حسن نثارکالملکھاری

سیاست اور ’’سلیقہ‘‘۔۔حسن نثار

ن لیگیوں کی مت ماری گئی ہے جو بغیر سوچے سمجھے عمران خان کو ناتجربہ کاری کے طعنے دیتے ہوئے اپنی تجربہ کاری کے ڈھول پیٹ رہے ہیں حالانکہ وہ کب کا ان کے جبڑوں اور پنجوں سے تین بار کا تجربہ مع وزارت عظمیٰ چھین چکا اور اب سوائے ’’نیب‘‘کے ’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘‘ لیکن پھرتے لندن کی سڑکوں پر ہیں کہ اصل تجربہ ’’فرار ‘‘ کا تھا اور وہ کام آ گیا۔
رہی سہی کسر عمران خان نے یہ ’’بلف‘‘ کال کرکے پوری کر دی ہے کہ ’’اپوزیشن استعفیٰ دے تو ضمنی الیکشن کرادوں گا۔ ن اور پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں ‘‘بگڑے بچے ہیں کہ کھاتے ہیں اور غزاتے بھی ہیں اور جو گود میں اٹھائے اس کی گود گیلی کر دیتے ہیں۔دلچسپ ترین بات یہ جس کی طرف اہل دانش کا دھیان نہیں جا رہا کہ عمران بارے مشہور تھا اور ہے کہ اکھڑ مزاج ہے، کسی کی سنتا نہیں لیکن یہی ناتجربہ کار اکھڑ تو کہیں زیادہ متوازن اور عملیت پسند ثابت ہوا جو ثابت قدمی سے قدم بہ قدم آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور اسٹیبلشمنٹ پوری طرح اس کا ساتھ دے رہی ہے جبکہ جو سو فیصد اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار اور ان کے پنگھوڑے میں پروان چڑھا، تیسری بار خود اپنے پیروں پر کلہاڑا مارنے کے بعد بھی سیکھنے سے عاری ہے ۔’’چور نالے چتر‘‘ والا محاورہ یاد آتا ہے۔ بنانا مال اور بننا نیلسن منڈیلا تو میاں یہ تو قدرت کے بھی وارے میں نہیں۔ عمران خان کا سب سے بڑا ’’پلس‘‘ یہ ہے کہ بے ایمان نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس لیول پر دوستوں دشمنوں سب کو پورا پورا علم ہوتا ہے کہ کہاں کہاں کیسی کیسی ’’وارداتیں‘‘ ہو رہی ہیں۔ایسے میں ’’نخرے‘‘ برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا ۔خود پھلتے پھولتے پھیلتے چلے گئے، ملک بیچارہ سمٹتا سکڑتا چلا گیا تو ایسے میں جس کسی کے پاس بھی پوری معلومات ہوں گی وہ کب تک برداشت کرے گا کہ معاملہ ملکی سالمیت کے سوال تک جا پہنچتا ہے ۔
میرے تو ایمان کا حصہ ہے اور کئی بار کہہ بھی چکا ہوں کہ پاکستان اک ایسا ملک ہے جہاں نالائق ترین حکمران بھی ہوں تو ملک چلتا رہےگا بشرطیکہ حکمران صرف نااہل ہوں، بددیانت نہ ہوں لیکن یہاں تو دونوں نہیں ہزاروں ہاتھوں سے اسے مسلسل لوٹا جاتا رہا ورنہ یہاں تو کوئی کچھ بھی نہ کرے، یہ ملک VIABLEہے، روکھی سوکھی سے کبھی محروم نہیں ہو سکتا لیکن کچھ جونکیں تھیں جنہوں نے نان سٹاپ لہونوشی جاری رکھی ۔جونکوں کے بارے مشہور ہے کہ جونک اپنے پیٹ کا سائز دیکھے بغیر خون پیئے چلی جاتی ہے اور تب تک پیئے چلی جاتی ہے جب تک اس کا پیٹ ہی پھٹ نہیں جاتا سو پیٹ پھٹ گئے۔اگر اس طرح کے لوگ موجود نہ ہوں تو ایسے محاورے کبھی وجود میں نہ آئیں کہ اس دنیا میں ہر شخص کی NEEDکے لئے سب کچھ وافر موجود ہے لیکن اس دنیا کے تمام تر وسائل ایک لالچی کی GREEDکیلئے بھی ناکافی ہیں اور یہ سوفیصد درست ہے کیونکہ لالچی جب ایک ’’انکم بریکٹ‘‘ کی انتہا پر پہنچتا ہے تو خود کو اس سے ’’اگلی انکم بریکٹ‘‘ کے قدموں پر پاتا ہے اور پھر بے چین و بے قرار ہو کر اس ’’اگلی انکم بریکٹ‘‘ کا بیریئر توڑنے کی وحشت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔علی ہذالقیاس اور یہ چکر شیطانی آنت کی طرح لمبا ہو جاتا ہے۔
بہت کم لوگوں کو اچھے قلم کار کی طرح ’’فل سٹاپ‘‘ لگانے کا وجدان نصیب ہوتا ہے کہ بس بھئی بہت ہو چکا اب ریلیکس اور انجوائے کرو اور بھریا میلہ چھوڑ کر اللہ اللہ کرو۔شاید اسی کو قناعت کہتے ہیں جو کم کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ورنہ اچھے خاصے لوگ زندگی بھر بھاگتے بھاگتے ،ہانپتے کانپتے کسی کھڈے میں جا گرتے ہیں، اوپر منوں مٹی آگرتی ہے اور اس حادثہ کو ’’قبر‘‘ کہتے ہیں۔ یا تو اتنا ہو کہ بندہ جوانی کےساتھ ’’عمرخضر‘‘ خریدسکے ورنہ
رہنے دو، چھوڑو بھی جانے دو یار
ہم ناں کریں گے پیار
شاید نثار ناسک مرحوم نے کہا تھا
دل میں اب تک جل رہی ہیں آرزو کی دو لوئیں
ایک وہ پیاری سی لڑکی ایک وہ چھوٹا سا گھر
لیکن کیا کریں …..زندگی تو ہر زندہ کو ملتی ہے لیکن زندگی گزارنے کا سلیقہ بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ’’سلیقہ‘‘ اونٹ پر بنائے گئے انتہائی نفیس، پیچیدہ، دلکش نقش ونگار کو کہتے ہیں۔ہماری سیاست سلیقہ سے محروم ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker