اختصارئےکاشف رفیقلکھاری

تحریک انصاف پرلادا گیا بوجھ : چنگی گل / کا شف رفیق

عمران خان کی مستقل مزاجی اور انتھک محنت،پاکستان کے نظام کو بدلنے کی جستجو،ناانصافی کے خلاف آواز کو بلند کرنے کے عمل نےتحریک انصاف کو اس جگہ پر پہنچایا کہ ہر سیاسی نظریاتی یا مفاداتی،پرانا یا نیا،شہری یا دیہی،ریٹائرڈ فوجی یا صحافی،ٹیکنوکریٹ یا بیورکریٹ سب کسی نہ کسی طور کپتان کے کھلاڑی بننے کو تیار ہیں۔۔۔پرانے لوگوں کو اپنی ٹکٹ کی امیدیں ہیں تو نئے لوگوں کی کوئی اور شرط ہے! ہر روز کوئی نہ کوئی سیاسی شخصیت عمران خان سے دو رنگی پارٹی جھنڈا گلے کا ہار بنا کر تحریک انصاف کے نظریے اور کپتان کے گیت گاتی نظر آتی ہے۔۔۔اس سیاسی بدلاؤ کے موسم کو دیکھتے ہوئے گزشتہ روز بھائی جی سے ملاقات کرنے گیا۔۔۔خلاف معمول موصوف کا مزاج خوشگوار تھا موقع غنیمت جان کر پوچھا کہ آجکل تو کپتان پر بہاریں ہیں ہر روز کٹی پتنگیں بنی گالہ کے آنگن میں گر رہی ہیں نجانے ہوا مہربان ہے یا کوئی اور۔۔۔؟ میری بات کے جواب میں بھائی جی مسکرائے اور بولے کہ کاشف کبھی تم نے گدھے کو بوجھ اُٹھا کر چلتے دیکھا ہے میں نے حیرانگی سے کہا کہ کیا مطلب؟کہنے لگے سنو جب گدھا اپنے اوپر بوجھ لاد کر مالک کی بتائی ہوئی سمت چلتا ہے تو کبھی کبھی بوجھ کی زیادتی سے راستے میں منزل سے پہلے ہی بیٹھ جاتا ہے اور کبھی کبھی تو بوجھ تلے دب جاتا ہے۔۔۔یہ بات کہہ کر بھائی جی ذرا خاموش ہوئے تو میں نے پوچھا اس بات کا کپتان سے کیاتعلق؟تو بھائی جی بولےارے بدھو!تم سیاسی لوگوں کی آمدکو دیکھ رہے ہو،،ذرا یہ سوچو کہ جس طرح ن لیگ کے مفادپرست خان پر نچھاور کیے جا رہے ہیں کل ان کی ٹکٹوں کے معاملے پر وبال بھی اتنا زیادہ ہوگاپھرپارٹی میں لڑائیاں بھی اُسی شد و مَد سے ہوں گی۔۔ اورجو پانچ سال نواز کو اپنا گرو مانتے رہے کیاوہ کپتان کاساتھ دیں گے!مجھےتو خوف آرہاہے کہ کہیں عمران اس مفادی بوجھ تلے دَب نہ جائےکیونکہ اس وقت تحریک
انصاف پر دھڑا دھڑ بوجھ لادا جا رہا ہے۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker