حسن نثارکالملکھاری

طارق عزیز کی تلاش۔۔حسن نثار

میں اپنی لائبریری میں کسی اور کتاب کی تلاش میں تھا کہ اچانک اقبال مہدی کے سرورق میں سجی لپٹی ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ نکل آئی اور میں تلاش کو طاق میں رکھ کر طارق عزیز مرحوم کی پنجابی شاعری کے سحر میں گم ہوگیا۔ آپ نے 19فروری 1999ء یہ مجموعہ مجھے عطا کرتے ہوئے لکھا تھا …..’’حسن نثار کیلئے ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ جو جانتا ہے کہ کیا ہوتا ہے ‘‘دعا گو طارق عزیز‘‘طارق عزیز کے رخصت ہونے پر بہت کچھ لکھا، کہا گیا جو بہت خوب اور خوبصورت تھا لیکن ’’ہمزادکا دکھ ‘‘ دوبارہ پڑھنے کے بعد میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ کیا واقعی ہم اصل طارق عزیز کو جانتے ہیں یا اس شخص کو ازسرنو دریافت کرنے کی ضرورت ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اپنی تاریخی قسم کی ٹیلی پرفارمینس کے پیچھے ہی چھپا رہ گیا ہو ؟انتساب پر غور فرمائیے’’ڈاھڈیا وے !میں تیرے ناںکیتی ایہہ کتاببلوچا وے !میں تیرے نالکیتا انج حساب‘‘کتاب کا دیباچہ بانو قدسیہ مرحومہ نےلکھا ہے اور میں یہ لکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خوبصورت لوگ کیوں مرجاتے ہیں اور اگر مرنا اتنا ہی ضروری تھا تو ایسے لوگ ہزار ہزار سال تو جیتے ۔اپنے اس بےتکے خیال پر اک شعر یاد آیا جو شاید جون ایلیا کا ہے۔کتنی دل کش ہو تم کتنا دل جُو ہوں میں کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گےلیکن شاید ہم ہی دھوکہ کھا جاتے ہیں ورنہ یہ لوگ تو اپنے اپنے کاموں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔بلھے شاہ اساں مرنا نا ہیں گور پیا کوئی ہورطارق عزیز اپنی نظم ’’یوٹوپیا‘‘ میں لکھتے ہیں’’جی چاہندا اے موت توں پہلاں ایسا نگر میں دیکھاںجس دے باسی اک دوجے نالذرا نہ نفرت کر دے ہونجس دے حاکم زر دے پچھےسپاں وانگ نہ لڑ دے ہونجتھے لوکی مرن توں پہلاںروز روز نہ مردے ہون‘‘افسوس طارق عزیز کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ دور دور تک ایسا ہوتا دکھائی بھی نہیں دے رہا ۔طارق’’رب کریم‘‘ سے دعا کرتے ہیں’’ایسے اسم سکھا دے سانوںہرے بھرے ہو جائیےگہرے علم عطا کر سانوںبہت کھرے ہو جائیے‘‘’’سچا شرک‘‘ کے عنوان سے اک اور مختصر نظم’’دور پرے اسمان تےرب سچے دا ناںہیٹھاں ایس جہان وچبس اک ماں ای ماں‘‘اک نظم کا عنوان ہے’’مرن والے دا زندہ شعور‘‘اور چار مصرعوں پر مشتمل نظم کچھ یوں ہے’’میرے لئی تے زہرسیپھلاں دی خشبومیرے لئی نہ د وستاتوں ایڈا اچارو‘‘’’اک حقیقی گل‘‘کے عنوان سے آدم زادوں کو صرف دو قبیلوں میں تقسیم کرتی ہوئی یہ نظم بھی کیا نظم ہے۔’’مُڈھ قدیم توں دنیا اندردو قبیلے آئے نیںاک جنہاں نے زہر نیں پیتےاک جنہاں نے پیائے نیں‘‘اور اب آخر پہ ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ کے عنوان والی یہ نظم پچھلی راتیں تیز ہواسارے شہر وچ پھر دی رہیزہری قہردا کوئی وظیفہ چاروں پاسے کر دی رہی میں تے بوہا بند ای رکھیااپنے پورے زور نالپتہ نئیں کیہ بیتی ہووے
میرے جی ہے کسے ہور نالاصلی طارق عزیز کی تلاش جاری رکھنا کچھ خاص قسم کے لوگوں کی ذمہ داری ہے جن میں پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن سرفہرست ہیں کیونکہ طارق عزیز کے بچپن کے قریبی دوست ہی نہیں، عملی زندگی کی ابتدائی جدوجہد کے ناقابل فراموش دنوں کے ساتھی اور ہم راز ہی نہیں ہمزاد بھی ہیں۔ایسا نہ ہو کہ طارق صاحب کا زیادہ ’’گلیمرس‘‘ کا م ان کے اصلی کام، تخلیقی کام کیلئے پردہ بنا رہے کہ وہ دیکھتی آنکھوں سے آگے کا چہرہ اور سنتے کانوں سے آگے کا کام اور کلام تھا۔آسماںاس کی لحد پر شبنم افشانی کرے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker