تہران : ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی اور انسانی حقوق کے غیر ملکی اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج 100 سے زائد شہروں میں پھیل چکا ہے۔
تہران اور مشہد میں رات گئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر مارچ کیا گیا، احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 ہوگئی ہوچکی ہےجن میں کئی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد گرفتار ہیں۔
ایران میں جاری احتجاج کے حوالے سے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے مطابق زاہدان میں سکیورٹی فورسز نے جمعے کے وقت مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور شارٹ گن کے چھروں کا استعمال کیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ہلاش سمیت انسانی حقوق کے ذرائع نے خبر دی ہے کہ ایران کے شہر زاہدان میں نمازِ جمعہ کے دوران متعدد شہری مکی مسجد کے اطراف کی سڑکوں پر احتجاج میں شامل ہوئے جہاں ان کا سامنا فوجی اور سکیورٹی فورسز سے ہوا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ’ایرانی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور شاٹ گن کے چھروں کا استعمال کیا۔‘
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے جن میں ’آمر کی موت‘ اور ’خامنہ سے نجات‘ کے جملے بھی موجود تھے۔
اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے تاہم زخمیوں کی حتمی تعداد فراہم نہیں کی گئی۔
ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں نے تہران کے لیے کئی پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی فارسی نے استنبول ایئرپورٹ ایپ کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق ترکش ایئرلائنز نے جمعے کو تہران کے لیے اپنی پانچ پروازیں منسوخ کر دی ہیں جبکہ ایرانی ایئرلائنز کے ذریعے چلنے والی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ ترک حکام نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کی شب جب ایران کے مختلف شہروں میں ملک گیر مظاہرے جاری تھے، استنبول سے تہران جانے والی ایک پرواز کی منسوخی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس پرواز کے بعض مسافروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے طیارے کو تہران میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسی دوران تبریز اور اصفہان جانے والی پروازوں کا رخ بھی موڑنے کا اطلاعات سامنے آئیں۔ دبئی ایئرپورٹ کے مطابق جمعے کو اب تک دبئی سے تہران جانے والی پانچ پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی / جیو نیوز )
فیس بک کمینٹ

