امتیاز عالمکالملکھاری

امتیاز عالم کا کالم:بلوچستان: پُرانا قضیہ، حل ندارد

برٹش انڈیا کی پرنسلی اسٹیٹس کی ریاستوں کے ہندوستان اور پاکستان سے الحاق کی داستان جتنی پیچیدہ ہے، خاناتِ قلات (1955-1512) کی شاہی بھی طویل تاریخی داروگیر سے گزری ہے۔ یہ پہلے مغل شہنشاہ اکبر اعظم کی سلطنت کی باجگزار رہی۔ بعد ازاں 1839میں برٹش انڈیا کا حصہ بنی اور معاہدہ مستونگ کے بموجب 1876میں بلوچستان ایجنسی کہلائی۔ انگریزوں نے شمال مغرب میں چیف کمشنر صوبہ بنایا اور جنوب مغرب میں بلوچستان ایجنسی یا قلات اسٹیٹ تشکیل پائی۔ جب ہندوستان اور پاکستان آزاد مملکت بنے تو خانِ اعظم میر احمد یار خان احمد زئی نے 15اگست 1947کو ریاست قلات کی آزادی کا اعلان کردیا۔ 27مارچ 1948کو کرنل گلزار نے ریاست قلات پر قبضہ کر لیا اور میجر جنرل اکبر خان، خان آف قلات کو کراچی لے گئے جہاں 28مارچ کو ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا گیا اور الحاق کی دستاویز پہ گورنر جنرل محمد علی جناح نے 31مارچ کو دستخط کردیے۔ چار محکموں کے علاوہ ریاست قلات کو مکمل صوبائی خودمختاری دے دی گئی لیکن اس کے خلاف 1948میں پہلی مزاحمت نے جنم لیا۔
14اکتوبر 1955کو جب ون یونٹ بنا تو بلوچستان کے تمام علاقے اس میں ضم کردیے گئے۔ ون یونٹ کے خلاف مغربی پاکستان میں قوم پرست جماعتوں نے ایک طویل جدوجہد کی اور بالآخر ون یونٹ کا خاتمہ ہوا۔ اس دوران 1958اور 1962میں جنرل ایوب خان کے دور میں فوج کشیاں ہوئیں جن کے خلاف دو بڑی بلوچ مزاحمتیں ہوئیں اور نوروز خان کو وعدہ شکنی کرتے ہوئے قید کردیا گیا اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ پھر عام انتخابات کے نتیجے میں 30مارچ 1970کو بلوچستان میں پہلی منتخب صوبائی اسمبلی وجود میں آئی۔ مشرقی پاکستان میں شکست اور بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کی منتخبہ حکومتیں قائم ہوئیں اور پیپلزپارٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے سہ فریقی معاہدے کے تحت 1973کا متفقہ آئین منظور کیا گیا لیکن 1974میں ذوالفقار علی بھٹو نے عطاء اللہ مینگل کی حکومت ختم کردی جس کے خلاف ایک لمبی مزاحمت ہوئی اور نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا کر حیدر آباد جیل میں نیپ کے رہنمائوں کو غداری کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بلوچ قوم پرستوں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا گیا اور افغان جہاد کا دور چلا۔ نواز شریف کی تیسری حکومت میں ڈاکٹر مالک کی ترقی پسند حکومت کو آدھے عرصہ کے لیے وزارتِ اعلیٰ ملی جس دوران خان آف قلات سلمان داؤد سے بات چیت چلی لیکن سرے نہ چڑھی۔ بعد ازاں جنرل مشرف کے دور میں جب نواب خیر بخش مری کو 2000میں قتل کے کیس میں گرفتار کیا گیا تو پھر سے بلوچ مزاحمت پھوٹ پڑی۔ جنوری 2005میں ڈاکٹر شازیہ کا کیس سامنے آیا اور مارچ 2005میں ڈیرہ بگٹی پر فوجی یلغار کردی گئی، پھر 26اگست 2006کو نواب اکبر بگٹی کے قتل پر بلوچ مزاحمت آگ کی طرح پھیل گئی جسے اب 21برس ہونے کو آئے ہیں۔ اگست 2006ہی میں خان آف قلات سلیمان داؤد احمد زئی نے ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا جس میں بڑی تعداد میں بلوچ عمائدین اور سرداروں نے شرکت کی۔ اس جرگے نے خان آف قلات کو اختیار دیا کہ وہ ’’بلوچستان کی آزادی‘‘ کے لیے دنیا میں بلوچوں کا مقدمہ لڑیں۔
1973کے وفاقی و جمہوری آئین اور اٹھارویں ترمیم کے باوجود وفاق اور بلوچستان کے تعلقات میں قدرے بہتری تو آئی، لیکن مرکز پسند آمرانہ قوتوں کے ہاتھوں بلوچستان کے عوام کو ان کے حقیقی حقوق نصیب نہ آئے۔ پھر بلوچ سرداروں کے کردار بھی بدلتے رہے اور وہ جاگیر دارانہ تسلط کے تقاضوں کے تحت آمرانہ قوتوں کا آلہ کار بنتے رہے۔ یہ اکبر بگٹی ہی تھے جو سردار عطا اللہ مینگل کی پہلی بلوچ قوم پرست جمہوری حکومت کو گرانے میں پیش پیش تھے اور آج کی مزاحمتی تحریک کے ایک شہید ہیرو بھی۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے بڑے کمانڈر میر ہزار خان بجرانی جو بلوچ انقلابی رہنما شیر محمد مری کے ذیلی قبیلے سے تھے افغانستان سے واپس آکر جنرل ضیا الحق سے مل گئے تھے۔ اسی طرح کا دوہرا کردار ہم گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے دیکھتے ہیں، جیسے براہمداخ بگٹی بلوچستان ریپبلکن آرمی کی قیادت کررہے ہیں تو سرفراز بگٹی حکومت میں ہیں۔ حر بیار مری بلوچستان لبریشن آرمی کے قائد ہیں تو چنگیز مری مزاحمت کے خلاف کھڑے ہیں۔ جاوید مینگل اگر لشکر بلوچستان چلا رہے ہیں تو اختر مینگل باپ کے بزنجو گروپ سے معاہدہ کرتے نظر آتے اور ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نذر جیسے مڈل کلاس لیڈر ہیں جو پرانے بلوچستان لبریشن فرنٹ کی قیادت کررہے ہیں جس کے ساتھ مکران کے نوجوان ہر اول دستہ بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح مجید بریگیڈ ہے جس نے حالیہ فدائی حملوں میں حصہ لیا ہے۔
پنجگور، نوشکی اور کیچ میں گزشتہ دنوں جو حملے ہوئے ہیں، وہ بلوچ مزامت کی نئی سطح کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور یہ ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب وزیراعظم نہایت اہم دورے پر چین گئے ہیں۔ ماضی میں اگر سوویت یونین اور افغانستان کی قوم پرست حکومتیں بلوچستان میں آزادی کی تحریکوں کی مدد کرتی تھیں تو گزشتہ برسوں میں امریکہ نواز افغان حکومتیں بلوچ علیحدگی پسندوں کو پناہ اور امداد دیتی رہیں اور اس میں بھارت اور را بھی متحرک رہیں۔ یہ جو واہمہ تھا کہ افغان طالبان کے آنے سے بیرونی ہاتھ کٹ جائے گا غلط ثابت ہوا ہے، سوال یہ ہے کہ بلوچ ناراضی، بیگانگی اور مزاحمت بیرونی عناصر کی پیدا کردہ ہے یا یہ اندرونی ناانصافی، نابرابری اور قومی جبر کی پیداوار ہے۔ بنیادی طور پر یہ اندرونی تضادات اور عوامل کی دین ہے اور آمرانہ قوتیں اور علیحدگی پسند عناصر اس اندرونی خلفشار کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں اور کررہی ہیں۔ بلوچستان جس کا رقبہ نہایت دشوار گزار اور پاکستان کا 43 فیصد ہے اور آبادی نہایت قلیل، میں اگر بلوچ مسلح جدوجہد کو کچلنا مشکل ہے وہاں کسی بھی قومی آزادی کی تحریک ایک کامیاب دھارا نہیں بن سکتی۔ بلوچستان کی کم ترین آبادی اور بڑے علاقے کا تضاد اور بلوچوں کی پانچ طویل مزاحمتوں کے بعد یہ خام خیالی دور ہوجانی چاہیے۔ اور بلوچ مزاحمت پسندوں کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ وہ ایک مرکوز و مجتمع مزاحمت نہیں بن سکتے۔ اصل سوال بلوچوں کا قومی سوال ہے جس کے جمہوری وآئینی اور سیاسی حل کے بنا بلوچ مزاحمت ختم ہوگی نہ وفاق مستحکم ہوگا۔ اس پرانے قضیہ کا نیا انسانی و جمہوری حل ڈھونڈنا ہوگا اور بلوچستان پر بلوچوں کے حق کو تسلیم کیے بنا بات آگے نہیں بڑھے گی۔ بلوچوں کو ان کے علاقے کی ترقی اور اس پر حکمرانی کا پورا پورا حق دو۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker