ایم ایم ادیبکالملکھاری

سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار۔۔ ایم ایم ادیب

عمارت کوئی بھی ہو،کیسی بھی ہو،اس کا ڈھانچہ نامستحکم بنیادوں پر کھڑا کیا جائے،توعمارت گر جاتی ہے،منہدم ہوجاتی ہے،اس کا نقصان فقط ایک عمارت کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ بہت سارے اور نقصانات کا بھی شاخسانہ بنتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان نامستحکم سیاسی نظام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اس لئے ایک قلیل مدت بعد دو لخت ہوگیا،
مان لیا،مگر دونوں حصوں کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ایک حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہے اور ایک حصہ صحیح سلامت،شادو آباد،یہ قسمت کا کھیل نہیں،ہنر مندی کی بات ہے،حسنِ انتظام کا شاخسانہ ہے۔ہم کتنے بے بس،بے کس اور لاچار ہیں کہ مختلف اداروں اور شخصیات کے رحم و کرم پر جی رہے ہیں،کرونا ہمیں کیا مارے گا،ہم اپنوں کے ہاتھوں کچلے جارہے ہیں،ہمارے سیاسی نظام کا ڈھانچہ نا مستحکم سہی،ہمارا سماجی نظام بے راہ روی کا مرقع سہی،ہمارا تعلیمی نظام بے سروپا سہی،کم از کم ہمارے عدالتی نظام کا ڈھانچہ تو مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہوتا!
وائے بد نصیبی کہ یہ بھی دنیا بھر کے کمزور ترین فیصلے لکھنے والے ملکوں میں سر فہرست ہے۔ہزاروں کی تعداد میں سپریم کورٹ میں بِن سنائے فیصلے فائلز میں پڑے اونگھ رہے ہیں،لاکھوں مقدمات ہائی کورٹس میں منت کشِ فیصلہ پڑے ہیں اور لوئر عدالتوں میں جتنے مقدمات فیصلوں کے منتظر پڑے ہیں ان کا تو شمار ہی مشکل ہے۔
زمانہ جہالت میں کسی قبیلے کے چشمے سے دوسرے قبیلے کا گھوڑا پانی پی لیتا تو اس معمولی سی بات پر دونوں قبیلوں کے بیچ بیسیوں برس جنگ جاری رہتی،کئی کئی نسلیں تاخت و تاراج ہوجاتیں،لڑائی پھر بھی جاری رہتی،آج اس جدید ترین دور میں ہماری عدالتیں بعض مقدمات کے فیصلوں کو اتنا طول دیتی ہیں کہ زمانہ جہالت بھی ان کے آگے شرمندہ ہے اورکچھ فیصلے ایسے ہیں جن کی طوالت ہی ملزمان کے لئے سزا بن جاتی ہے۔ہاں مگر عدالتیں اپنی مرضی کی آپ مالک ہیں،ان پر یا ان کے فیصلوں پر رائے زنی کرنا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
معصوم بچوں کی پورنوگرافک فلمز بنانے کے مکروہ دھندے میں ملوث شخص کا مقدمہ تین ہی سال میں لگ جائے اور ملزم کے خلاف اندرون اور بیرون ملک سے شہادتیں بھی مل جائیں تو اسے ضمانت پر رہا کردیا جائے۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں،عدالت جانے،وکیل استغاثہ جانے یا وکیل صفائی،ہم تو قصور کی معصوم بیٹی کی بے حرمتی پر مجرم کی تعذ یر بارے بھی چپ سادھ گئے،مقدمہ ساہیوال کے مجرموں کی بریت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا کہ منصف کے سامنے بولنے کی کسے جرأت۔( یہ تحریر لکھنے کے دوران اس کیس میں عدالت نے سجدہ سہو کر لیا ہے ) یہ خلافت راشدہ کا دور تو نہیں کہ ایک بدو عورت خلیفہ عمرؓ سے ان کے کرتے کے بارے میں سوال کر ڈالتی ہے اور خلیفہؓ سر نیوہڑائے اپنے فرزند سے کہے بتاؤ کیا ماجرا ہے؟
یہاں کا تو معاملہ ہی کچھ اور ہے،ملک کی سب سے بڑی عدالت کے منصف فرمان جاری کرتے ہیں کہ ”شاپنگ سینٹرز، مال پلازے اور چھوٹے کاروباری مرکز کھول دیں کہ غریب بے روزگاری کے ہاتھوں مرجائیں گے“۔اب اتنے مقام و
منصب پر براجمان منصفِ کبیر کو کوئی یہ بتانے کی جسارت کیسے کر سکتا ہے کہ عالی جاہ! بھوک سے تو چھبڑی والا مررہاہے، یا دیہاڑی دار مزدور،جس کے پاس نہ آٹے،چینی اور گھی کے لئے پیسے ہیں نہ تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے لینے کی استعداد۔جن کے پاس روپے پیسے کی کمی نہیں وہ گھر بیٹھے آن لائن کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر دنیا کی ہر چیز منگوارہے ہیں،کرونا ان کا کیا بگاڑ سکتا ہے ان کی بلا سے بازار کھلیں یا سدا بند رہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ فائلز میں پڑے فیصلے چھوڑ کر عدالتیں از خود ان امور پر فیصلے صادر فرمانے لگی ہیں جو ان کے دائرہ کار میں ہیں بھی یا نہیں اور اگر یہ فیصلے بھی عدالت عظمیٰ نے اپنے اختیار میں لے لئے ہیں تو حکومتیں کس درد کی دوا ہیں، ان کے اختیارات کہاں سے شروع ہوتے ہیں او ر عدالتوں کے کہاں سے؟سنا تو یہ تھا کہ آئینی بحران پر عدالتیں از خود نوٹس لیکر ملک وقوم کی خیر خواہی میں ایسے اقدامات پر مجبور ہوسکتی ہیں،یہاں گنگا الٹی کیوں بہنے لگی ہے؟ حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بے مصرف ہونے والے اجلاس منصف اعظم کو کیوں دکھائی نہیں دیئے جن کے ذریعے ممبران نے کروڑوں کی عیدی بنائی،ایسی عیدی افتادگان خاک کو دیئے جانے کے احکامات صادر ہوتے تو پوری قوم معظم و محترم منصف کے حق میں دعاؤں کی جھولیاں بھر بھر پیش کرتی ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker