عمار مسعودکالملکھاری

عمار مسعود کا کالم : چیف جسٹس صاحب، صابر محمود ہاشمی کو جشن آزادی منانے کی اجازت دی جائے

انیس سو چھیالیس کا زمانہ تھا۔ پاکستان بننے کے آثار بہت واضح ہو گئے تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو یقین ہو چکا تھا کہ اب لے کے رہیں گے پاکستان اور بن کے رہے گا پاکستان۔ ہر دل پر ایک ہی امنگ تھی کہ قائداعظم کی حوصلہ مند قیادت میں جلد ہی مسلمانوں کے لیے ایک نیا وطن بن کر رہے گا۔ جہاں انہیں سوچنے کی، آزادی اظہار کی، اپنے مذہبی شعار کی، اپنی زبان کی اور اپنے حقوق کی آزادی ہو گی۔ جہاں ایمان، اتحاد اور تنظیم ہو گی۔ جہاں انگریز کی غلامی نہیں ہو گی اور سب ایک آزاد فضا میں سانس لیں گے۔ ایک ایسا ملک ہو گا جہاں ان کو کوئی غلام نہیں سمجھے گا۔ جہاں قائد کے فرمان کے مطابق سب کو برابر حقوق ملیں گے۔ جہاں اقلیتوں کے حقوق سلب نہیں ہو گے۔ اس زمانے میں نوجوانوں میں جذبہ شوق دیدنی تھا وہ بڑھ چڑھ کے تحریک پاکستان میں حصہ لے رہے تھے۔ ہر جلسے میں جاتے۔ قائد کا ہر حکم بجا لاتے۔ ہر کام رضاکارانہ کرتے۔
رنگ علی ہاشمی کا تعلق امرتسر سے تھا وہ برٹش آرمی میں ملازم تھے۔ برٹش آرمی سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ انگریز راج سے نفرت کرتے تھے اور غلامی کی اس زندگی سے تنگ آچکے تھے۔ آزادی کی خواہش ان کے دل میں ہر دم موجزن رہتی تھی۔ اس زمانے میں برٹش راج کے لوگ رنگ علی ہاشمی کو اینٹی سٹیٹ کہتے اور ان پر غداری کے فتوے لگاتے۔ لیکن وہ ہر خوف اور بہتان سے بالاتر ہو کر قائد اعظم کے حوصلے کے گرویدہ تھے۔ ان کے فرمودات سے عشق کرتے تھے۔
رنگ علی ہاشمی کثیر الاولاد تھے۔ ان کے دس بچے تھے، پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں۔ سب سے بڑے بیٹے کا نام دلمیر حسین ہاشمی تھا۔ وہ ہر وقت اپنے بچوں کو پاکستان کی اہمیت، آزادی کی ضرورت اور قائد کے فرمودات کی تلقین کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ دلمیر حسین ہاشمی نے جب انیس سو چھیالیس میں میٹرک کیا۔ تو وہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں ایک جواں سال کارکن کی حیثیت سے شامل ہو گئے۔ قائد اعظم کی ایماء پر مسلم لیگ کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم پر جٹ گئے۔ اس زمانے میں دمڑیوں کا رواج تھا۔ دلمیر حسین نے اپنی ساری جمع جتھا اکٹھی کی اور ایک ایک دمڑی جمع کر کے کل سولہ روپے مسلم لیگ کے خزانے میں جمع کروائے۔ یہ سولہ روپے دلمیر حسین کا کل اثاثہ تھا۔
چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ تو رنگ علی ہاشمی اپنے دس بچوں اور اہلیہ کو لے کر پیدل ہی امرتسر سے پاکستان کی جانب چل پڑے۔ فسادات کا زمانہ تھا۔ فسادیوں کے جتھے خونی نیامیں تھامے مسلمانوں کے قافلوں کے منتظر تھے۔ ایسے ہی ایک قافلے کا حصہ رنگ علی اور ان کے اہل خانہ بھی تھے۔ فسادیوں نے حملہ کر دیا۔ نہتے مسافروں کے پاس اپنے تحفظ کے لیے آہ بکا کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ دلمیر حسین کے سامنے ان کی دو بہنوں اور دو بھائیوں کو ذبح کر دیا گیا۔ بہنوں کی عمریں پانچ اور سات سال تھی۔ ایک ذبح ہونے والے بیٹے کی عمر چودہ سال اور دوسرے کی عمر سترہ سال تھی۔ دہشت اتنی تھی کہ اس خاندان کو اپنے پیاروں کی لاشیں تک دفنانے کا موقع نہیں ملا۔ اپنے پیاروں کی کٹی پھٹی لاشیں بے گور کفن چھوڑ قافلے نے اپنا سفر جاری رکھا۔
