کاشف رفیقکالملکھاری

بھارت یاد رکھے ۔۔چنگی گل/کاشف رفیق

ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ وشواناتھ کا کہنا تھا کہ اگر فوج حملہ کرنے کے لیے تیار نہیں تو احمقانہ جوش کا کوئی فائدہ نہیں لیکن وزیردفاع کرشنا مینن اس بات پر باضد تھا کہ چین کو واپس دھکیلا جائے جبکہ بھارتی آرمی چیف جنرل پی این تھا جو فوج کی مخدوش حالت پر نوحہ کناں تھا اس اثناء میں کابینہ کے سیکرٹری کھپرا دھاڑے کہ اگر چین پر جوابی حملہ نہ کیا گیا تو حکومت گر جائے گی اور نہرو ایوان میں کہہ چکے تھے کہ بھارتی آزادی کے بعد سے آج تک دفاع اتنا مضبوط نہیں جتنا کہ چین کے حملے کے وقت ہے… ان تمام چالاکیوں کے باوجود تھاپر جنگ نہ کرنے کی دلیلیں دیتا رہا یہاں تک کہ بھارتی اسلحہ ناکافی اور ناقابل استعمال ہونے کی بھی کہانی سنائی لیکن مینن کسی صورت کوئی دلیل ماننے کو تیار نہیں تھا جبکہ نہرو اس بات پر یقین ِمحکم کیے ہوئے تھا کہ چین ہمارے حملے کے جواب میں کبھی ردعمل نہیں دے گا ،اورنہرو نے تھاپر کو اسی امر کی یقین دہانی کروائی ،اس دلیل کے بعد تھاپر نے چینی فوج جوکہ 4000 مربع میل بھارتی حدود میں داخل ہوچکی تھی کے مقابل اپنی چوکیاں لگانا شروع کی ہی تھیں کہ چینی فوج نے 20اکتوبر 1962 صبح پانچ بجے پہلا حملہ مشرقی سیکڑپر کیا اور سات بجے لداخ پر چڑھائی کردی بس پھر تو بھارتی چوکیاں ہوا میں اور فوجی پریشان حال تھے یہ صورت حال اس قدر غیر متوقع تھی کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا بس پھر دوبارہ ایک ہائی لیول میٹنگ کی گئی جس میں بھارتی فوج کی چالیس میل پیچھے پیش قدمی کی تجویز دی گئی لیکن مینن نے طنزیہ کہا کہ کیوں نہ بنگال آکر رُوکا جائے؟ نہرو کے لیے یہ ایک بڑاصدمہ تھا جب کہ تھاپر بھی پریشان حال تھا کہ کیسے فوج کو وہاں سے نکالا جائے اور اس بے عزتی سے چھٹکارا پایا جائے؟
چینی فوج کی پیش قدمی کی اصل دلیل تقسیم کے وقت کے نقشے تھے جس میں چینی سرحد آسام کیساتھ دکھائی جاتی تھی یہ وہ نقشے تھے جو کہ بھارتی وزارت داخلہ و دفاع میں موجود تھے لیکن ان نقشوں کو ضائع کرنے کے احکامات کیساتھ ساتھ آسام سے ملحقہ سرحد ی لائن کو بھی مٹانے کی کوشش جاری تھی دوسری جانب چینی فوج کی پیش قدمی بھی پورے زورو شور سے جاری تھی جس کو رُوکوانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کردیا گیا تھا اسی معاملے پر امریکی صدر کینڈی سے مدد مانگی گئی یاد رہے کہ بھارتی تاریخ میں پہلی باضابط دفاعی مدد تھی جو امریکہ سے مانگی گئی بھارتی سفارتکار نے کینڈی کوبتایا کہ چینی افواج کو رُوکنے کے لیے اسلحہ درکار ہے جس پر امریکی افسر نے ایک تاریخی جملہ کہا کہ چرچل کے پاس عملا ہتھیار نہیں تھے لیکن اُس نے پھر بھی جنگ جیتی اور تمیں د نیا جہان کا اسلحہ چاہیے جبکہ تم پسپا ہورہے ہو!دوسری جانب مینن چین کو آمادہ کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ وہ 7نومبر1959 والی پوزیشن پر واپس آجائے تو چین کے حق کو تسلیم کیا جاسکتا ہے جبکہ اکسائی چین کی لیز پر بھی بات ہوسکتی ہے لیکن کابینہ اس بات پر تیار نہ ہوئی،اس اثناء میں شاہ ایران نے جنرل ایوب کو خط لکھا کہ وہ چین کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دے لیکن ایوب خان نے جواب میں کہا کہ یہ تعاون کافی نہیں ہے کہ ہم بھارت کی کمزور پوزیشن کے باوجود حملہ نہیں کررہے! چینی پیش قدمی نے یہ خدشہ پیدا کردیا کہ آسام بھی بھارت کا حصہ نہیں رہے گا جس پر نہرو اور رفقاء کار شدید پریشان تھے لیکن نجانے کیا معجزہ ہوا کہ چین نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا یوں بھارت کی جان بخشی ہوئی اور تھاپر نے شکست کے پیش نظر استعفٰی دینے کی پیشکش کی جس نے نہرو کو سیاسی طور پر کچھ حوصلہ دیا لیکن اس جنگ کے محرکات اور حقائق جاننے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی جس میں جنرل ھینڈرسن بروکس اور بریگیڈیر پریم بھگت تھے لیکن آج تک وہ رپورٹ باہر اس لیے نہیں آئی کہ اُس میں ذمہ داری نہرو پر بھی عائد ہوتی ہے۔ان باتوں پر بھارتی میڈیا جھوٹا واویلا کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق کلدیپ نائر کی کتاب”ایک زندگی کافی نہیں”سے کر لے تو بہتر ہوگا۔یہ حقائق بھارت چین پہلی جنگ کے ہیں اور اب چین نے دوبارہ بھارتی علاقے لداخ پر قبضہ کرلیا ہے کیونکہ لداخ چین ،بھارت کے درمیان واحد راستہ ہے جس کے بغیر اکسائی چین اور سیاہ چین کی سپلائی ممکن نہیںجبکہ پاکستان کا ایک دریا بھی براستہ لداخ پاکستان میں آتا ہے اگر بھارت کے پاس لداخ کا علاقہ نہیں رہتا تو سیاہ چین کی سپلائی خاصی دشوار بلکہ ناممکن ہوجائے گی۔۔جبکہ چین اکسائی چین اور بھارتی شر انگیزیوں سے بخوابی واقف ہونے کے باعث یہاں پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتا ہے یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اگر چین 1962 میں بھارت پر حملہ نہ کرتا تو اُس وقت کے وزیر دفاع کرشنا مینن پاکستان پر حملے کی راہ ہموار کررہے تھے اور اِس وقت بھی بھارت آزاد کشمیر پر شرانگیزی کا پلان بنا رہا ہے لیکن چین نے لداخ میں اپنے فوجیوں کو بھیج کر پاکستان کی جانب سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ۔
دوسری جانب بھارت اور چین کے درمیان سرحدی نقشے کا تنازعہ حل طلب ہے جبکہ بھارت مسلسل ہٹ دھرمی سے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانے پر باضد ہے اس صورتحال میں بھارت کو دونوں محاذوں پر مصروف رکھنا ہی احسن جنگی حکمت عملی ہے۔۔کیونکہ بھارت میں آر ایس ایس کی ذہنیت سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے اب نہ تو بھارت سیکولر ملک رہا ہے اور نہ ہی وہاںاخلاقیات کا درس ملتا ہے تاہم چین کی جانب سے پیش قدمی سے بھارت کے عزائم اور ظلم کم ہونے کی توقع ضرور ہے،رہی بات بھارتی جنگی جنون کی تو مجھے یقین ہے ماضی کی طرز پر بھارت کبھی چین سے نہیں اُلجھے گا بلکہ سفارتی محاذ پر اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرے گا چاہے اُسے امریکہ یا کسی بھی ملک سے مدد مانگنی پڑے ۔کیونکہ چینی فوج اپنے اہداف طے کرچکی ہے اور اگر بھارت نے زیادہ گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو شاید چینی فوج کی بریک آسام کے پاس جاکر لگے۔رہی بیچاری بھارتی شہریوں کو پراپیگنڈے کے ذریعے بہلایا جارہا ہے کیونکہ عوام کو حقائق معلوم ہوگئے تو مودی سرکار کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوٹ جائے گا، مقبوضہ وادی کے معاملے پر بھارتی ہٹ دھرمی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی اور نہ ہی مقبوضہ علاقے بھارتی کالونیاں تصور ہونگے مقبوضہ وادی پر ناجائز قبضے کا کھیل بھارت نے شروع کیا لیکن اس کا اختتام چین کرے گا جبکہ اس بارآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کمزور بھارت پر ترس نہیں کھائیں گے۔اس لیے مودی سرکار کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے اس معاملے کو سُلجھا لو اور پاکستان سے” خبردار دُور رہو “اسی میں خطے اور سب کی بھلائی ہے!!
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker