اسلام آباد :پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے نئے مطالبات سامنے رکھ دئیے۔آئی ایم ایف کے نئے مطالبات میں کہا گیا ہے کہ گریڈ 17 اوراس سے اوپرکے افسران اور ان کے گھر والوں کے اثاثے ڈیکلئیر کیے جائیں۔آئی ایم ایف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیدیا۔ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اثاثوں تک رسائی کیلئے گائیڈ لائنز جاری کی جائیں گی، سٹیٹ بینک، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ایف بی آر مل کر کام کریں گے۔
تکنیکی مذاکرات میں آئی ایم ایف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پرعدم اعتماد کا اظہار کیا اور 100 فیصد بل وصولی میں ناکامی پر شدید تحفظات ظاہر کئے۔آئی ایم ایف نے حکومت سے وصولی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، بجلی ٹیرف میں سبسڈی ختم کرنے اور صنعتی شعبے کی ٹیرف سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ بھی کردیا۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ 100 فیصد بل وصولی اور حکومتی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنائے بغیر گردشی قرض کا خاتمہ ممکن نہیں۔
خیال رہے کہ آئی ایم کا وفد ان دنوں پاکستان میں موجود ہے جو پاکستانی حکام سے مذاکرات کر رہا ہے جس کے بعد پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ کیا جائے گا۔
بشکریہ جیو نیوز
فیس بک کمینٹ
#assets declaration #assets of officers #circular debt #Circular Debt Management Plan #economic #electricity prices #electricity subsidies #exporters #exports #fiscal space #gird o pesh #girdopesh #IMF #imf conditions for pakistan #imf mission #imf new terms and conditions #imports #pakistan and imf #pakistani exports #Pakistan’s economic #state bank #The International Monetary Fund IMF unimpressed by plan to contain Rs952b circular debt آئی ایم ایف آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے نئے مطالبات رکھ دیے بجلی ٹیرف سبسڈی سٹیٹ بینک گردشی قرض گردوپیش گریڈ 17