یہ قافلہ جب پاکستان پہنچا تو مسافروں کی تعداد نصف سے بھی کم رہ گئی تھی۔ اس سرزمین مقدس پر پہنچتے ہی قافلے والوں نے اس زمین کو چوما، سجدہ کیا اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اب وہ ایک آزاد ملک میں آ گئے ہیں جہاں کوئی ان پر غلامی کی تہمت نہیں لگائے گا۔
رنگ ہاشمی تلاش معاش کے لیے رحیم یار خان چلے گئے۔ جہاں بڑے بیٹے دلمیر حسین نے وٹرنری ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کی۔ لاہور میں شادی کی۔ اللہ نے دلمیر حسین کو چھ بچے عطا کیے جن میں سے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام صابر محمود ہاشمی ہے۔ دلمیر حسین نے ساری عمر اپنی اولاد کو ہجرت کی اذیتوں کے قصے سنائے۔ غلامی کی زندگی کے عذاب بتائے، پاکستان سے محبت کا درس دیا، قائد کی شخصیت کے سحر کے بارے میں بتایا ان کی اصول پسندی کے قصے سنائے۔ اور بتایا کہ ہمیں آزادی کس مشکل سے ملی۔ دلمیر حسین کے والد بھی پکے مسلم لیگی تھی۔ دلمیر حسین بھی مسلم لیگ کا دم بھرتے تھے۔ انہیں قائد اعظم کی مسلم لیگ سے عشق تھا۔ بچوں کو بھی اسی عشق کا درس دیتے تھے۔
دلمیر حسین کے پاکستان اور ان کے سب سے چھوٹے بیٹے صابر محمود کے پاکستان میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ صابر کو سیاسی شعور اپنے پرکھوں سے ملا۔ جمہوری سوچ ان کی سرشت میں ہے۔ ان کی تربیت ہی اس شعور کے ساتھ ہوئی ہے۔ صابر بھی پکے مسلم لیگی ہیں۔ انہیں نواز شریف سے بہت عقیدت ہے۔ انہیں جمہوریت کی بات سمجھ آتی ہے اس لیے کہ ان کے بزرگوں نے اسی کی تعلیم دی ہے۔ وہ ووٹ کو عزت دینے کے اس لیے قائل ہیں کہ ان بزرگوں کا خون اس جدوجہد میں شامل ہے۔ وہ آئین کی بالا دستی کے قائل ہیں کہ ان کے باپ دادا نے انہیں یہی درس دیا ہے۔
پچیس جنوری دو ہزار اکیس کو صابر محمود ہاشمی کو ایف آئی اے کا پہلا نوٹس ملا۔ ان پر غداری کی تہمت لگائی گئی تھی۔ انہیں اینٹی سٹیٹ قرار دیا گیا۔ ان کا جرم جمہوریت، آزادی اظہار اور قاضی فائز عیسی کے حق میں ٹویٹ کرنا ثابت ہوا۔ اس دن کے بعد سے آج تک صابر محمود کبھی تھانوں میں پیش ہو رہے ہیں کبھی پیشیاں بھگت رہے ہیں، کبھی غداری کے فتوے ان پر لگائے جا رہے ہیں اور کبھی ان پر اینٹی سٹیٹ ہونے کا بہتان لگ رہا ہے۔
میری چیف جسٹس آف پاکستان سے صرف یہ استدعا ہے وہ صابر محمود کو یہ بتا دیں کہ وہ اس وقت جشن آزادی منائیں یا پھر غداری کے فتووں پر پیشیاں بھگتیں، اپنے بزرگوں کے خون ناحق کا ماتم کریں یا اینٹی سٹیٹ کے الزامات بھگتیں، اپنے والد کی تربیت پر عمل کریں یا اپنی سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو جائیں۔ تحریک پاکستان کے شہیدوں کا نوحہ پڑھیں یا وطن دشمنی کے طعنے سہیں۔ پاکستان کی جھنڈیاں لگائیں یا پھر ایف آئی آرز کی کاپیاں کروائیں۔
اور اگر جناب چیف جسٹس صاحب اس مملکت خداداد میں یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تو بہت اچھا ہو گا اگر ہم صابر محمود جیسے سیاسی کارکن کو یہ بتا دیں کہ ان کے آباء ہجرت کر کے، اپنے پیاروں کی خون آلود لاشیں چھوڑ کر، ایک ایسے ملک میں آ بسے ہیں جہاں جمہوریت جرم ہے، جہاں آزادی اظہار غداری ہے، جہاں عدالتوں کا احترام ایک بہتان ہے اور جہاں آئین کی بالا دستی ایک طعنہ ہے۔ بہت اچھا ہو کہ ہم صابر محمود کو بتا دیں تمہارے بزرگوں کی قربانیاں ضائع گئیں، ان کا خون رائیگاں ہوا، ان کا آزادی کا سپنا ٹوٹ گیا۔ صابر محمود تم اب بھی غلام ہو۔ تمہیں نہ بولنے کا حق ہے نہ سوچنے کا۔ تمہارے صرف آقا بدلے ہیں قسمت نہیں۔
( بشکریہ : ہم سب لاہور )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker