تجزیےعمران عثمانیکھیللکھاری

پی سی بی چیف ایگزیکٹو اور محمد حفیظ آمنے سامنے : اصل جھگڑا کیا ہے ؟ ۔۔ عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم خان اور سینئر کھلاڑی محمد حفیظ آمنے سامنے آگئے، دونوں نے میڈیا کے ذریعہ اپنی اپنی بات کی لیکن پی سی بی سی ای اوکی گفتگو میں بہت کچھ ایسا بھی پنہاں ہے جسے اور کوئی سمجھے نہ سمجھے حفیظ ضرور سمجھ گئے ہونگے اور اس کے بعد ان کی لب کشائی مشکل ہوجائے گی .
وسیم خان نے کہا ہے کہ حفیظ اپنی بیٹنگ پر توجہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا.
دائیں بائیں جھانک تانک کرنے یا کسی کے بارے میں انہیں بولنے کی ضرورت نہیں.
یہ تو آپ کو یاد ہوگا کہ اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا کاٹنے والے شرجیل خان کی پی ایس ایل میں واپسی ہوئی ہے اور حفیظ نے پی سی بی پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ایسے کرکٹر کے کھلانے پر تنقید کی تھی.
محمد حفیظ کا جوئے یا اسپاٹ فکسنگ دوسرے لفظوں میں کرپٹ کرکٹر ز کے بارے میں رویہ ہمیشہ سے ہی سخت ترین رہا ہے.
چند برس قبل محمد عامر کی 5 سالہ معطلی و ابتدائی جیل کی سزا کے بعد قومی ٹیم میں واپسی ہورہی تھی تب بھی انہوں نے اظہر علی کے ساتھ ملکر نہ صرف تنقید کی تھی بلکہ بغاوت کرتے ہوئے نہ کھیلنے کا اعلان کردیا تھا .اس وقت کے پی سی بی ہیڈز شہریارخان و نجم سیٹھی نے بعد میں ان باغی کرکٹرز کو منالیا تھا.
حفیظ اپنی عادت سے باز نہ آئے اور پھر بول پڑے.اس مرتبہ انہوں نے پی ایس ایل کے آغا ز کی بجائے اختتام پر اپنی بھڑاس نکالی، کہ کہیں انہیں کوئی معطل نہ کردے.
شرجیل کو 2017 میں 5 سال کی معطلی ہوئی تھی .اگست 2019 میں غیر مشروط معافی پر باقی سزا معطل ہوئی اور انہیں کراچی کنگز نے خرید لیا. شرجیل زیادہ کامیاب نہیں رہے. 10 میچز میں صرف 199 رنز جوڑ سکے .حفیظ نے ان کے متعلق حال ہی میں سوشل میڈیا پر کہا کہ ہمیں ڈبل معیار سے گریز کرنا چاہیئے. بھلے جتنا مرضی ایکسٹرا ٹیلنٹ ہو.
چیف ایگزیکٹو آف پی سی بی وسیم خان نے سخت انداز میں اس کا جواب دیا. کہتے ہیں کہ حاضر سروس پلیئرز کو سوشل میڈیا پر کسی کھلاڑی پر تنقید کا حق ہے اور نہ پی سی بی پالیسی پر بولنے کی اجازت. دنیا کا کوئی پلیئر ایسے نہیں بول سکتا تو حفیظ کیوں بولے.ویڈیو لنک پر مزید کہا کہ میں انگلینڈ سے آیا. میں نے وہاں کسی کو ایسے پالیسی پر بولتے یا ٹویٹ کرتے نہیں دیکھا. حفیظ یہ دیکھیں کہ وہ خود کو کیسے بہتر کرسکتے. نوجوانوں کو اپنے تجربہ سے کیا دے سکتے. وہ اس پر بولیں.
پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان کے رد عمل میں سختی بھی ہے اور
تنبیہ بھی .اور حفیظ اگر سینئر پلیئر نہ ہوتے تو بین السطور میں چھپا وسیم خان کا موقف کھلا ہوتا کہ اپنی کارکردگی میں بہتری لائیں ورنہ اپنی خیر منائیں.
حفیظ کیلئے بھی پی ایس ایل زیادہ اچھا نہیں رہا. 10 میچز میں 217 اسکور اور 3 وکٹیں کسی طرح بھی بہترین پرفارمنس نہیں.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker