اختصارئےحنا شہزادیخیبر پختونخواہلکھاری

تخت بہائی کے معدوم ہوتے آثار ۔۔ حنا شہزادی

تخت بہائی (تخت بائی یا تخت بہائی) پشاور سے تقریباًً
80 کلومیٹر کے فاصلے پر بدھا تہذیب کی باقیات پر مشتمل ایک مقام ہے جوکہ اندازاً ایک صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مردان سے تقریباً 15 پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ سرحد میں واقع ہے۔ اس مقام کو 1980 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔تخت بہائی کے لغوی معنی پہاڑی پر کسی قدرتی چشمے کے ہیں۔ بدھ دور کی ایک تاریخی عبادت گاہ کے دامن میں ایک قدرتی چشمہ، اب بھی موجود ہے جو سارے علاقے کو پانی فراہم کرتا ہے یہ آثار سطح زمین سے 150 میٹر کی بلندی پر واقع ہیں۔ اس کو تخت اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ایک پہاڑی پر واقع ہے اور بہائی اس لئے کہ اس کے ساتھ ہی ایک دریا بہتا تھا۔ تخت بہائی تحصیل مردان کا سب سے زرخیز علاقہ ہے۔ یہاں کئی طرح کی فصلیں اگتی ہیں، جن میں پٹ سن، گندم اور گنا وغیرہ شامل ہیں اس زمین کی زرخیزی کے پیشِ نظر ایشیا کا پہلا شکر خانہ یا شوگرمل برطانوی راج میں یہاں بدھا صومعہ (monastery) کے نزدیک بنائی گئی تھی۔ یہ مقام بدھ مت کی قدیم تہذیب و تمدن، طرزِ رہائش کے بارے میں نہایت مفصل معلومات و شواہد فراہم کرتاہے۔ اس گاؤں کی بنیاد ایک قدیم قصبے کی باقیات پر رکھی گئی تھی، وہ باقیات آج بھی عمدہ حالت میں دیکھنے والوں کے لئے علم و آگاہی کی فراہمی کا ذریعہ ہیں۔ یہاں پائے جانے والے قدیم زمانے کے سکوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں بدھ مت اورہندو نسل کے لوگ آباد تھے۔ یہاں تعمیر کی گئی عمارتیں جو کہ راہبوں کے لئے بنوائی گئی تھیں، ہر لحاظ سے تمام تر ضروریات ِ زندگی سے آراستہ تھیں۔ پہاڑی کے اوپر رہنے والوں کے لئے بھی فراہی آب کا انتظام تھا۔ عمارتوں کی دیواروں میں ہوا کی آمدورفت کے لئے روشندان اور رات میں تیل کے چراغ روشن کرنے کے لئے طاقیں بھی بنائی گئیں تھیں۔ کھدائی کے دوران یہاں جو چیزیں دریافت کی گئی ہیں، ان میں بدھ مت کی عبادت گاہیں، صومعہ، عبادتگاہوں کے کھلے صحن، جلسہ گاہیں، بڑے بڑے ایستادہ مجسمے اورمجسموں کے نقش و نگار سے مزین بلند و بالا دیواریں شامل ہیں۔ پہلی مرتبہ تخت بہائی کی تاریخی حیثیت کی طرف توجہ 1836ء میں فرانسیسی آفیسر جنرل کورٹ نے مبذول کرائی تھی جبکہ تحقیق اور کھدائی کے کام کا آغاز 1852ء میں کیا گیا۔ تخت بہائی میں گوتم بدھ کا مجسمہ لونڈ کھوڑ، شیر گڑھ، چارسدہ، سیری بہلول، تخت بہائی کے اطراف و مضافات میں واقع ہیں۔ سیھری بہلول بھی تاریخی حوالوں سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ تخت بہائی کی حدود میں آتا ہے۔ یہاں بھی بدھا تہذیب کی باقیات ملی ہیں تاہم تحقیق و کھدائی کا کام ہنوز مکمل نہیں کیا جاسکا۔ لفظ سیھری بہلول کی کئی لوگوں نے مختلف انداز میں تعریف کی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہندی لفظ ہے، جس کے معنی ہیں “سر بہلول“ جوکہ علاقے کے ایک سیاسی و مذہبی شخصیت تھے۔ تاہم یہ نام اتنا پرانا نہیں کہ جتنا پرانا یہ گاؤں ہے۔ اطراف کا علاقہ نہایت سرسبز و شاداب ہے، جہاں گاؤں والے اب بھی کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ معاشرتی طور پر یہاں کے لوگ پسماندہ اور غریب ہیں۔ تعلیم کا تناسب بھی نہایت کم ہے۔ مقامی لوگ غیر قانونی طورپر ان تاریخی مقامات پر کھدائی کرتے رہتے ہیں، جس سے ان تاریخی نوادرات کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ کچھ نوادرات کے شوقین اور سوداگر بھی مقامی لوگوں کو غیر قانونی کھدائی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہاں موجود نادر و نایاب تاریخی ورثہ کے تحفظ کے لئے ملکی اور بین الاقوامی توجہ کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ تاکہ تاریخ کی ایک اہم تہذیب کی باقیات کو محفوظ کیا جاسکے
تخت بہائی کے یہ آثار کوئی دو ہزار سال پرانے ہیں جب بدھ مت کے مذہبی رہنما انوشکا نے یہاں قیام کیا تھا۔ تخت بہائی کا یہ مقام بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے کوئی سات سو سال تک اہم مرکز رہا۔ان یاتریوں نے ان آثار قدیمہ کی حفاظت پر حکومت کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان مذہبی بھائی چارہ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔سری لنکن وفد نے صوابی میں ہنڈ کے عجائب گھر کا دورہ بھی کیا۔ یہ عجائب گھر دریائے سندھ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے اور ماہرین کے مطابق اسی مقام سے سکندر اعظم دریائے سندھ عبور کرکے برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ اس عجائب گھر کے سبزہ زار پر یونان کی حکومت نے ایک یادگار بھی تعمیر کی ہے۔
بدھ مذہب کی چھوٹی بڑی عبادت گاہیں، خانقاہوں اور تہہ خانوں پر مشتمل ہیں۔ یہ آثار پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی تک محیط ہیں۔ تخت بہائی، صدیوں تک مٹی کے تودوں کے نیچے دبا رہا یہاں کا علاقہ چاروں طرف پہاڑیوں سے محیط ہے۔ سوات کی طرف جانے والی سڑک کے دور دور تک پہاڑی پتھریلی راہوں اور غیر ہموار پگڈنڈیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو صدیوں سے قائم ہے چونکہ ایک اونچی پہاڑی کو تلاش کریہ عبادت گاہ بنائی گئی اس لیے ابھی بھی اس کے ہر طرف پہاڑوں کا ایک سلسلہ موجود ہے بیچ میں گہری کھائیاں ہیں جو قدیم دور میں اور بھی گہری ہوں گی شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس خاص جگہ بدھ مت کی اتنی شاندار یاد گار موجود ہے۔ صدیاں گزر گئیں حکومتیں آتی اور جاتی رہیں حملہ اور آتے رہے۔ ان ہی راہوں سے لوگ گزرتے رہے لیکن سنگلاخ پہاڑیوں میں واقع یہ وسیع عبادت گاہ عہد رفتہ کی تمام یادیں سمیٹے مٹی کے نیچے مدفن رہی۔ تاریخ کے طالب علم جانتے تھے کہ اس زمین میں پرانی تہذیبوں نے جنم لیا اور شاندار حکومتیں قائم رہیں لیکن یہ شاید کسی کے بس کا روگ نہیں تھا کہ ان پہاڑوں کو کاٹ کر نیچے کچھ تلاش کیا جائے یہ تو بڑا اچھا ہوا کہ چند مزدوروں نے جب مٹی کھود کر اس جگہ گھر بنائے تو انہیں کچھ پرانے سکے پرانی اینٹیں نظر آئیں پھر علاقے میں چھوٹے نالوں میں محکمہ آبپاشی والوں کو بدھا کی مورتیاں کچھ ٹوٹے ہوئے اعضاءاور پرانے دور کی چند اشیاء دستیاب ہوئیں چنانچہ حکومت نے ریسرچ پارٹیاں بنائیں کچھ جگہوں کو کھودا گیا اور چند ہفتوں کے بعد پتہ چلا کہ یہاں دور گم گشتہ کا ایک عظیم عہد مدفن ہے۔ اس مہم کا سہرا برطانوی دور کے ایک قابل ماہر آثار قدیمہ سرجان مارشل کے سر ہے جس نے اس سلسلے میں ٹیکسلا اور موہنجوداڑو میں بہت سی معلومات فراہم کیں اور اپنی پارٹی کے افراد کے ساتھ کام کیا۔1927ءمیں یہاں زیادہ کھدائیاں ہوئیں کہ ایک دور تاریخ کے دبیز مراحل میں گم ہوگیا تھا۔ دنیا کے سامنے پہلے پہل یہاں پہنچنے کے لیے پہاڑی راستوں اور پتھروں سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔ اب حکومت نے عبادت گاہ کے ایک طرف ایک باقاعدہ راستہ بنا دیا ہے جس کے ساتھ لوہے کا مضبوط جنگلا موجود ہے نیچے سے کھڑے ہو کر عبادت گاہ کے کھنڈرات کسی افسانوی داستان کے کردار معلوم ہوتے ہیں۔ چڑھائی پر آہستہ آہستہ جانا پڑتا ہے۔ کھنڈرات کے قریب سیڑھیاں بنا دی گئیں ہیں جو ایک سو کے لگ بھگ ہیں۔ اوپر پہنچ کر سارے علاقے کا نظارہ بڑا محسور کن لگتا ہے۔ آکاش کی وسعتوں کو چھوتے ہوئے یہ تاریخی کھنڈرات الف لیلیٰ کی داستان معلوم ہوتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے گویا صدیاں پلک جھپکتے گزر گئی ہوں۔ اس میلوں میں پھیلی ہوئی عبادت گاہ جو یونیورسٹی بھی تھی اب ایک اجڑا ہوا مقام، کھنڈروں اور بوسیدہ عمارتوں کا مسکن ہے جہاں مذہبی کانفرنسیں منعقد ہوتی تھیں زائرین آتے تھے شمالی ہندوستان کے دور دراز کے علاقوں سے طلباء تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ راجہ کنشک اور کشن خاندان کی بے شماریادگاریں ان پتھر کے ٹیلوں اور تودوں میں موجود ہیں۔ چینی سیاح400 ق م میں بدھ مت کی مقدس زیارتوں کے لیے برصغیر آیا تو اس نے اپنی تحریروں میں شمال مغربی سرحدی صوبہ اور ٹیکسلا کا بھی ذکر کیا ہے وہ کہتا ہے اس سرزمین میں بدھ مت کی نایاب چیزیں ہیں مقدس عبادت گاہیں ہیں۔ تخت بہائی کی یونیورسٹی جہاں طلباءکی ایک کثیر تعداد بدھ مت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آیا کرتی تھی کا بھی ذکر موجود ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker