2018 انتخاباتاختصارئےکاشف رفیقلکھاری

جمہوریت چلے گی تو باری ملے گی : چَنگی گَل/ کاشف رفیق

13 اگست 2018 بروز سوموار پاکستان کے جمہوری ادوار میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ اس دن سے قبل کبھی ٹیکنوکریٹ کی حکومت کا شوشہ چھوڑا گیا تو کبھی بوٹوں کی آواز کی دھڑ دھڑ سنائی دینے کا واویلا کیا گیا پہلےسیاستدانوں کو غدار وطن کےفتوو ں سے نواز گیاپھرپلان کر کے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا پراپیگنڈا بھی سُنایا گیا۔سیاستدانوں کو گِدھوں کی مانند استعمال کیا گیا اور جمہوری پہلوانوں کو نااہل ،چور،ہٹ دھرم،ملک دشمن اور تمام خرابیوں کا ذمہ دار بھی ٹھہرانے کی کوشش کی۔۔اور یہ سب کرنیوالے مفاد پرست سیاسی شعبدے باز اور اُن کے آلہ کار تھے ۔۔جبکہ کمزور سیاسی کھلاڑیوں کو شعبدے بازوں
نے یہ راگ خلائی مخلوق کے نام سے منسوب کرکے سنائے۔۔۔ اور یہ تاثر دیا کہ شاید وہی سب سے زیادہ مقتدر قوتوں کے قُرب میں ہیں ۔۔۔۔حالانکہ اِن سیاسی پراپیگنڈا مشینوں کی تردید ہر چند کی گئی۔۔لیکن بغیر الیکشن لڑے وزارتوں اورجھنڈوں کا لالچ کچھ بھی کروا سکتا ہے۔۔تمام تر خواہشیں،سازشیں،کاوشیں بے سود ٹھہریں۔۔2013 کی اسمبلیوں نے مدت بھی پوری کی اور انتخابات بھی ہوگئے۔۔۔آج تو حلف بھی اُٹھا لیا گیا۔۔۔اب نئے جمہوری دور کا آغاز ہوچکا۔۔۔جمہوریت کی ریل کو پٹری پر رکھنے میں آصف زرداری،نواز شریف مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی،میر حاصل بزنجو،ایم کیوایم پاکستان،اختر جان مینگل،اسفند یار ولی اور عمران خان نے بہت برداشت بھی کیا اور صبر بھی۔اب اِن اکابرین سےگزارش ہے کہ اس جمہوریت کو ‘‘انا’’ کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں۔۔کیونکہ جمہوریت چلے گی تو باری بھی ملے گی۔۔اگر تیسرا دور مکمل ہوگیا تو سمجھیں ملک مضبوط اور ترقی یافتہ ہوگیا ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker