حسن نثارکالملکھاری

روٹی کے گرد بھوک کا رقص۔۔حسن نثار

جلسہ بازیوں نے بری طرح بیزار اور بور کر دیا ہے۔ بچپن سے یہی تماشے اور تماش بین دیکھ رہا ہوں۔ نہ کل سکون تھا نہ آج اور نہ آنے والے دنوں میں کوئی امکان دکھائی دیتا ہے بلکہ بد سے بدتر ہو تو حیرت نہیں ہو گی۔ جو لوگ آج ادھم مچا رہے ہیں، ماضی میں یہی کار خیر ان کے بڑے سرانجام دیا کرتے تھے۔ برسوں پہلے بچے تھے جب ایوب خان اور چینی مہنگی ہونے پر ’’ہائے ہائے‘‘ ہوتے دیکھی۔ وہ دن جائے آج کا آئے وہی دال روٹی، گھی چینی، ٹماٹر ٹینڈوں کا ماتم جاری ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نسل در نسل ہم لوگ پیدا ہی اس لئے ہوتے ہیں کہ روٹی کا طواف کرتے کرتے قبروں میں اتر جائیں۔ عشروں پہلے بھی آٹا اور شرم کا گھاٹا پہلو بہ پہلو تھے۔ عوامی انقلابی شاعر نے لکھا’’بیس روپے من آٹااس پر بھی ہے سناٹاصدر ایوب زندہ باد‘‘اور آج آٹا کس بھائو ہے؟اور کرو جلسے جلوس، یہ اور مہنگا ہو گا…..اور جلسہ، اک اور جلوس، اک اور اتحاد، کوئی نیا فساد کہ ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق لیکن نہ عوام نے کچھ سیکھا نہ ان کے راہنمائوں نے جن کی راہنمائی ہمیں یہاں تک لے آئی۔ دونوں ہی نہلے پہ دہلے ہیں کہ ہر بار ایک جیسی حرکت کر کے سمجھتے ہیں کہ اس بار نتیجہ مختلف ہو گاتقریباً پچاس پچپن سال پہلے اک پنجابی فلم ریلیز ہوئی جس کا نام ہی ’’روٹی‘‘ تھا۔ اکمل نامی اداکار اس فلم کا ہیرو تھا جس کے اس گیت نے دھوم مچا دی اور مدتوں زبان زد عام رہا۔روٹی دا سوال اے جواب جدا روٹی اےوڈے وڈے لوکاں لئی ایہہ گل بڑی چھوٹی اےاگر ممکن ہو تو یہ فلم ’’شرطیہ نئے پرنٹ‘‘ کے ساتھ دوبارہ ریلیز کر دی جائے تاکہ نئی نسل بھی جان سکے کہ ان کی اس کرہ ارض پر تشریف آوری کا اصل مقصد کیا ہے۔’’دو وقت کی روٹی‘‘۔
پچھلے دنوں وزیراعظم نے حیران ہو کر کہا تھا ’’ہم سائنس دان کیوں نہیں پیدا کر سکتے‘‘۔ میں اس بیان پر ابھی تک ہنس رہا ہوں کہ جن کی زندگیوں کا اول و آخر، ظاہر و باطن ہی دو وقت کی روٹی قرار پائے وہاں تخلیق اور تعمیر کا کیا کام؟صدیوں کی بھوک ہے جو دور دور تک ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ گواہی چاہئے تو اپنے ان محاوروں پر ہی غور کر لیں۔جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانےپیٹ پڑا چارہ۔ کودنے لگا بیچارہروٹی کی پٹ پٹ تو بہرے بھی سن لیتے ہیں۔جہاں پہ دیکھو توا پرات وہاں پہ ناچو ساری رات چپڑی ہوئی اور دو دومنہ کھائے تو آنکھ شرمائےکوٹھی اناج کوتوالی راجاَن اور رَن کا کیا نام رکھنانیت کھوٹی۔ رزق نہ روٹی پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجاسستا گیہوں گھر گھر پوجاجب تک رکابی بھات۔ میرا تیرا ساتھ بھجن، بھوجن اکانت بھلاپوری سے پوری پڑے تو سب نہ پوری کھائیں پڑی فجر چولہے پہ نظرمل گئی تو روزی نہ ملی تو روزہ جس کے ہاتھ ڈوئی۔ اس کا ہے ہر کوئی جس کی تیغ اس کی دیگ دیگ ہوئی دم۔ حاضر ہوئے ہم ہاتھ میں لانا پات میں کھاناساس گئی گاؤں۔ بہو کہے کیا کیا کھاؤں بھوک بھات، دال روٹی میں ڈوبے ہوئے ان چند محاوروں سے ہی اندازہ لگا لیں کہ ’’بھوک‘‘ ڈی این اے میں ہی نہیں، صدیوں سے مقدر میں بھی جلی حروف سے خوشنما ہینڈ رائیٹنگ میں لکھی ہے اور مجھے یقین ہے کہ دنیا کی کسی اور زبان میں بھوک اور روٹی کے گرد رقص کرتے اتنے محاورے نہیں ہوں گے جتنے ہماری زبان کا زیور ہیں۔شادی بیاہوں پر ’’روٹی کھل گئی‘‘ کا نعرہ سنتے ہی جس طرح شرفا اور معززین ’’کھلتے‘‘ ہیں، قابل دید منظر ہوتا ہے۔ تو جہاں صدیوں سے زندگی بنیادی ترین ضرورتوں کے گرد ناچ رہی ہو، ’’روٹی کپڑا مکان‘‘ کے نعرے نے بڑے بڑے برج الٹا دیئے ہوں، وہاں ایک خوبصورت معاشرے کی بنیاد کون رکھے گا؟ کیسے رکھے گا؟تہتر برس بعد بھی جہاں بھوک، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسئلے نہ صرف موجود ہوں بلکہ ان میں تیزی سے اضافہ بھی ہو رہا ہو….. وہاں خواب فروشی کے علاوہ کون سا دھندا چل سکتا ہے؟ اپوزیشن یہی کچھ کر رہی ہےاور حکومت بھی بھوک بازار کھلا ہے۔ نانبائی کی دکان بند ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker