کوئی جہت ،کوئی سمت متعین نہیں ہوتی اور وہ ہر حد سے آگے اور ہر جانب بس پھیلا ہوتا ہے کچھ اس طرح “کاناباتی کر”کا بھی کوئی مقرر مرکز نہیں”۔ اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ اس نظم کا سفر کس طرف ہے ،گھر کی طرف یا گھر کے باہر ،یہ نظم سزاوار بی بی کے بارے میں ہے یا راجا کے بدنیت سپاہیوں کے بارے میں؟یہ کہانی ہر روز کی ہے یا راجا رانیوں والی؟
اس کے پیچھے کوئی سیاسی یا سماجی جذبہ کارفرما ہے یا عام گھریلو زندگی کے بھرپور رچاؤ نے شاعر کا دامن تھام لیا ہے ؟بس یہی ابہام ،معنی کی یہی تکثیر،کرداروں کا یہی ہجوم ایک دنیا سے دوسری دنیا کا سفر ،ادھر کی بات کا رشتہ ادھر کی بات سے ،بس یہی نظارے اس کو بھرپور بنادیتے ہیں اور یہی کثرت نظارہ بڑی شاعری کی جان ہے رات کا وقت تھا گھر کے دروازے بند تھے اور بڑی بی بچوں کو کہانی سنا رہی تھی یہ باہر کے ظالم سپاہی گھر میں کیسے داخل ہو گئے ۔
دو حصوں پر مشتمل یہ قدرے طویل نظم،سزاوار نامی عورت کی کہانی بیان کرتی ہے جو شہر میں اپنی بڑی بہن کے گھر نوکرانی ہے ۔
ناصر عباس نیر لکھتے ہیں:
“اس نظم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کہانی در کہانی کی تکنیک انوکھے طریقے سے استعمال ہوئی ہے ایک قدیم تخیلی کہانی کے بطن سے نئی حقیقی کہانی جنم لیتی ہے نظم میں جادوئی حقیقت نگاری کی یہ تکنیک نئی نو آبادیاتی دنیا کی اصل کے کچھ اسرار سے پردہ ہٹاتی ہے استعماری مقتدرہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کے اقتدار کو فطری اور ناگریز سمجھا جائے ؟اس کی حکمرانی عوامی خواہش کا نتیجہ محسوس ہو”۔
افسانویت اور واقعیت کا فرق مٹ جاتا ہے کہانی میں جو بات ممکن محسوس ہوتی ہے وہ حقیقت میں رونما ہو جاتی ہے سزاوار گھر کے بچوں کو ایک راجا کی قدیم کہانی سناتی ہے جس کو رعایا نے خود اپنا راجا بنایا جوں ہی وہ کہانی ،سپاہی کی راجے کے خلاف سازش کے واقعے پر ختم کرنے لگتی ہے ،قدیمی کہانی سے سپاہی نکل کراسے جیل لے جاتا ہے جادوئی حقیقت نگاری سزاوار کا قصور یہ تھا کہ وہ رعایا کے بچوں کو بتا رہی تھی کہ زمانہ تبدیل نہیں ۔راجا،سپاہی ،اور رعایا کی وہی عادت برقرار ہے ،نوآبادیاتی نظام جاری ہے اس کا قصور یہ بھی تھا کہ وہ بچوں کو سرکشی پہ اکسا رہی تھی لہذا کوئی کہانی چاہے کتنی ہی پرانی،تخیلی ہو،معصوم نہیں ہوتی۔سزاوار لاکھ کہتی ہے کہ بس اس نے گزرے دنوں کی ایک کہانی سنائی مگر منصف جو اس کو گندی نظروں سے دیکھے جا رہا تھا اپنے ہر کارہ خاص کے ذریعے کوئی بات کہتا ہے جس کہ بعد زمین پھٹ جاتی ہے اور سزاوار اس میں سما جاتی ہے نظم کا متکلم ان مصرعوں پر نظم ختم کرتا ہے ۔
“خدا حشر میں ہو مددگار میرا ”
سزاوار کی یہ کہانی جو میں نے سنائی
ان مصرعوں میں خاموش طنز ہے انسب مقتدر قوتوں پر جنہیں نظم میں راجا ،سپاہی ،سپاہی کا مخبر،اہل کار،وکیل،منصف،بیوپاری کہاگیا ہے جو سب اپنی اپنی دھرتی کی کہانی کہنے والوں کے خلاف ایک ہو جاتی ہیں سزاوار کو تایا جی نے بتایا تھا کہ راجے کے بعد سپاہی کی باری آئی اور پھر عوامی جمہوریت کی باری آئے گی لیکن سزاوار کے اس سچ کا کیا نتیجہ ہوا نظم میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ چوبی کٹہرے ہی میں نہیں ،چوبی فرش پر بھی کھڑی تھی جسے اس کے پاؤں سے کھینچ لیا گیا۔سرسری سماعت کے بعد اس طرح کا سریع انصاف کس مقامی استعمار کی خصوصیت ہے نظم “کاناباتی کر “جس میں نئی نو آبادیاتی دنیا کی “اصل” کو دکھایا گیا ہے
برس ہا برس ہے پرانی
کسی ایک راجا کی جس کو
رعایا نے خود اپنا راجا بنایا
ہمیشہ تو راجا ہی سینا بنا کے
کبھی ایک دیس اور کبھی دوسرے کو
فتح کرتے آئے
رعایا کو چنتے رہے۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker