تجزیےلکھاری

“اعلی تعلیم کے فروغ میں انٹر یونیورسٹی کنسورشیم کے آٹھ سال”۔۔ : عامر اسماعیل

جنوری 2012ء میں ”انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم“ کے نام سے جامعات کے کنسورشیم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مشاورتی اجلاس میں وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر مختار احمد کو کنسورشیم پہلا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔اجلاس میں اسوقت کے وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین، وائس چانسلر بہاوالدین زکر یا یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر خواجہ علقمہ،وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہر ی پور ڈاکٹر ناصر علی خان،وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی و دیگر نے شرکت کی۔ کنسورشیم کے بنیادی اغراض و مقاصد میں یہ طے کیا گیا کہ انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم ملک بھر کی جامعات اساتذہ و فکلیٹی ممبران کیلئے تربیتی پروگرامز منعقد کرے گا۔کنسورشیم کی ہر رکن یونیورسٹی سال میں ایک بار قومی یا بین الاقوامی سطح پر سماجی علوم کے فروغ کیلئے کانفرنس منعقد کی جائے گی۔اعلی تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے بین الجامعاتی تحقیقی و تجرباتی پروگرامز کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ کنسورشیم کی ممبر جامعات دیگر مضامین کی طرح کم از کم ایک مضمون سماجی علوم سے متعلق انڈر گریجویٹ ڈگری کا بھی آغاز کریگا۔ نوجوان نسل بالخصوص طلباء و طالبات میں سوک ایجو کیشن و بنیادی انسانی حقوق سے متعلق آگاہی کے پروگرامز شروع کئے جائیں گے۔ان تمام مقاصد کو لیکر اجلاس میں شریک وائس چانسلرز نے اسے اپنی اپنی جامعات میں انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم کے پلیٹ فارم سے مشترکہ کاوشوں کی ابتداء کی جبکہ بین الجامعاتی رابطوں کے لئے اسلام آباد سے معروف سماجی و علمی شخصیت محمد مرتضی نور کو نیشنل اس کنسورشیم کا کوارڈینیٹر نامزد کیا۔ ڈاکٹر مختار احمد کی سربراہی میں قائم جامعاتی اتحا د نے مختصر ہی عرسے میں لا محدود کامیابیو ں کا سفر کیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کرونا کی وبا میں آگاہی کیلئے پہلا پبلک ہیلتھ اور سوک ایجو کیشن آن لائن کورس متعارف کروانے کا اعزاز بھی کنسورشیم کے حصے میں آیا ہے،ا نٹر یونیورسٹی کنسورشیم میں اسوقت درجنوں غیر ملکی جامعات اور پچاس سے زائد ممالک میں ممبر ز موجود ہیں،گلوبل ایکڈیمک لیڈرز اکیڈمی، ساوتھ ایشین ہائیر ایجو کیشن نیٹ ورک، انٹرنیشنل سینٹر برائے ٹریننگ اینڈ ڈیلوپمنٹ بھی کنسورشیم کے اس سفر میں معاونین کے طور پر شامل ہیں۔
اسی طرح ماضی 2014ء میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں مختلف ممالک کے سفراء اور پاکستانی علمی و سیاسی شخصیات کی موجودگی میں کنسورشیم کو سوک ایجو کیشن کے فروغ میں بہترین کردار کرنے پر پہلی کامیابی سوک ایجو کیشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2015ء میں ایک بار پھر گوادر میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز نے گزشتہ جدوجہد کو پرکھنے اور مستقبل کے روڈ میپ کیلئے اجلاس منعقد ہوا اور ایک تفصیلی نشست کے بعد پاکستان میں سماجی علوم کے فروغ کیلئے راہ کا متعین کیا گیا۔ اسی روڈمیپ کے تحت 2016ء میں اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں پہلی انٹر نیشنل سوشل سائبسسز ایکسپو کے منعقد کی گئی۔ سوشل سائنسسز ایکسپو میں مختلف ممالک کی جامعات کے علاو ہ پاکستان بھر کی جامعات نے اپنے سٹالز لگائے جبکہ اساتذہ وائس چانسلرز کے مابین مکالمے کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے مختلف سیشن، اہم موضوعات پر پینل ڈسکشن، بک کارنر، فوڈ کارنر اور مختلف مقابلہ جات کا انعقاد کیا گیا۔ پہلی سوشل سائنسسز ایکسپو میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔اس ایکسپو کی خاص بات یہ تھی کہ اس دوران وہاں موجودہ جامعات کے طلباء نے پاکستان کی سب سے بڑی واٹر پینٹنگ بنا کر نیا اور منفرد ریکارڈ بھی قائم کیا۔اسی سال جب پشاور کے آرمی پبلک سکول میں سفاکانہ حملہ کرکے سو سے زائد بچو ں کو شہید کیا گیا تو کنسورشیم کی جانب سے ہفتہ امن منانے کا اعلان کیا گیا اور ملک بھر کی جامعات میں ان شہید طلباء کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے کانفرنسز اور امن واکس کا انعقاد کیا گیا جبکہ اس طرح کے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے واقعات کے تدارک کیلئے پہلی وائس چانسلرز کانفرنس بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ پنجاب ہائیر ایجو کیشن کمیشن کے اسوقت سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین تھے جن کی انتہائی محنت اور لگن کے بعد پنجاب بھر کی جامعات میں اعلی تعلیم میں ایک نئے دور کا آغا زہوا۔ چنانچہ ڈاکٹر نظام الدین کی سربراہی میں سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجو کیشن ڈاکٹر رؤ ف اعظم کی قیادت میں ورکنگ گروپ برائے فروغ امن و برادشت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ورکنگ گروپ میں وائس چانسلرز، اعلی تعلیمی ماہرین، سینئر صحافی و سول سوسائٹی نمائندگان کو شامل کیا گیا۔اس ورکنگ کے ساتھ ملکر انٹر یونیورسٹی کنسورشیم نے لاہور میں پنجاب بھرکی جامعات کے وائس چانسلرز اور ڈائر یکٹر سٹوڈنٹس افیئرز کی دو روزہ الگ الگ کانفرنسسز منعقد کیں۔کانفرنس کے شرکاء نے تعلیمی امن کیلئے سفارشات مرتب کیں جن میں بنیادی طور پر جامعات کے اندر طلباء کی مثبت سرگرمیوں میں شمولیت پر زور دیا گیا۔ طلباء کے مابین مکالمے اور مباحثے کے کلچر کے آغاز کی سفارش کی گئی تاکہ انتہاپسندی اور عدم طرداشت کے عفریت سے بچا جاسکے۔ وائس چانسلرز اور ڈائر یکٹر سٹوڈنٹس افیئرز کی ان سفارشات پر عمل کرتے ہوئے کنسورشیم نے جامعات اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر ادبی و ثقافتی میلوں اور طلباء کے مابین مباحثے شروع کئے۔ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،یونیورسٹی آف ایجو کیشن لاہور، پنجاب یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں فیسٹولز منعقد ہوئے۔ طلباء کو پرامن ماحول فراہم کرنے اور انکی چھپی صلاحیتوں کو مثبت طرز پر استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن انٹر یو نیورسٹی برائے فرو غ سماجی علوم نے گزشتہ سال اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں منفرد نوعیت کے بین الاقوامی سٹوڈنٹس کنونشن منعقد ہوئے جہاں پاکستانی طلباء کو بین الاقوامی طالبعلموں سے بات چیت کرنے اور انکے تجربات اور مشاہدات سے براہ راست مستفید ہونے کا موقع دیا گیا اس کے ساتھ ساتھ انکے باہمی رابطے کیلئے مختلف سیشنز اور معلوماتی سٹالز بھی لگائے۔ اسکے علاوہ مختلف سطح پر اساتذہ کی تربیتی ورکشاپس اور کانفرنسزز کا سلسلہ گاہے بگاہے جاری ہے۔ اہم مو ضوعات پر مباحثے اور مشاورتی اجلاس بھی منعقد کئے جاتے ہیں جنکی باقاعدہ سربراہی چیئرمین ڈاکٹر ناصر علی خان کررہے ہیں۔ الغرض کامیا بیوں اور کاوشوں کی ایک طویل فہرست میں سے مختصر تعارف پیش کیا گیا جو انٹر یونیورسٹی کنسورشیم نے مختصر سفر میں طے کیا۔ آج جبکہ اس کے قیام کو آٹھ سال مکمل ہوچکے ہیں ایک عزم اور امید کا سلسلہ جاری ہے کہ پاکستان کے مستقبل یعنی نوجوان نسل کو بہترین مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کیا جاسکے جس کو استعمال کرتے ہوئے وہ ملکی ترقی استحکام اور پر امن تعلیمی جامعات کیلئے پاکستان کے سفیر بن سکیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker