اسلام آباد ہائی کورٹ میں مبینہ توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل نام ’کومل اسماعیل‘ ہے جو کہ مبینہ توہین مذہب کے متعدد مقدمات میں درخواست گزار ہیں۔
پیر کے روز نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ کومل اسماعیل عرف ایمان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سہالہ میں قتل کا مقدمہ درج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کے اس مقدمے میں مذکورہ خاتون کا شوہر اور بھائی بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مبینہ توہین مذہب کے متعدد مقدمات کومل اسماعیل عرف ایمان کی مدعیت میں درج کیے گیے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے نینشل سائبر کرائم ایجنسی کے حکام سے کہا کہ انھوں نے ایمان کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا تو حکام نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے مذکورہ خاتون کے شناختی کارڈ پر دیے گئے ایڈریس پر چھاپہ مارا تھا لیکن اس ایڈریس پر کومل اسماعیل کے بھانجھے نے بتایا کہ وہ نیول اینکریج اپنے سسرال کے گھر منتقل ہوگئی ہے۔
سائبر کرائم ایجنسی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ان کی مذکورہ خاتون کے سسر سے ملاقات ہوئی تھی جنھوں نے بتایا کہ کومل اسماعیل 2021 میں اپنے شوہر کو چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔
حکام نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے کومل اسماعیل کا نکاح نامہ حاصل کر لیا ہے جس میں ان کے گھر کا ایڈریس پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر کا ہے۔
عدالت نے اسلام آباد پولیس کے حکام کو حکم دیا کہ تھانہ شالیمار کی حدود میں قتل ہونے والے شخص عبداللہ شاہ کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے حکام کو دیں جو کہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال کے باہر سے لی گئی تھی جس میں ایک خاتون گاڑی میں بیٹھی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔
عدالت نے سائبر کرائم ایجنسی کے حکام کو حکم دیا کہ وہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے اس خاتون کی شناخت کے بارے میں معلومات لیں اور اس ضمن میں بند لفافے میں معلومات عدالت میں جمع کروائی جائیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اسلام آباد پولیس کے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ عبداللہ شاہ قتل کے معاملے پر تحقیقات کریں کہ کیسے عدالت نے پولیس کی بجائے مدعی اور مقتول کے والد کی تفتیش کو تسلیم کر لیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث نہیں ہے۔
واضح رہے کہ راؤ رحیم عبداللہ شاہ کے قتل کے مقدمے میں عبوری ضمانت پر تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مقتول عبداللہ شاہ سمیت دیگر دو افراد کے خلاف مئی 2022 میں مبینہ توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور یہ مقدمہ راؤ عبدالرحیم کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
عبداللہ شاہ کی سرکٹی لاش اسی سال اسلام آباد کے جنگلوں سے ملی تھی۔
سماعت کے دوران راؤ عبدالرحیم نے موقف اختیار کیا کہ ان کو سنے بغیر عدالت نے قتل کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے قتل کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم نہیں دیا بلکہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے اس ضمن میں رپورٹ طلب کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی معلومات عدالت کے سامنے لائی جائیں تو ان کی چھان بین کیے بغیر درخواست کی کارروائی کو آگے بڑھا دے۔
متعدد درخواست گزاروں کی وکیل ایمان مزاری نے مبینہ توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل کے حق میں دلائل دیے۔
عدالت نے نیشنل کمیشن فور ہیومن رائٹس کے وکیل سے کہا کہ وہ منگل کو اپنے دلائل دیں اور ایک دن میں ہی اپنے دلائل ختم کریں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

