افسانےصائمہ نورین بخاریلکھاری

غیرت مند : یوم خواتین کے تناظر میں صائمہ نورین بخاری کا افسانہ

کیکر کے پھولوں والے گاؤں کے کچے آنگن سے اٹھنے والا دھویں کابادل سیاہ مہین پیراہن کی صورت سرسراتی ہوا میں تحلیل ہورہا تھا ۔ سرمئی فضا میں بہار کا رنگ ریتلا اور مٹیالا نظر آرہا تھا ۔۔اداسی کی ریت بکھیرتی ہوئی خاموشی میں ایک سرگوشی ابھری ”عتیقہ زینب ولد جلال دین “تیری ملاقات آئی ہے “۔۔سنہری بالوں کی وحشت زدہ دوپہر کاندھوں پر بکھرائے اپنی زرد ہتھیلیوں کی لکیروں کو گھورتی ہوئی زینب گھبرا کر چاروں طرف دیکھنے لگی ۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا نازک وجود جیل کی بند سلاخوں میں جکڑا ہوا ہو۔تنگ و تاریک کوٹھڑی میں چھپے مہیب اندھیرے دیواروں سے نکل کر اس کی طرف بڑھ رہے ہوں جیل کا ہر قیدی اور گاؤں کاہر آز اد چیخ چیخ کر اسے جھنجھوڑ رہا ہو ۔”عتیقہ زینب ولد جلال دین تیری ملاقات آئی ہے“۔اس نے سہمی ہوئی آنکھوں سے دھواں اگلتے چولہے سے نظر ہٹا کر چاروں طرف دیکھا ۔ منظر یکسر مختلف تھا ۔ماں جائے نماز پر بیٹھی سسک رہی تھی ۔بھائی شفیق کی رہائی کے لیے وظیفے ورد کرتی ہوئی نڈھال ماں کی آنکھوں کے اس ساون کی تاب کون لاسکتا تھااس نے گھبرا کر دوسرے کچے کمرے کی کھڑکی پر نظر دوڑائی ۔۔۔گلشن سہمی ہوئی اندر بیٹھی تھی وہ ہلکی آوازمیں کھجور کی گٹھلیوں پر پڑھتی ہوئی ماں کی دعاؤں کو سسکیوں کے سہارے دے رہی تھی اماں سفید دوپٹے کی جھولی پھیلائے رب سے مانگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
میرے سوہنے ربا!تو میرے شفیق کی خیر کرنا میرے پتر کو جیل نہ ہووے شالا ہمیشہ جیوے اس بے قصور کو غصہ کھا گیا۔۔۔۔۔ سارا قصور میری اس زینب کلموہی ،مقدر پیٹی، جنم جلی کا ہے جسے پیدا ہوتے میں مار دیتی تو اچھا تھا ۔۔۔۔اماں غم سے بے حال ہوکر سینے پر دوہتڑ مارتی ہوئی کسی سادھو کی طرح خاموش زینب کی طرف بڑھی اور اس پر تھپڑوں کی بارش کردی ۔گلشن بہن کو بچانے کے لیے آگے بڑھی اور ہمیشہ کی طرح ماں کے سینے لگ کر ہمت ہار گئی۔۔۔تینوں مل کر کرب کےآشیاں کے تنکے سنبھالنے لگیں ۔۔۔۔ گلشن کئی روز سے یہ کربناک منظر بار بار دیکھ رہی تھی ۔اس کی سولہ سالہ روشن آنکھوں نے وہ دل دوز منظر بھی دیکھا تھا جب صحن کے پچھواڑے نیم کے درخت کے نیچے اس کی باجی زینب چھوٹے دروازے کی دہلیز پر کھڑی بھا عدیل سے کوئی بات کررہی تھی تو بھائی شفیق کیسے بھائی شفیق سے قصاب بن گیا تھا ۔اس کے سامنے اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئے اپنی جیب سے چاقو نکالا عدیل کو زمین پر دھکا دے کر اپنا رومال اس کے منہ میں ٹھونسا اور چاقو کا چمکدار پھل عدیل کے گلے پر پھیر دیا۔وہ سجیلا جوان کچی زمین پر گر کر یوں تڑپا جیسے قربانی کا بکرا گلے پر چھری پھرنے کے بعد تڑپتا ہے ۔پھر بھائی شفیق ناگ کی طرح پھنکارتا ہوا آگے بڑھا اور اس کی پیاری باجی کے ڈھیروں بال نوچ ڈالے ۔اس پر تھپڑوں گھو نسوں کی بوچھاڑ میں اگر ساتھ والی خالہ بتول اور اماں بیچ میں نہ آتی تو شاید زینب بھی اس کے غصے کی بلی چڑھ چکی ہوتی اور اس کے بھی دو ٹکڑے ہوجاتے ۔پھر اس کی حیران آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ پورا گاؤں اس کے گھر کے صحن میں جمع تھایا گھر کا صحن اس روز اتنا بڑا ہوگیا تھاکہ پورا گاؤں اس میں سما سکے ۔ہوائیں پریشان تھیں کیکر کے پھول کانٹوں سے لپٹ لپٹ کر رو رہے تھے ۔صحن کی سرمئی بھوری مٹی پر جہاں جہاں عدیل کا لہوٹپکاتھا وہاں وہاں سے شعلہ رنگ ہوگئی تھی ۔باجی زینب ۔۔۔۔بھا عدیل سے پیار کیوں کرتی تھی ؟اس کا جواب اسے معلوم نہیں تھا ۔وہ سال بھربس یہی دیکھ رہی تھی کہ باجی زینب کھوئی کھوئی سی رہنے لگی ہے ۔عدیل ایسا سجیلا گبھرو تھا کہ گاؤں بھر میں ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے ۔پھر بھی اماں اور بھائی نے اس کی ماں کی بڑی بے عزتی کرکے گھر سے نکالا تھا ۔وہ کہتے تھے کہ ہم موچی مراثیوں میں اپنی لڑکی کی شادی نہیں کرسکتے چاہے عدیل شہر سے بڑا افسر ہی کیوں نہ بن کر آجائے ۔اماں کہتی تھی۔۔۔۔
سب سے اچھا وہ جس کی ذات پات اچھی اور سب سے برا وہ جس کا پیشہ برا۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں اماں سب کے پیشوں کو ان کی ذات کا حصہ کیوں بنا دیتی تھی وہ دو بیگہ زمین پر خود کو بڑی زمیندارنی سمجھتی تھی نا۔ترکھان لوہار کنجڑے قصائی گوالے موچی مراثی یہ تو سب پیشے تھے یا ذاتیں پتہ نہیں؟ گلشن الجھ کر رہ گئی ۔اماں کہتی تھی کہ عدیل کی ماں مراثن اور باپ موچی تھا پھر پتہ نہیں یہ لڑکا کس پر گیا تھا اتنا شکیل جیسے کوئی رحم دل دیوتا ہو اور باجی زینب اس کی پجارن بن گئی تھی مگر مارچ کی آٹھ تاریخ کو اس پجارن کی تپسیا خاک میں مل گئی اگر ابا زندہ ہوتا تو بات کچھ اور ہوتی اماں باجی کو انیس سے پہلے بیاہ دیتی مگر اماں کے خواب محل بھی تو بڑے اونچے تھے ۔گلشن کے سامنے جیتے جاگتے انسانوں کے خوابوں کے محل مسمار ہوچکے تھے ۔۔اس روز ہلکی بارش ہورہی تھی جب پولیس کو بھائی شفیق نے گرفتاری دے دی ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ماضی کی راکھ سمیٹتی ہوئی ہوا ۔۔۔۔۔۔گرم ہو چلی تھی ۔موسم بدل رہا تھا اور ان کے گھر کا رہا سہا سکھ تنکوں کی طرح اڑ کر کسی اور گاؤں کے کھیت کھلیانوں میں اتر گیا تھا۔۔۔۔۔۔سمے کا دھارا کس کا انتظار کرتا ہے ؟؟؟؟؟سو وہ بہتا رہا ۔۔۔۔ شفیق کو جیل ہوگئی اماں کی دعائیں بے اثر ہوگئیں۔۔۔۔۔۔۔ گاؤں کے مولوی صاحب سچ کہتے تھے کہ رب سے انصاف نہیں رحم مانگنا چاہیے وہ سب سے بڑا منصف اگر انصاف کرنے پر آجائے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔
زینب خود کلامی کرتے ہوئے ٹھنڈے چولہے کی راکھ کریدتے ہوئے بولی ”جیل کی روٹی خدا کسی دشمن کوبھی نہ کھلائے جب پاوں میں بیڑیاں ڈال کر سوکھی دال روٹی اورگرم پانی حلق میں اتارے گا تو خود ہی پتہ چل جائے گا میرے ویر کو۔کیا میں نے کوئی گناہ کیاتھا؟جو شفیقے نے مجھے رسوا کیا ۔مجھ سے میری محبت چھین کر ٹکڑے ٹکڑے کردی جس بھائی کے لیے میں نے اپنی روٹی کبھی پوری نہ کھائی مٹی کے چولہے پر ساگ پکاتے پکاتے صبح سے شام ہوجاتی اور وہ کیسے مزے سے مکئی کی روٹی پر مکھن کے ڈھیر لگا کر کھاجاتا تھا ۔مگر بھوکے پیٹ سے مجھے لگتا تھا جیسے میری محنت وصول ہوکر میرےپیٹ میں اطمینان کی روٹی بھر رہی ہو ۔وہ بھائی جس کے لیے میں نے راتوں کو جاگ جاگ کر کرتے کاڑھے سوئیڑ بنے اپنی ان دیکھی بھابھی کے لیے ریشمی کپڑوں کے جوڑے ٹانک ٹانک کر دوپٹوں پر لپا اور گوٹا کناری سجاسجاکر صندوق میں بند کرتی آرہی تھی تو بڑا خوش تھا مجھ سے مجال ہے کہ سکول کی شکل بھی دیکھنے دی ہو ۔۔۔پڑھنے دیا نہ لکھنے دیا۔مگر میں نے ابا کے مرنے کے بعد اسے احساس نہ ہونے دیا کہ تو اکیلا ہے میرے بھائی اب بھیا کام سے واپس آکر آرام کرلے ۔میں گائے کی سانی بنالوں اب کھل بھگو دوں ۔اب بھیا کو غصہ نہ آئے میں مٹی کی لپائی کرکے دیوار برابر کردوں خواہ میری ہتھیلیوں کی کھال اکھڑ جائے تندور میں آگ تپا کر روٹی بنالوں لسی بلو کر مکھن نکال لوں تاکہ ناشتے میں آلو کے گرم گرم پراٹھوں کے ساتھ میرا بھائی خوش ہوکر کھائے ۔مسالہ پیس لوں پانی بھرلوں خواہ میری کمر درد سے ٹوٹ جائے جوتے چمکا دوں بستر لگادوں میرے کاندھوں میں جتنا دم ہے اس سے ز یادہ وہ سب کچھ کرلوں تاکہ میرے اکلوتے بھائی میرے پیارے ویر کا مزاج ٹھنڈا رہے ۔اس کی غیرت کی خاطر میں نے کیا نہیں کیا ۔بابا کے مرنے کے بعد سکول کی شکل تک نہ دیکھی کبھی اس جھلمل کرتے تالاب کے کنارے کپڑے نہ دھوئے جہاں گاؤں کی ساری لڑکیاں چڑیوں کی طرح چہلیں کرتی نہاتی تھیں۔کبھی سرمئی مٹی کے ٹیلوں پر چڑھ کر دور۔۔۔۔۔۔ شہر کے وہ گھر نہیں دیکھے جو رات ہوتے ہی جگنوؤں کی طرح جگمگانے لگتے تھے ساون کی پہلی بارش میں دلہن کے گہنوں کی مانند جھلملاتی شام پہلی بار اس نے عدیل کو دیکھا تھا ۔دوسری بار
خالہ بتول کے گھر سوجی کے حلوے کی نیاز دیتے ہوئے اس نے عدیل کو نظر بھر کر دیکھا وہ ان کے نواسوں کو کرکٹ کھلا کر رنگین پلنگ پہ بیٹھا یوں لگ رہا تھا جیسے کرکٹ کا کوئی کھلاڑی کوئی ہیرو ۔۔ ٹی وی سے نکل کر گاؤں کے کچے محلے میں کرکٹ سکھانے آگیا ہے وہ شہر میں سرکاری نوکری کرتا تھا۔۔۔ لگتا یہی تھا وہ گاؤں صرف زینب کی خاطر آتا تھا وہ وجہیہ صورت تھا اور اس کی آواز بہت پر سوز اور پکے سروں والی تھی ۔چھوٹی عید پر اس نے خالہ کے سب گھروالوں کی فرمائش پر درد وغم کی چاشنی سے بھرا گیت” چن “سنایا تو نہ چاہتے ہوئے بھی سب کی آنکھیں برس پڑیں ۔خالہ گمبھیر لہجے میں اسے منع کرتے ہوئے نصیحت کرنے لگی ”نہ بیٹا عدیل عید کے دن ایسے گیت نہیں گاتے “تو وہ گہری نظروں سے زینب کو دیکھتے ہوئے بولا”خالہ چن کے بارے میں تم کیا جانو ؟میرا ایک دوست ہے ضلع مظفر آباد کے پہاڑ گنگا چوٹی کا رہنے والا اس نے مجھے یہ پہاڑی فراقیہ لوک گیت سکھایا ہے جس میں محبوب سے جدائی کے بعد جب نغمے نوحے بن جاتے ہیں تو یہ نوحے چن کہلاتے ہیں ”چن “جس میں محبوب شام کا تارا اور صبح کا پھول ہے ۔۔۔۔اور زینب مبہوت ہوکر اس کی باتیں سنتی رہی اس کا دل وہم اور وسوسوں کا گھر بن گیا ۔جس میں اسے اپنے چن سے جدائی کے نوحے سنائی دینے لگے ۔۔۔۔
رشتے سے انکار کے بعد پردیسی محبوب سے عشق اسے دق کی طرح کھانے لگا۔پھر وہ آخری شام آئی جب وہ دروازے کی دہلیز پر کھڑا تھا زینب کی آنکھوں میں پھیلتے کاجل سے اس نے کچھ کہنا چاہا تھا کہ اس کی زندگی میں ہمیشہ کے لیے اندھیرے پھیل گئے ۔اور اس کی چاند سی زینب کے لیے نوحے مقدر ٹھہرے ۔۔۔۔
چھوٹی جیل کے بڑے روز کی تلخ صبح ہوگئی تھی ۔شفیق کو جیل کاٹنی تھی جس میں وقت کبھی دن کے اجالے میں سانپ بن کر اس پر لوٹ جاتا تھا اور کبھی رات کے اندھیرے میں پھانسی کا پھندا بن کر گلے میں لپٹ جاتا اور ایک دن اسے سینڑل جیل بھیج دیا گیا ۔۔روٹی ۔۔۔آہ گھر کی تازہ روٹی ۔۔۔اس کے سامنے روٹیاں ،چاند ،سورج بن کر ناچنے لگیں جن کا توڑنا اس کے لیے ناممکن تھا۔۔۔بھوک اس کے رگ و پے میں درد بن کر اتر رہی تھی۔۔۔وہ پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔جسم کے تقاضے اس کی روح کو پٹخنے لگے ۔جنس بھوک اور پیاس میں سب سے ظالم پیٹ کی بھوک اسے نڈھال کرنے لگی ۔۔۔مجھے کھانادو ۔مجھے روٹی دے دو مردود ذلیل کتو!!!!! کہاں مرگئےہو ۔۔۔ خود ۔۔کیا روٹی کے بغیر زندہ رہتے ہو ۔۔جو مجھے یہ چوہے کی کتری ہوئی سوکھی روٹی دے کر احسان جتلا رہے ہو “۔پیٹ کی بھوک ذلت کے آنسو بن گئی۔سلاخوں سے سر ٹکراتے ٹکراتے اور بھوک کے وار سہتے سہتے وہ زمین پر گرا اور بے ہوش ہوگیا۔
قیدی نمبر 18 کی جب ملاقات آتی تو اس کی بیوی بڑے مزے کی بھجیا بنا کر لاتی تھی ۔ساتھ میں تھوڑا سا مکھن اور پتلی پتلی چپاتیاں شفیق کا جی چاہتا کہ وہ ظفرے سے سارا ٹفن چھین کر پیٹ میں اتا ر لے ۔۔زندگی میں اب باقی کیا تھا بس پیٹ کا دوزخ
بھرنا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ظفرے قیدی کی بیوی اپنے موٹے موٹے ہونٹوں پر عنابی رنگ کی لپ اسٹک رگڑے ناریل کے تیل کی خوشبو سر میں بسائے اور تیسرے نمبر کی ہائی فائی منہ پر لتھیڑے ہوئے جب تیز تیز چل کر آتی تو کو توالیوں اور سپاہیوں کے چہروں پر وہ چمک آتی جو درندوں کی آنکھوں میں موٹے تازے شکار کی خوش بو سونگھ کر آتی ہے ۔۔۔اور پورا کا پورا ٹفن اندر پہنچ جاتا۔۔۔بغیر کسی چیکنگ کے ۔۔بلاتردد۔۔۔۔اور جب شفیقے کی ماں اور زینب ٹفن لےکر آتیں تو وہی بھوکی نظروں والے انہیں یوں دیکھتے جیسے وہ کوئی گندگی کا ڈھیر ہوں ۔۔۔اس کا ٹفن راستے میں ہی صاف ہوجاتا ۔۔میرے ربا ۔میں کہاں مروں ۔شفیق بھوک سے نڈھال ہورہا تھا ۔اچانک اس کے ذہن میں ایک کوندا لپکا ۔۔۔۔۔”
شفیق ولد جلال دین تیری ملاقات آئی ہے “…وہ تڑپ کر قید کی زمین سے اٹھا ۔گندم کی روٹی کی اشتہا انگیز خوشبو اس کے ہوش و حواس پر چھائی ہوئی تھی ۔بڑی سی سیاہ چادر میں تن کو چھپائے ۔۔۔۔منہ کو لپیٹے گندم میں شہد گھلی رنگت والی زینب نیچی نظریں کیے گھسی ہوئی چپل کے سہارے میلے کپڑوں میں شفیق کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔شفیق کو اپنے اندر ہر شے مرتی ہوئی محسوس ہورہی تھی ۔اس نے لپک کر ٹفن کھولا ۔آہ ۔۔۔گھر کی روٹی ۔۔وہ پاگلوں کی طرح روٹی توڑ توڑ کر کھاتے ہوئے بولا اس کی آواز میں حیرت انگیزالتجا تھی ۔
زینب ۔تو۔میری بہن نہیں ۔۔۔عتیقہ زینب میری ایک بات مان ۔۔۔یہ پردہ وردہ کرکے نہ آیا کر جیل میں ۔۔ذرا اچھے کپڑے پہن کر ۔۔سرخی پاوڈر لگا کر آیا کر یہاں ۔۔اری یہ جیل والے ایسے کھانے کو نہیں دیتے۔۔۔۔ اس طرح کی سرخی پاوڈر والی زنانی آئے تو فورا کھانا بھجوادیتے ہیں اور سگریٹ بھی ۔بغیر تنگ کیےچیکنگ کے بغیر ۔۔۔۔خبیث بے غیرت کہیں کے ۔۔بول میری بہن آئندہ تو پردہ کرکے نہیں آئے گی نا جیل میں ۔“۔۔ماں کی آنکھوں میں حیرانی کی شدت سے بہتے آنسو اچانک خشک ہو گئے بھائی کی التجا سنتی ہوئی خاموش کھڑی زینب کی ویران آنکھوں میں مسمار ہوئے خوابوں کا ریت ریت صحرا سلگ اٹھا ۔۔۔۔۔وہ تڑپ کر بولی
”واہ رے غیرت مند ۔۔۔۔۔۔۔۔تونے مجھے ۔۔۔۔۔زندہ کیوں چھوڑا ؟“

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker