خواجہ سرا کی زندگی یوں تو پوری دنیا میں ہی قابل رحم اور انتہائی تحقیر آمیز ہے لیکن ہمارے ملک پاکستان میں تو ان بیچاروں کی زندگی بعض حالتوں میں جانوروں سے بھی بدتر ہوتی ہے کیونکہ اب تو پوری دنیا میں۔ اور ہمارے ملک پاکستان میں لوگ جانوروں پر بھی لاکھوں روپیہ خرچ کر کے اپنے شوق کی تکمیل کرتے ہیں۔پہلے تو شادی بیاہ یا سالگرہ کے فنگشنوں پر خواجہ سرا آتے تھے بلکہ دھڑلے سے آتے تھے اور ناچ رنگ سے پیسہ کماتے تھے لیکن اب تو یہ جگہ بھی پیشہ ور عورتوں نے لے لی ہے اور ذہنی سوچ بدل جانے کی وجہ سے ان بیچاروں کو پنڈال میں داخل بھی نہیں ہونے دیتے ۔کبھی لوگوں کی سوچ یہ بھی کہ ان کی دعاؤں سے بہت کام ہوتے ہیں۔اس لئے ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔اب نئی پود ان کو پسند ہی نہیں کرتی اور کبھی وہ خوشی کی خبر سن کر خوشخبری دینے ہیں تو گیٹ بند کر لئے جاتے ہیں۔
مجھے یاد ہے میری بیگم (مرحومہ) ان کے لئے الگ سے حصہ رکھتی تھیں اور جب بھی کوئی خواجہ سرا آتا تو اسے مایوس نہیں کرتی تھیں۔اور خاص طور سے ان کو جو ناچ گا کر پیٹ کا ایندھن نہیں بھر سکتے تھے۔اور اب بھی کبھی کوئی بھولا بسرا آ جائے تو کوشش ہوتی ہے اسے مایوس نہ لوٹایا جائے ۔
شاید یہ وجہ بھی ہے کہ اب خواجہ سرا اس توہین اور ذلت آمیز ز ندگی سے نکلنے کی تگ و دو میں ہیں۔آ ج میں ایک ایسے خواجہ سرا کا ذکر کرنے لگا ہوں جس کا تعلق ہمارے ملک پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے اور تیسری خواجہ سرا ہیں جنہوں نے ایم فل کیا ہے اور بڑی کوششوں ، مشکلات اور قانونی جنگ لڑنے کے بعد گورنمنٹ کالج میں بطور لیکچرار تعیناتی ہوئی ہے۔ان کا نام مس فیضی ہے۔
"مس فیصی جسنہیں ان کے گھر والوں نے ٹھکرا دیا تھا۔کچھ دیر وہ روایتی خواجہ سراؤں کے ماحول میں رہیں ۔اور ناچ گانے کا کام کرتی رہیں لیکن تعلیم حاصل کرنے کی لگن نے دو بارہ انہیں تعلیمی ماحول سے جوڑ دیا ۔۔۔
تن تنہا اپنے بل بوتے پر مشکلات کا مقابلہ کیا ۔کپڑے سیتی رہیں ،خواتین کے ملبوسات تیار کرکے گزارا کیا ۔اور ساتھ ساتھ تعلیمی مدارج بھی طے کئے اور دوسرے لوگوں اور خصوصاً اپنے ساتھی خواجہ سراؤں کے لئے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کے عزائم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
کاش ہم خواجہ سراؤں کے اندر کے دکھ درد اور احساسات اور جذبات کو جانتے ہوئے ان کے لئے آسانیاں پیدا کر سکیں اور انہیں عزت سے ذندہ رہنے کا حق دیں۔۔۔۔۔۔۔۔بس یہی بات سوچنے کی ہے ۔۔۔۔کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارا رخ کدھر ہے ۔
فیس بک کمینٹ

