پاکستان میں کئی ایسی سہولتیں ہیں جنہیں وقتاً فوقتاً "حرام” اور "شیطانی” قرار دیا گیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ نہ صرف قابلِ قبول ہوگیا بلکہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ بھی بن گیا۔ ایک دور تھا جب پرنٹنگ پریس کو حرام قرار دیا گیا تھا، لاؤڈ اسپیکر میں شیطان کی آواز سننے کی بات کی جاتی تھی، اور ٹی وی کو ایک شیطانی آلہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح، ریل گاڑی کو بھی ایک شیطانی چکر کہا گیا تھا جو زمین کو کھینچ کر لے جاتی ہے۔ مگر جب یہی چیزیں مذہبی اور سماجی حلقوں کے مفاد میں آئیں، تو وہ اچانک جائز ہو گئیں اور ان کا استعمال بڑھ گیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ پرنٹنگ پریس سے چھپے ہوئے دینی اور ثقافتی مواد کا مطالعہ کیا جاتا ہے، لاؤڈ اسپیکر پر اذان دی جاتی ہے، ٹی وی پر مولوی صاحبان بیٹھ کر دینی تعلیمات دیتے ہیں اور ریل گاڑیوں کا استعمال عام ہوگیا ہے۔
اسی طرح، یوٹیوب اور وی پی این جیسے جدید ٹیکنالوجی کے ذرائع بھی چند سال پہلے حرام قرار دیے گئے تھے، مگر اب یہی ٹیکنالوجی مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں میں آچکی ہے۔ یوٹیوب کو کچھ عرصہ پہلے دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا فتویٰ دیا گیا تھا، مگر آج یوٹیوب چینلز کے ذریعے علمائے دین اپنے خیالات اور تعلیمات عوام تک پہنچا رہے ہیں۔ اسی طرح، وی پی این کو حرام قرار دیا گیا تھا، مگر اب یہ ٹیکنالوجی انھی افراد کے ذریعے استعمال ہو رہی ہے جو پہلے اس کے استعمال کو ناجائز قرار دیتے تھے۔ یہ مثالیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عوام کے لیے ہر چیز حرام اور ناجائز قرار دی جاتی ہے، لیکن جب وہی چیز کسی خاص طبقے، خاص طور پر مذہبی رہنماؤں یا اشرافیہ کے مفاد میں آتی ہے، تو وہ نہ صرف جائز بن جاتی ہے بلکہ دینی اور شرعی جواز بھی دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں علمائے دین اور حکومتی ادارے ہمیشہ دوہرا معیار اختیار کرتے ہیں۔ عوام کے لیے کوئی بھی چیز حرام قرار دی جاتی ہے، لیکن جب بات مذہبی رہنماؤں یا اشرافیہ کی آتی ہے، تو وہی چیز حلال اور جائز بن جاتی ہے۔ اس دوہرے رویے کی سب سے بڑی مثال وہ ہے جب ظالم جاگیرداروں، ڈکٹیٹروں یا حکومتی اقدامات پر علماء کرام کبھی بھی کوئی فتویٰ نہیں دیتے۔ بے جا ٹیکسوں اور اشرافیہ کی عیاشیوں کو اللہ کی مرضی کے تحت جائز قرار دے دیا جاتا ہے، کیونکہ ان کے اپنے مفادات ان کے اپنے حلقوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب عوام معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور ان کا استحصال ہو رہا ہوتا ہے، تو یہ علماء اس پر خاموش رہتے ہیں اور ان کی زبان کبھی بھی غریبوں کے حق میں نہیں کھلتی۔ ان کے فتوے ہمیشہ اس طبقے کے حق میں ہوتے ہیں جس سے ان کے ذاتی مفادات وابستہ ہیں۔
پاکستان میں اس دوہرے رویے اور مذہبی رہنماؤں کے اس طرزِ عمل نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان علماء کے فتوے اب عوام کے لیے بے معنی ہو چکے ہیں کیونکہ عوام یہ سمجھ چکے ہیں کہ ان فتووں کا مقصد صرف دولت اور اقتدار کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ عوام کی فلاح و بہبود۔ پاکستان میں ایک خاص طبقہ ہمیشہ سرمایہ داروں اور حکومتی استحصال کو اللہ کی مرضی کے طور پر پیش کرتا ہے، کیونکہ ان کے مفادات ہمیشہ ان کے اپنے حلقوں میں ہوتے ہیں۔ عوام کو اب ان فتووں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، کیونکہ یہ فتویٰ فیکٹریاں ہمیشہ اس بات پر خاموش رہتی ہیں کہ عوام کے معاشی مسائل اور حکومتی اقدامات پر کوئی واضح موقف اختیار کیا جائے۔
آخرکار، ہمیں اس دوہری پالیسی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں حقیقی عدلیہ، شفافیت اور انصاف کی حکمرانی قائم ہو۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک یہ طبقے اپنے مفادات کی خاطر عوام کے حقوق کا استحصال کرتے رہیں گے، تب تک ملک میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہمیں ان تمام تضادات کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک دن پاکستان میں حقیقی اصلاحات ممکن ہو سکیں۔
فیس بک کمینٹ

