کرکٹ کی دنیا میں وہ لمحہ بعض اوقات ان ٹیموں کیلئے میچ کی حد تک موت بن جاتا ہے جب وہ جیتنے کی پوزیشن میں ہوں اور ایسے میں بارش سے کھیل رک جائے اور اس کے بعد اوور ز کی کٹوتی او ر ہدف کے بڑا ہوجانے کے بعد واپسی ہو تو جیت کا یقین مردہ ہوچکا ہوتا ہے.
ایسے متاثرہ میچ پر جو قانون لاگو ہوتا ہے اسے ڈک ورتھ لوئس سٹیرن کہتے ہیں. جمعرات کو دنیائے کرکٹ کیلئے بڑی افسوسناک خبر یہ بنی کہ ڈی ایل ایس کے خالق ٹونی لوئس چل بسے.
ٹونی نے اپنے ساتھی فرینک ڈک ورتھ کے ساتھ مل کر انٹر نیشنل کرکٹ کو بارش یا کسی وجہ سے میچ متاثر ہونے کی صورت میں جو فارمولہ دیا اسے ان دونوں کے مشترکہ نام پر رکھا گیا.دونوں نے مل کر یہ فارمولہ 1997ء میں بنایا جسے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے 1999ء میں اپنے قانون کا حصہ بنالیا. 90 کے عشرے میں چلتے پرانے قانون ڈی ایل پر اس وقت کڑی تنقید ہوئی جب ورلڈ کپ 1992ء کے سیمی فائنل میں جنوبی افریقا کو انگلینڈ کیخلاف 13 بالوں پر 22 رنز درکار تھے کہ بارش آگئی اور سابقہ قانون کے تحت ہدف 1 بال پر 22 رنز میں بدل گیا.
ٹونی لوئس پیشہ کے اعتبار سے پروفیسر تھے انہوں نے ساتھی فرینک ڈک ورتھ کے ساتھ مل کر نیا فارمولہ ایجاد کیا جو اب بھی دنیائے کرکٹ میں نافذ ہے. 2014ء تک اس کا نام ڈک ورتھ لوئس میتھڈ تھا آئی سی سی نے اسے پھر ڈک ورتھ سٹیرن میتھڈ کا نام دیدیا.2018میں آئی سی سی نے ڈی ایل ایس کا نیا ورژن نکالا جس میں بارش کے بعد اوورز کی تقسیم میں پاورپلے اوورز کو بھی خاص طریقہ سے ایڈجسٹ کیا گیا.ٹونی لیوس کو 2011 ء میں خدمات پر بڑا ایوا ر ڈ ممبر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایوارڈ(mbe )سے نوازا گیا.
78 سالہ ٹونی لیوس کے انتقال کا اعلان انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے نہایت افسوس کے ساتھ کیا ہے. اس خبر سےکرکٹ کی دنیا سوگوار ہوگئی ہے .نامور شخصیات نے گہرے دکھ و غم کا اظہار کیا ہے.
فیس بک کمینٹ

