اہم خبریں

اسرائیلی فضائی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 24 ہو گئی

غزہ : اسرائیل کے جنگی طیاروں نے منگل کو ایک مرتبہ پھر غزہ میں حملے کیے ہیں جن میں کم از کم دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں اور فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے جن میں نو بچے بھی شامل ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ پیر کو حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ داغے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔ ان راکٹ حملوں میں اب تک چھ اسرائیلی شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔عسکریت پسند تنظیم حماس کی جانب یہ کارروائی بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس سے جھڑپوں میں پیر کے روز تک 700 سے زیادہ فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد کی گئی تھی۔
فریقین کی جانب سے حملوں کا سلسلہ پیر کی شب بھی رُک نہ پایا اور منگل کی صبح بھی اس علاقے میں اسرائیل کے فضائی حملوں اور حماس کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔
منگل کو اسرائیلی طیاروں نے غزہ میں رمل کے علاقے میں واقع ایک مکان کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ معان نیوز ایجنسی کے مطابق ہلاک شدگان میں عسکریت پسند تنظیم اسلامک جہاد کے دو کمانڈر شامل ہیں جبکہ ایک اور کمانڈر سمیت چھ افراد اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطینی محکمۂ صحت کے مطابق دو دن میں اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں حماس کے کم از کم 15 کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔ادھر خطے میں اس حالیہ کشیدگی کے بعد دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پُرامن رہنے کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے کشیدگی کو کم کریں۔
منگل کی صبح فلسطینی ہلالِ احمر نے دعویٰ کیا کہ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے گرد اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں 700 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی شہریوں میں تازہ جھڑپوں کی ابتدا اس وقت ہوئی تھی جب مشرقی بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے وہاں بسنے والے چند فلسطینی خاندانوں کو بیدخل کرنے کی کوشش کی گئی۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فورسز نے 130 ٹارگٹس کو نشانہ بنایا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker