جبار مفتیکالملکھاری

جبارمفتی کا کالم:ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں ہے جناب!!

اس میں کوئی شک نہیں کہ 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کو جو حکومت ملی یا دلوائی گئی وہ ایک مشکل حکومت تھی۔ اکثریت صرف ایک صوبے خیبر پختونخوا میں ملی۔ پنجاب میں بااثر ٹیلی فون کالز اور جہانگیر ترین کے طیارے نے کام دکھا دیا ورنہ آزاد ارکان پنجاب اسمبلی اگر ن لیگ سے مل جاتے تو پنجاب میں ایک بار پھر ن لیگ کی حکومت ہوتی۔ بلوچستان میں حسب روایت سیاسی ملغوبہ تیار کیا گیا اور ایک حلیف حکومت تشکیل پا گئی۔ مشکل سے بنی حکومت نے مشکل حالات اور مضبوط اپوزیشن کے ہوتے ہوئے تین سال پورے کر لئے ہیں اور اس دوران بقول اس کے اپنے پی ٹی آئی نے سیاسی معرکے بھی مارے ہیں۔ پہلے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات جیت کر حکومت بنائی پھر آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات جیت کر نیازی حکومت بنالی۔ ان دونوں علاقوں پر قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں تھیں اور اس سے قبل جب اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو ان دونوں علاقوں میں پیپلزپارٹی کی حکومتیں تھیں۔ ان علاقوں کے ووٹر بہت سمجھ دار اور محب وطن ہیں۔ جس پارٹی کی حکومت اسلام آباد میں بن جائے اسی کی حکومتیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بن جاتی ہیں اور جب تک نہیں بنتیں اس وقت تک مرکزی حکومت کو زیادہ تنگ بھی نہیں کرتیں۔
یوں خارجہ محاذ پر کوئی سنجیدہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس بار بھی یہی ہوا ہے۔ ایک اضافی معرکہ سیالکوٹ کی صوبائی نشست پر ہوا ہے۔ یہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جبکہ قبل ازیں پنجاب میں ہونے والا کوئی ضمنی الیکشن حکمران تحریک انصاف نہیں جیت سکی تھی اس کامیابی کو تحریک انصاف کی کامیابیوں کا تسلسل سمجھا گیا اور یہ دعویٰ بتکرار ہونے لگا کہ اب سندھ کی باری ہے۔ جہاں عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تھی۔ سندھ کی دو سیاسی قوتیں متحدہ قومی موومنٹ اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) وفاق میں تحریک انصاف کی حلیف اور شریک اقتدار ہیں۔ یہ تینوں قوتیں مل کر سندھ میں فعال اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہیں دعویٰ یہ کیا گیا کہ آئندہ انتخابات میں یہ سیاسی حلیف مل کر واضح کامیابی حاصل کر لیں گے اور ملک میں ان کا اقتدار مکمل ہو جائے گا۔ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت مسلم لیگ (ق) اور آزاد ارکان کی مرہون منت رہی ہے۔ اس لئے جب بھی سپیکر صوبائی اسمبلی چودھری پرویز الٰہی حکومت کے موقف کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرتے تو صوبائی حکومت کے ڈانواں ڈول ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگ جاتیں حالانکہ ق لیگ کے قائد چودھری شجاعت حسین بار رہا پالیسی بیان دے چکے ہیں کہ ان کی پارٹی پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ اب تو مونس الٰہی کو وفاقی کابینہ میں شامل کر کے ایک اور وعدہ بھی پورا کر دیا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ میں ق لیگ کو دو وزارتیں دی جائیں گی۔
گلگت بلتستان، آزاد کشمیر میں حکومتیں بنانے پنجاب اسمبلی کا تازہ ضمنی الیکشن جتنے اور ق لیگ کا وعدہ خلافی کا اعتراض دور کرنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے سندھ کی طرف پیشقدمی کے اعلان کا دعویٰ بنتا تھا مگر پیپلزپارٹی بھی ٹھنڈے پیٹوں اس صورتحال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھی اس نے جوابی حکومت عملی کے طور پر یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ مقتدرہ اب تحریک انصاف سے مایوس ہو چکی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) سے وہ پہلے ہی ناراض ہے اس لئے ”اگلی باری فیر زرداری“۔ اس میں پیغام یہ تھا کہ پی ٹی آئی سندھ چھیننے کی بجائے وفاقی حکومت کی فکر کرے۔ پہلے قدم کے طور پر اس نے کراچی میٹرو پولیٹن کا سربراہ اپنی پارٹی کے تیز گفتار مرتضیٰ وہاب کو بنا کر کراچی میں گرفت مضبوط کرنے کا عندیہ دے دیا اور دوسرے قدم کے طور پر بلوچستان پر چڑھائی کر دی جہاں چیئرمین بلاول بھٹو کی موجودگی میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور سابق گورنر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے اپنے ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے دعویٰ کر دیا کہ بلوچستان کا آئندہ وزیر اعلیٰ جیالا ہوگا۔ یہ دعویٰ پورا ہوتا ہے یا نہیں اس کا انحصار سیاسی شطرنج پر کھیلی جانے والی چالوں پر ہے سردست تو ماحول بلاول کے دعوے سے ہم آہنگ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ متذکرہ دونوں رہنماؤں اور مقتدرہ میں ہم آہنگی پائی جا رہی ہے دونوں مسلم لیگ (ن) سے نالاں ہیں۔
دونوں رہنما صوبے کے سابق حکمران ہونے کے ناطے با اثر بھی ہیں اور اقتدار کی غلام گردشوں کے شناور بھی۔ بلوچستان اسمبلی میں طاقت کا توازن راتوں رات تبدیل ہونے کی روایت بہت گہری ہے۔ بلوچستان کا وزیر اعلیٰ تو ہر وقت تنی ہوئی رسی پر توازن برقرار رکھنے کی فکر میں ہوتا ہے۔ اس وقت بھی وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف صوبائی اسمبلی میں بغاوت کے آثار پائے جاتے ہیں۔ اشارہ فیصلہ کن انداز میں ہو گیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنتی ہے یا نہیں یہ کہنا ابھی مشکل ہے تاہم پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کی سندھ میں جارحانہ پیش قدمی کا جواب اس طرح دے دیا ہے کہ اس نے اس کی ایک حلیف صوبائی حکومت کے لئے خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ نواب ثناء اللہ زہری اور جنرل (ر) عبدالقادر کی شمولیت سے حکومت تو شائد نہ گرے آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو ایک اہم کھلاڑی بننے کا موقع مل سکتا ہے۔ غالباً پی پی قیادت کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ کسی کی ”منظور نظر“ ہونے کا جو تاثر دے رہی ہے اس کو تقویت ملتی رہے اور جو سیاسی عناصر ”ہوا کے رخ“ پر پرواز کے خواہشمند ہیں ان کو پیپلزپارٹی ہی ”کامیاب ایکسپریس“ نظر آئے اور وہ دھڑا دھڑ سوار ہو کر پیپلزپارٹی کو کھوئی ہوئی سیاسی اہمیت لوٹا دیں۔
پی پی کی اگر یہی خواہش ہے تو یہ قابل اعتراض نہیں سیاست کے میدان کے ہر کھلاڑی کا حق ہے کہ وہ عوام میں پذیرائی بڑھا کر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھے البتہ یہ قابل تشویش کہلا سکتی ہے تحریک انصاف کی قیادت کے لئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے عالی دماغ پیپلزپارٹی کی اس پیشقدمی کو روکنے اور ایک صوبائی حکومت کی ممکنہ مشکلات کو کم کرنے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی سامنے لاتی ہے یا خلائی مدد کا انتظار کرے گی۔؟ آئندہ انتخابات میں اگر بلوچستان اور سندھ میں تھوڑی انیس بیس بھی ہو جائے تو حکومت بنانے کا زیادہ انحصار حسب سابق پنجاب پر ہی ہوگا جہاں اب بھی پی ٹی آئی کو مسلم لیگ (ن) کے سخت مقابلے کا سامنا ہے جبکہ ق لیگ واضح کر رہی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں بھی اپنا الگ تشخص برقرار رکھے گی اور انتخابات کے بعد ہی بات کرے گی، جس سے بھی کرنا ہو گی۔ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کو پنجاب میں الیکٹ ایبلز پر زیادہ توجہ دینا ہو گی۔ اقتدار میں رہتے ہوئے یہ کام قدرے آسان ہوتا ہے اس لئے اب ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker