شاکر حسین شاکرکالملکھاری

شاکر حسین شاکر کا کالم : اسلام تبسم کی مسکراہٹ کس نے چھینی ؟

یارِ من محمد اسلام تبسم سے پہلا رابطہ قلمی دوستی کے ذریعے ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بچوں کے ہر رسالے اور اخبارات کے بچوں کے ایڈیشن میں قلمی دوستی کے کالم میں محمد اسلام تبسم کا نام، مشاغل اور پتا تصویر کے ساتھ موجود ہوتا تھا۔ ملتان سے جب قلمی دوستی کے لیے ہر جگہ پر محمد اسلام تبسم کا نام دکھائی دیا تو ہم نے بھی ایک دن اُسے دوست بننے کے لیے ایک خط روانہ کر دیا۔ دو دن بعد اسلام تبسم کا جواباً دوستی کے لیے خط آ گیا اور یوں ہماری خط و کتابت کے ذریعے قلمی دوستی کا آغاز ہوا۔
یہ 1979ءکا زمانہ تھا جب ہماری رہائش گاہ چوک خونی برج کے محلہ شاہ خرم میں ہوا کرتی تھی اور اسلام تبسم تب سے لے کر اب تک پرانا شجاع آباد روڈ کے نواحی علاقے محمد پورہ میں قیام پذیر ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ خط و کتابت کرتے جب تین چار ماہ ہو گئے تو پھر ایک دن ملاقات کا وقت طے ہوا، مَیں نے کہا کہ حرم گیٹ چوک پر عزیز بک سٹال پر سہ پہر چار بجے ملاقات ہو گی۔ مَیں خونی برج سے پیدل حرم گیٹ آیا اور اسلام تبسم سائیکل پر وہاں پہنچا۔ پہلی ملاقات میں ہی مجھے علم ہو گیا کہ محمد اسلام تبسم جو بڑی روانی سے خط و کتابت کرتا ہے ملاقات میں وہ بات کرنے سے انکاری تھا۔ اس کا یہ انکار تب سے لے کر اب تک جاری ہے۔ کہ دوستوں کے درمیان وجہِ دوستی ہونے کے باوجود وہ سب سے کم گو ہے۔ وہ ہم سب کے ساتھ اس لیے نہیں بولتا کہ جب 1974ءمیں بہاری بن کر بنگلہ دیش کے علاقے ”دیناج پور“ سے ہجرت کر کے ملتان آیا تھا تو اپنی خوشیاں، قہقہے اور باتیں وہیں پر دفن کر آیا تھا کہ اسے معلوم تھا کہ پاکستان جا کر اُسے چپ رہنا ہے۔ بولنا نہیں ہے۔ البتہ اس نے اپنے اظہار کے لیے قلم کو وسیلہ بنایا۔ اور نثر کے ہر اُس میدان میں طبع آزمائی کی جو بڑے لکھنے والے کیا کرتے ہیں۔ اس کے تخلیقی سفر کا آغاز اگرچہ بچوں کے لیے مزاحیہ کہانیاں لکھنے سے ہوا لیکن وہ جلد ہی طنز و مزاح کی طرف آ گیا۔
1980ءکی دہائی میں جب ملکی ادب کے منظرنامے میں ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر انور سدید، پروفیسر غلام جیلانی اصغر، سلمان بٹ اور دیگر لکھنے والے اپنے اپنے انداز سے انشائیہ اور مزاحیہ لکھ رہے تھے تو ایسے میں محمد اسلام تبسم نے ادب کے دونوں دبستانوں کے لیے نہ صرف خوبصورت انشائیے لکھے بلکہ اُس دور کے تمام نقادوں نے اُس کے مزاحیہ مضامین اور انشائیوں کو حوالے کے طور پر اپنے مضامین میں جگہ دی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب محمد اسلام تبسم کی شہرت بچوں کے ادب سے نکل کر بڑوں تک پہنچ گئی اور اس کا شمار منجھے ہوئے نثر نگاروں میں ہونے لگا۔ سال کے اختتام پر جب ڈاکٹر انور سدید اور ڈاکٹر سلیم اختر ادبی جائزہ لکھتے تو اُن دونوں جائزوں میں محمد اسلام تبسم کا تذکرہ تفصیل سے ملتا۔ وہ اس دوران جب پہلی مرتبہ اہلِ قلم کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد گیا تو نامور لوگوں کو علم ہوا کہ ادبی رسائل اور اخبارات میں خوبصورت مضامین لکھنے والا محمد اسلام تبسم بالکل ہی گوشہ نشین شخص ہے۔ اس نے چار دن اسلام آباد میں رہنے کے باوجود بمشکل چند لوگوں سے ہی ملاقات کی کہ وہ بہت کم لوگوں سے مل کر خوش ہوتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اس نے اپنے قلم کے سفر کو رکنے نہیں دیا اور مسلسل کبھی بنگلہ دیش کی یادیں لکھتا رہا تو کبھی اس نے سندھی شاعری خاص طور پر شاہ لطیف بھٹائی کی شاعری کے حوالے سے تفصیلی سے مضامین لکھے۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان کے بڑے اخبارات میں سال کے اختتام پر اسلام تبسم سے انشائیوں کے جائزے لکھوائےگئے ، یوں اسے اردو انشائے کے پہلے جائزہ نگار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ۔ اس نے صرف ایک صنفِ ادب کا نہ صرف تفصیل سے جائزہ لکھا بلکہ 1990ءکی دہائی میں انشائیے سے وابستہ اہلِ قلم کے فن پر کئی مضامین بھی تحریر کیے ۔
ملتان جیسے بڑے شہر میں رہنے کے باوجود محمد اسلام تبسم کے دوستوں کی تعداد دس سے زیادہ نہیں ہے۔ کہ وہ آج کے دور میں بھی گھر بیٹھ کر کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ کبھی کبھار اپنے فیس بک پر کوئی موسیقی شیئر کر دیتا ہے لیکن اس کے قلم یا زبان سے آج تک کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وہ ایک ایسا دوست ہے جو اپنے دوستوں کو تنگ نہیں کرتا۔ دُکھی ہونے کے باوجود اس کا اظہار نہیں کرتا۔ ایک زمانہ ایسا تھا جب اُس سے ہر ہفتے ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن جب سے ہم ایک مصنوعی مصروفیت کا شکار ہوئے تو اس سے ملاقات کی سبیل بھی جاتی رہی۔ اس کی اہلیہ عین جوانی میں موت کے منہ میں چلی گئیں تو محمد اسلام تبسم نے اپنے آپ کو بچوں کے لیے وقف کر دیا۔ اہلیہ کی جدائی نے اُسے دل کا مریض بنا دیا لیکن اس کے باوجود وہ ہمت کے ساتھ اولاد کے فرض پورے کر رہا ہے۔ کہ اُس جیسا شریف النفس اور خوبصورت انسان اب اس معاشرے میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
رضی الدین رضی کا شکریہ کہ وہ اس کی کتاب شائع کر رہا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس کی کتاب بہت پہلے آ جانی چاہیے تھی کہ اس کتاب کا متن ایسا ہے کہ اس کو جو پڑھے گا وہ خوش ہو گا۔ محمد اسلام تبسم نے اپنی زندگی میں یہی ہُنر تو سیکھا ہے کہ نہ تو اُس کی تحریر سے کسی کو دُکھ ہوا، نہ ہی اُس کے کلام سے۔ موجودہ دور میں وہ حقیقی معنوں میں ایک ایسا درویش ہے جو نہ تو کسی کی برائی سنتا ہے اور نہ ہی کسی کی برائی کرتا ہے۔ اس کو کسی سے کوئی شکوہ نہیں اور نہ ہی شکایت۔ ”تبسم“ اگرچہ اس کے نام کا حصہ ہے لیکن ہم نے اسے کبھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس نے اپنے دکھ بھی ہمیں نہیں بتائے اور ہم آج تک یہی نہ جان سکے کہ اس کی مسکراہٹ کس نے چھینی ہے اس دیناج پور نے جہاں اس نے آگ اور خون کا کھیل دیکھا یا اس ملتان نے جہاں وہ لڑکپن میں ہی بوڑھا ہو گیا ۔
وہ اپنے اندر بہت کچھ سینچے ہوئے ہے اور وہ اپنی اس کیفیت پر ﷲ کا شکر ادا کرتا ہے۔ محمد اسلام تبسم ہمارے دوستوں میں ایک ایسا فرد ہے جس کے ساتھ تعلق پر مجھے فخر ہے۔ اس سے مہینوں ملاقات نہ ہو لیکن یہ بات مَیں اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے لکھ رہا ہوں کہ اس کا خیال روزانہ آتا ہے اور اس کی یاد کبھی محو نہیں ہوتی۔ ﷲ سے دُعا ہے کہ وہ تادیر سلامت رہے اور یونہی اپنے قلم سے شگوفے بکھیرتا رہے۔

( اسلام تبسم کی زیر طبع کتاب کا پیش لفظ )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker