اہم خبریں

کابل کی مسجد میں‌دھماکے سے مرنے والوں کی تعداد 21 ہو گئی

کابل : افغانستان کے دارالحکومت کابل کی پولیس کا کہنا ہے کہ ایک پُرہجوم مسجد میں ہونے والے بڑے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق اس دھماکے میں 33 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بدھ کی شام یہ دھماکہ اُس وقت ہوا جب مسجد میں نمازِ مغرب جاری تھی۔ رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں مسجد کے پیش امام بھی ہلاک ہوئے ہیں۔تا حال غیر واضح ہے کہ دھماکے میں کون ملوث تھا۔ ایک ہفتہ قبل نام نہاد دولت اسلامیہ نے کابل میں ہی ایک خودکش دھماکے میں طالبان کے حامی عالم کو قتل کیا تھا۔
سکیورٹی حکام نے شہر میں اس مقام کو سیل کر دیا ہے جہاں دھماکہ ہوا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ مسجد کے قریب بہت سے عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’میں نے دیکھا کہ کئی لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ حتی کہ لوگ مسجد کی کھڑکیوں سے باہر گرتے نظر آئے۔‘طبی امداد کی فلاحی تنظیم ایمرجنسی کے سربراہ سٹیفانو سوزا شہر میں ایک مرکزی ہسپتال چلاتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے 35 افراد کو طبی امداد دی ہے جن میں بچے بھی شامل تھے۔
افغانستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران بہت سے علمائے دین کو ٹارگٹ کر کے ہلاک کیا گیا ہےاُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ڈاکٹروں نے ساری رات ایسے مریضوں کے آپریشن کیے جنھیں فوری سرجیکل مدد کی ضرورت تھی۔ کئی زخمیوں کے جسم میں شیلز داخل ہو چکے تھے اور متاثرین کے پورے جسم پر جلنے کے زخم تھے۔‘
ان کا خیال ہے کہ دھماکہ مسجد کے اندر ہوا۔ سٹیفانو سوزا کا کہنا ہے کہ ’شاید کوئی نماز کے وقت مسجد میں داخل ہوا۔ اس لیے جس وقت (حملہ آور) نے جسم کو جلا دینے والی امپروائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس کا بٹن دبایا تو اس دوران وہاں بہت زیادہ لوگ موجود تھے۔‘
’اسی وجہ سے حملہ آور کے قریب جتنے بھی لوگ تھے وہ ہلاک ہو گئے اور باقیوں کو چوٹیں آئیں۔‘
مسجد پُرہجوم جبکہ دھماکہ شدید نوعیت کا تھا۔ عین ممکن ہے کہ دولت اسلامیہ کی نظر ایک اور مذہبی رہنما کی طرف ہو گی۔ اب لگتا ہے کہ دولت اسلامیہ طالبان کی سب سے بڑی دشمن بن کر اُبھر رہی ہے۔گذشتہ ماہ کے دوران کابل میں تین معروف مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور دیگر شہروں میں بھی قتل کے چند واقعات رونما ہوئے۔
گذشتہ ہفتے طالبان کے قریبی سمجھے جانے والے شیخ رحیم اللہ حقانی نشانے پر تھے۔ اس کے بعد اعتدال پسند صوفی عامر محمد کابلی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker