اختصارئےسندھکبیر بھیلگلگت بلتستانلکھاری

ہم بھاشا ڈیم کے مخالف کیوں ہیں؟۔۔ حیدر ملاح/ ترجمہ : کبیر بھیل( قسط1 )

بھاشا ڈیم کیا ہے؟
بھاشا ڈیم کی جگہ گلگت بلستستان کے شہر چلاس کے نزدیک ہے۔یہ زلزلوں کا زون تصور کیا جاتا ہے۔اس علاقے سے ہی شاہراہ قراقرم کے 142 کلو میٹر رستے کا گذر ہوتا ہے۔ جس ذریعے چین سے معاشی سرگرمی جاری رہتی ہے۔یہ ڈیم 220 مربع کلومیٹر کی اراضی گھیرتا ہے اور مشرق میں ایک سو کلو میٹر تک پانی ذخیرہ کرے گا۔
اس منصوبے کے مکمل ہونے سے 35 ہزار مقامی لوگ ہجرت کرینگے۔بھاشا ڈیم پانی جمع کرنے کا ڈیم ہے۔عام طور پر ہمارے ملک میں ڈیموں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے گویا ڈیم پانی پیدا کرنے کے ذرائع ہیں۔بھاشا ڈیم پر سستی بجلی پیدا کرنے کے لیے دو یونٹ لگائے جائیں گے۔ہر یونٹ سے 560 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔بھاشا ڈیم 6 ملین ٹ پانی رکھنے کا ڈیم ہے۔بھاشا ڈیم کالاباغ کی سائیٹ سے 40 کلومیٹر اوپر ہے جہاں سے کوئی نہر نہیں نکل سکتی ۔بھاشا ڈیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سیلاب والے حالات میں بھاشا پانی سے بھر جائیگا ۔یہ ممکن اس لیئے بھی ہے کہ بھاشا ڈیم پانی جمع کرنے کے ساتھ سستی بجلی پیدا کرنےوالا ڈیم ہے اس لیے اس کو ہر حا ل میں بھرا جائیگا ۔سندھو دریا کا سالانہ بھراء پانچ کروڑ ایکڑ فٹ ہےجس میں 75 لاکھ ایکڑ فٹ پانی یہ ڈیم ذخیرہ کے ذرائع روکنے کے اہل ہوگا۔
بھاشا ڈیم کو بنانے کا بجٹ14 ارب ڈالر ہے یہ اندازہ 2011 کا ہے۔جب کہ ڈیم بنانے کے لیے لازمی مٹیریل کی قیمت میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے لیے امکان ہے کہ اس ڈیم کا بجٹ 14 ارب روپیوں سے اوپر جائے گا ۔ بھاشا ڈیم کی ابتدائی تعمیر کی دو ادوار میں کوشش کی گئی
( 1)پہلی بار تعمیرات جنرل مشرف دور 2006 میں کی گئی۔
(2 )بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور 2004 میں کی لیکن لازمی رقم نہ ہونے کی وجہ سے ڈیم پر کام نہیں چل سکا۔ابھی چیف جسٹس کی ڈیم فنڈ جمع کے ذریعے تیسری دفعہ بھاشا ڈیم کو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔چیف جسٹس کے ساتھ اب اس مہم میں ملک کا وزیراعظم بھی شامل ہو گیا ہے۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker