حسن مجتبیٰکالملکھاری

حسن مجتبیٰ کا کالم:نورالہدیٰ شاہ سندھ ہے

یہ 1976 کی یہی رت یہی زمانہ تھا جب میں اور میرا دوست اور روم میٹ منظور عباسی اس نوجوان سندھی خاتون کی تحریر و تصاویر سے قتیل ہوئے تھے، جو حیدرآباد سے نثار حسینی اور اس کی ٹیم کی طرف سے شائع ہونے والے جریدے “؛نئون نیاپو” (نیا پیغام) میں چھپی تھیں۔ اتنی جرات مند کہانیاں اور انٹرویو! کون ہیں یہ، خاتون؟ کسی نے کہا کہ یہ لاہور اور جدہ میں پلی بڑھی ہیں لیکن ان کا تعلق ٹکھڑ کی سرزمین سے ہے۔ حیدرآباد کے قریب اس تاریخی گائوں ٹکھڑ کو میں سندھ کا سنی امروہہ کہتا ہوں جہاں ایک سے ایک بڑا شاعر اور ادیب پیدا ہوا ہے۔ انیسویں صدی کے حافظ حیات شاہ سے لیکر اکیسویں صدی میں امداد حسینی تک لیکن سب مرد حضرات۔
جھنگ والے ایسی بستی کو رجوعہ سادات کہیں گے۔ سادات کی ایسی سرزمین سے ایک باغی لڑکی جہاں جب کن وقتوں بیبیاں گائوں سے باہر جاتیں تو کاروں جیپوں کے شیشوں کو چادروں کے پردوں یا پھر ملتانی مٹی سے کور کیا جاتا کہ جیسے جنگ میں بلیک آئوٹ ہوتا ہے۔ وہاں سے ایک خاتون اس سماج پر پے در پے وار کر رہی ہے۔ حرامی بچوں کو چھاتی سے لگانے کی بات اپنے افسانوں اور تقریروں میں کرتی ہے۔ منیر احمد مانک کے ”حویلی جا راز” اور خیر النِسا جعفری کے “حویلی سے ہاسٹل تک” کے بعد یہ پہلی سندھی ادیبہ تھی جو فرسودہ رسموں اور غیرت کے نام پر بے غیرتی کی مردانہ لنکا ڈھانے نکلی تھی۔ سیتا تھی نہ رام۔ لیکن وقت کے راون کو للکار رہی تھی۔
بھٹو کا دھڑن تختہ ہوا اور ضیا کا دجالی دور شروع ہوا۔ بھٹو کی پھانسی کے بلیک وارنٹ پر دستخط کرنے والا محمود اے ہارون سندھ مدرسہ کراچی میں سید غلام مصطفی شاہ کی طرف سے منعقد کروانے والی سندھی ساہت کانفرنس میں مہمان خصوصی تھا جب اس خاتون نے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہتے ہوئے اپنا جرات آمیز مقالہ پڑھا تھا۔ زبانیں گنگ تھیں۔ سب ششدر تھے اور ماحول پر سکتہ طاری تھا۔ جو جو اس کانفرنس میں شریک تھے اور یہ مقالہ سنا تھا، انہیں یاد ہوگا۔
“زینب کی خطابت کا صدقہ شبیر سے مانگ کر لائی ہوں” ایسے دور یزیدی میں جوہر میر نے اپنی نظم “اسلام آباد کے کوفے سے” میں کہا تھا۔
اس خاتون نے جسے ہم سندھی غیر امتی اور امتی ادی نور کہتے ہیں “کربلا “ اور جلاوطن “اور “چنڈ آئین قیدیانی جون اکھیوں “ جیسی کہانیاں لکھیں۔ جلاوطن جس کا مرکزی کردار گوتم سامتانی سندھ کا جم پل ایک بھارتی پائلٹ ہے اور پاکستان بھارت جنگ میں وہ اپنے جنم شہر حیدرآباد شہر پر بمباری کرنے کے کے احکامات لیے آتا ہے لیکن وہ اپنے جنم شہر کی گلیاں، مقامات اور مزاریں دیکھ کر گم سم ہو جاتا ہے بمباری کے بجائے وہ چھاتہ یا پیراشواٹ لے کر کود جاتا ہے یا ابھیچندن کی طرح اتار لیا جاتا ہے اور اتارے جانے پر سندھ کی دھرتی کو سجدہ کرتا ہے۔ یا اس کی وہ کہانی جس میں بلوچستان میں تعینات فوجی افسر جب اپنی محبوبہ یا منگیتر کے لئے وہاں سے بلوچی کڑھائی و شیشے کے کام والا کرتہ یا گج تحفہ لیکر چھٹی پر اپنے گھر پنجاب جاتا ہے۔ اور بلوچوں کے خلاف اپنی خونریز کاروائیوں کی کہانیاں جب منگیتر کو سناتا ہے تو منگیتر وہ تحفہ اسے واپس مار کر کہتی ہے کہ “اس کرتے کے شیشوں میں مجھے ان بلوچوں کے چہرے دکھائی دے رہے ہیں جن کو تم لوگوں نے مارا ہے” ۔ ہے کوئی سندھڑی کا لال یا پیارے پاکستان کا آج بھی ایسا سندھی اور اردو ادیب و افسانہ نگار جو اس طرح کی کہانیاں لکھے؟
پھر جب اس نے پی ٹی وی پر اپنی سیریز “جنگل” لکھی تو اس پر آج تک تنقید ہوتی رہتی ہے کہ اس نے سندھیوں کو ڈاکو دکھایا ہے۔ پھر کن سورمائوں نے نورالہدیٰ اور عبدالقادر جونیجو کے خلاف یہ فتویٰ بازی اور مہم شروع کی کہ یہ سندھی ادیب اردو میں کیوں لکھ رہے ہیں ( حالانک اب کتنے سندھی سورما اور لیپ ٹاپ گوریلے و دانشور خود اردو میں لکھتے اور تقریریں کرتے ہیں کہ ان کی بات بہت سے لوگوں تک پہنچے)۔ نورالہدی نے پھر “میرا انتظار کر” جیسا ٹیلی ڈرامہ بھی لکھا جو شہر کے اردو بولنے والے محنت کش طبقات کی کہانی ہے۔ شاید پکا قلعے میں رہنے والوں کی۔ میں کہتا ہوں مہاجر کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے تمہیں مہاجر گھر میں جنم لینا پڑے گا۔ خیر۔ یہ اک اور بادشاہی کا قصہ ہے۔
ابھی کچھ روز پہلے امر جلیل ملاؤں اور ٹرے مرغوں کے گھیرے میں تھے (شاید اب بھی ہیں) اور اب نورالہدیٰ شاہ کلین شیو ملاؤں اور ٹرے مرغوں کے گھیرے میں ہیں۔ “سہولت کار ہے وطن دشمنوں کی، غدار سندھ ہے غیر محب الوطن ہے۔” کیونکہ انہوں نے بحریہ ٹائون میں تھوڑ پھوڑ کرنے والوں کو “لوفر“ کہا ہے۔ مذمت کی ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ بحریہ ٹائون میں رہنے والوں نے پائی پائی جوڑ کر اپنی جمع پونجی خرچ کر اپنے گھر بنائے تھے اور چھوٹی چھوٹی گاڑیاں لی تھیں۔ یہ ان کا ایک نقطہ نظر ہے۔ اختلافی رائے ہے۔
میرا بھی دل ان سندھی اور بلوچ گاؤں اور گوٹھانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے جن کی ہزاروں ایکڑ آبائی زمین پر ملک ریاض اور اس کی بحریہ نے سندھ میں زرداری کی اومنی کمپنی حکومت کی مدد اور ساجھے داری سے ہتھیائی ہوئی ہے۔ ان پر حالیہ پرامن احتجاج کرنے والوں پر ہزاروں ایف آئی آرز کاٹی گئی ہیں۔ یہ فسطائیت وہ حکومت کر رہی ہے جس کی پارٹی کے لوگوں نے بینظیر کے قتل پر سندھ یونیورسٹی کی سینٹرل لائیبریری سمیت پورا سندھ شعلہ شعلہ کردیا تھا۔ کئی بے گناہ اور پر امن لوگوں پر تب بھی ہزاروں ایف آئی آرز کاٹی گئی تھیں۔ “پاکستان نہ کھپے” کا نعرہ زد زبان عام تھا جب تک زرداری نے آ کر نہ کہا “پاکستان کھپے” دوسری معنی میں پاکستان فروخت کر دو۔
بلکہ میں تو سمجھتا ہوں بحریہ ٹائون ہو کہ ڈی ایچ اے یا کمانڈر سٹی یہ سندھ یا پاکستان میں ایک طرح کی بقول شخصے “کالونیل سیٹلرز انٹرپرائز” ہیں۔ لیکن یار بحریہ کی طرح ڈی ایچ اے اور کمانڈر سٹی نے بھی اسی طرح انہی بلوچ سندھی گوٹھانوں کی زمینیں ہتھیائ ہیں۔ اسی راؤانوار اور دیگر یکے بعد سندھی پنجابی پٹھان ایس ایس پیز اور تھانیداروں کے ذریعے یہان تک کہ لوگوں کو جعلی مقابلوں میں ملیر ضلع میں قتل کروا کر۔
مگر میں یہ ہرگز نہیں مانتا کہ نورالہدی شاہ میرے اور آپ کے نقطہ نظر کو نہ ماننے یا اختلاف کرنے سے غدار وطن ہو گئی۔ اور یہ کون سی فیکٹری ہے جہاں غداری یا محب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ چھپتے ہیں۔ ٹھپے بنتے ہیں؟ آپ ارباب رحیم کو تھر میں بادلوں کی چھایا کہہ کر بھی عظیم محب سندھ ہیں۔ عرفان اللہ مروت اور جنرل حمید گل کے ساتھ گوڈا گوڈے سے رلا کر بیٹھنے پر بھی آپ کے نکاح اور سندھیت سلامت ہیں۔ میں تو اس رائے کا بھی احترام کرتا ہوں کہ ایم آر ڈی جو سندھ کے لوگوں کا پاپولر اُبھار تھا اسے سید اعظم نے چور ڈاکوئوں کی تحریک کہا یا شاہنواز بھٹو کو لوفر چھورا یا ضیا الحق کو شریف النفس انسان کہا تھا یہ سید اعظم کا اپنا موقف تھا۔ سندھیوں کی پاپولر رائے سے ہٹ کر اختلافی رائے تھی۔ اس سے کوئی سندھ وطن کے غدار یا غیر محب نہیں بن گئے۔ وہ ایک عظیم محب سندھ انسان تھے۔ بلکہ سندھ کے عظیم عاشق تھے۔
نوالہدیٰ اور امر جلیل سے بہت پہلے ایسی “باہوڑ” شیخ ایاز کے خلاف بھی کی گئی تھی جس سے سندھ یونیورسٹی کی دیواریں کالی کردی گئی تھیں۔ سندھ کے “قومی شاعر” کی ان کی حیثیت ختم کر دی گئی تھی بلکہ اپنے جلسوں میں ان کی شاعری اور نظموں پر پابندی لگا دی گئی۔ بعد میں پھر شیخ ایاز کی نظم پر بھی قبضہ کر کے اسے سندھو دیش کا ترانہ بنا دیا گیا۔ اس ںظم کی “و” اور “ش” کر دی گئی۔ سندھ دیس سے سندھو دیش۔ چلو سندھ کا ہزاروں سالہ قدیم پراچین نام ایک سندھو دیشا بھی تو تھا نہ۔ مجھے کیا اعتراض۔ نہ شیخ ایاز غدار تھا، نہ امر جلیل نہ نورالہدیٰ شاہ۔ بلکہ یہ شاعر اور لکھاری لوگ تو اصل میں سارتر فرانس ہے کی طرح خود سندھ ہوتے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker