خالد مسعود خانکالملکھاری

بے کار مباش کچھ کیا کر۔۔خالد مسعودخان

سچ پوچھیں تو دنیا میں سب سے مشکل کچھ نہ کرنا ہے اور آج کل یہی صورتحال در پیش ہے۔ میرا حال تو تقریباً تقریباً عینک والے جن والا ہو چکا ہے اور اس کا مشہور جملہ بار بار ذہن میں گونجتا ہے کہ ”مجھے کام بتاؤ‘ میں کیا کروں؟ میں کس کو کھاؤں؟‘‘ کام کی کثرت بھی مشکل شے ہے لیکن کام نہ ہونا تو عذاب ہے۔ خدا جانے وہ کون سے با ہمت اور جرّی لوگ ہیں جو کام کے بغیر زندگی سہولت سے گزار لیتے ہیں۔ ان دنوں میں وہ کام کر رہا ہوں جو وقت کی قلت‘ روایتی سستی اور ترجیحات کی بدولت ہو نہیں پا رہے تھے۔ یہ جو میں نے درمیان میں ”سستی‘‘ کی بات کی ہے تو اس سے مراد روایتی سستی اور کاہلی نہیں جس کے باعث آپ کا دل ہی نہیں کرتا کہ کوئی کام کیا جائے‘ بلکہ اس سے مراد وہ سستی ہے کہ اچھا پہلے یہ کام کر لیں پھر یہ والا بھی کر لیں گے اور اسی ” کر لیں گے‘‘ کے باعث وہ کام ہو نہیں پاتا۔ بعض کام تو محض اس لیے مؤخر کرتا رہا کہ وہ کام نسبتاً بوریت بھرے تھے اور ایک کام تو ایسا تھا کہ تین ، چارسال سے To do کی لسٹ میں تھا‘ مگر ہو ہی نہیں پا رہا تھا۔ یہ کام لائبریری کی صفائی تھا۔
جب گھر خریدا تو نیچے والی منزل یعنی گراؤنڈ فلور پر تین بیڈ روم تھے۔ ان میں سے سب سے چھوٹا بیڈ روم اپنی اہلیہ کی اجازت سے (منت ترلے کر کے) لائبریری بنانے کے لیے وقف کروا لیا۔ پھر کارپینٹر کو بلایا اور الماریاں بنوانی شروع کر دیں۔ تین بار شفٹنگ میں ادھر سے اُدھر آنے والی کتابیں جو سارے گھر میں مہاجروں کی طرح بکھری پڑی تھیں اکٹھی کیں اور انہیں لائبریری میں ترتیب سے رکھنا شروع کیا۔ ترتیب کے لیے ابا جی مرحوم سے مشورہ کیا۔ ساری عمر لائبریرین کے فرائض سر انجام دینے والے ابا جی نے دو تین دن لگا کر لائبریری کو بالکل سیٹ کر دیا۔ الماریوں اور ان میں بنے ہوئے خانوں کو نظم‘ نثر‘ سفرنامہ‘ مزاحیہ ادب‘ تاریخ‘ ناول‘ افسانہ‘ قرآن و حدیث اور اسی طرح دیگر موضوعات کے مطابق کتابوں سے بھر دیا۔ ساری الماریاں بھر گئیں‘ لیکن کچھ کتابیں بچ گئیں۔ ان کتابوں کو دہری لائن میں یعنی آگے پیچھے لگا کر الماریوں میں سجا دیا گیا اور معاملہ دو تین سال اسی طرح چلتا رہا کہ کتابوں کو آگے پیچھے کر کے گزارا کیا جاتا رہا۔
پھر صورتحال اس طرح خراب ہونا شروع ہوئی کہ کتاب خریدنے کی ”ہڑک‘‘ تو جاری رہی اور لائبریری کی الماریوں میں جگہ نہ رہی۔ اب چھانٹی کا مرحلہ شروع ہوا اور سو ڈیڑھ سو کتابوں کو چھانٹی کر کے الگ کیا۔ انہیں کارٹن میں بند کیا اور ایک لائبریری کو عطیہ کر دیا۔ حالات تھوڑے ٹھیک ہو گئے اور لائبریری کی شکل دوبارہ سے اچھی نکل آئی۔ لیکن کب تک؟ نئی کتابیں آتی رہیں اور لکھنے والی ڈیسک پر‘ کمپیوٹر والی میز پر‘ اس میز کے نیچے زمین پر‘ ایک طرف کونے میں اور الماریوں میں کتابوں کے اوپر بچی ہوئی جگہ پر گھسائی جاتی رہیں۔ لائبریری میں وہ بے ترتیبی آتی گئی کہ الامان۔ پہلے خیال تھا کہ اسے ٹھیک کرنا کون سا مشکل کام ہے لیکن جوں جوں کام بکھرتا گیا توں توں جی گھبراتا گیا۔ چھوٹی بیٹی نے لائبریری کی حالت ِزار دیکھ کر ایک دو بار صفائی کا اعلان کیا مگر میں نے اسے روک دیا کہ وہ کتابوں کو اس ترتیب سے نہیں رکھ پائے گی جس حساب سے لائبریری میں کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معاملہ بالکل ہی ہاتھ سے نکل گیا کیونکہ اس دوران مزید کتابیں آ گئیں۔
گزشتہ چار پانچ سال سے یہ چل رہا تھا کہ میں ہر گرمیوں میں اعلان کر دیتا کہ ان گرمیوں کے بعد کام کو ہاتھ لگاؤں گا۔ سب گھر والوں کو بخوبی علم ہے کہ گرمی میرے لیے سدا سے ایک مسئلہ ہے۔ میں ہر گرمیوں کے آغاز پر اپنی اہلیہ کو با آواز ِبلند بتا دیتا کہ اگر میں یہ گرمیاں زندہ سلامت گزار گیا تو اگلی گرمیوں کے آغاز تک میں اس کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے ان شاء اللہ زندہ سلامت رہوں گا۔ یہ لطیفہ نما بیان سارے خاندان میں مشہور تھا لہٰذا گرمیوں میں مجھے کسی قسم کی جسمانی مشقت سے دور رکھا جاتا ہے کہ کہیں کسی کے ذمے ہی نہ لگ جاؤں۔ سردیوں میں سفر اور واپسی پر تھکاوٹ کے بہانے یہ کام مؤخر سے مؤخر تر ہوتا گیا۔ پانچ دن پہلے چھوٹی بیٹی نے میری بے چینی کو بھانپ کر مجھے یاد دلایا کہ بابا جان! آپ مصروفیت کے بغیر جس قدر بے چین ہیں میں اس کا اندازہ کر سکتی ہوں۔ موسم بڑا اچھا ہے‘ اور آپ اس فراغت میں صرف کتابیں پڑھ کر مطمئن نہیں ہو سکتے۔ آپ اگر اس دوران لائبریری صاف کر لیں تو کیا بات ہے۔ میں نے اس کی اس تجویز سے مکمل اتفاق کیا اور گزشتہ چار دن سے لائبریری کی صفائی کی مہم میں مصروف ہوں۔
بچپن میں سنتے تھے کہ آج کا کام کل پر مت ڈالو۔ اس قولِ سدید کی سچائی گزشتہ چند دن سے ہم پر پوری طرح آشکار ہو چکی ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ سستی سے کام اتنا بڑھ جائے گا‘ لیکن شاید ہر کام کا وقت مقرر ہے اور اس کام کے لیے یہی وقت سب سے مناسب تھا۔ الماری سے باہر بکھری ہوئی کتابوں میں سے بیشتر کتابیں وہ ہیں جو پڑھی ہی نہیں ہیں۔ اب اس صفائی کے دو فائدے ہوں گے۔ پہلا یہ کہ کتابیں ترتیب سے رکھی جا سکیں گی اور دوسرا یہ کہ کتابوں کی چھانٹی ہو جائے گی۔ چھانٹی بھی دو طرح کی۔ ایک تو پڑھی اور اَن پڑھی کتابوں کی چھانٹی اور دوسری چھانٹی ان کتابوں کی جو میں نے تعلیمی ادارے کھلنے پر غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے پریمیئر کالج میں بھجوانی ہیں۔ اس طرح میری لائبریری کی تھوڑی شکل نکل آئے گی اور غزالی پریمیئر کالج کی لائبریری تھوڑی آباد ہو جائے گی۔
میرے چاروں بچوں میں صرف منجھلی بیٹی کو کتابوں کا شوق ہے۔ زیادہ تر انگریزی کی کتابیں اور وہ بھی قصے کہانیوں والی۔ مافوق الفطرت کہانیوں پر مشتمل سیریز ہیری پوٹر‘ گیم آف تھرونز اور لارڈ آف دی رنگز ٹائپ کہانیوں کی کتابیں۔ لیکن اردو سے بھی خاصی دلچسپی ہے۔ افسانہ‘ ناول اور اسی قبیل کی دوسری کتابیں۔ الماریوں میں دو خانے اس کی کتابوں کے لیے مخصوص ہیں۔ عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کی ساری کتابیں۔ یہاں وہ کتابیں پڑی ہیں جو اس نے پڑھ لی ہیں یا وہ جو میں اگلے پھیرے میں آسٹریلیا لے کر جاؤں گا اور جو اس نے پڑھ لی ہیں وہ واپس لا کر اس الماری میں رکھ دوں گا۔ کتابوں کی خرید کا بھی عجب حال ہے سمجھ نہیں آتی کہاں سے خریدوں؟
نمرہ احمد اور عمیرہ احمد کی کتابیں ادارہ علم و عرفان کے گلفراز نے شائع کی ہیں اگر اس کے پاس جاتا ہوں تو وہ کتابوں کے پیسے نہیں لیتا۔ ہر بار یہ وعدہ کرتا ہے کہ اگلی بار لے لوں گا۔ اور یہی حال برادرِ عزیز افضال احمد کا ہے۔ سنگ میل پبلی کیشنز پر جانا ایک پرانی عادت ہے‘ اللہ بخشے چوہدری نیاز احمد صاحب کو‘ طبیعت میں کھرا پن تھا مگر محبت سے ملتے اور کتابوں پر اتنی رعایت دیتے کہ سننے والے کہتے آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کے بعد اب افضال احمد ہیں جو مروت و محبت میں اپنے مرحوم والد سے دو ہاتھ آگے ہیں۔ کافی یا اوولٹین پلانے کے ساتھ ساتھ شاندار گفتگو کرتے ہیں اور پھر بصداصرار چار چھ کتابیں باندھ کر ساتھ بھجواتے ہیں۔ اس بار ان کے پاس گیا تو بلونت سنگھ کے افسانوں کے انتخاب پر مشتمل دو موٹی جلدیں ساتھ کر دیں کہ انہیں میری پسند نا پسند کا بھی اب خوب اندازہ ہو چکا ہے۔ شفیق الرحمان مرحوم کا نیا سیٹ چھاپا تو پورا سیٹ گاڑی میں رکھوا دیا۔ میں نے کہا کہ میرے پاس ساری کتابیں موجود ہیں۔ ہنس کر کہنے لگے: ہر کتاب مختلف شکل اور مختلف حلیے کی ہوگی۔ یہ سارا سیٹ ایک جیسا ہے آپ کو اچھا لگے گا۔ شفیق الرحمان میرے لڑکپن کا عشق ہے۔ کتابیں ملتان لا کر الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں سجا دیں۔
یہی حال ملتان کے شاکر حسین شاکر کا ہے۔ کبھی یہ تھا کہ قیمت خرید پر کتابیں دے دیتا تھا جیسے جیسے اللہ نے خوشحالی دی ہے ویسے ویسے دل میں وسعت بھی۔ یہ لوگ خوش قسمت ہیں کہ اللہ کی طرف سے دل میں وسعت جیسی نعمت سے مالا مال ہیں وگرنہ بے شمار لوگوں کو بخیلی کی طرف گامزن دیکھا ہے۔ شاکر اب کتاب کے پیسے نہیں لیتا اور میں نے اس سے کتابیں لینی بند تو نہیں کیں لیکن کم کر دی ہیں۔ پچھلے دنوں وہاں گیا تو شکاریات کی کہانیوں پر مشتمل کتاب ”شکاریات کی ناقابلِ فراموش داستانیں‘‘ کا دوسرا حصہ پڑا تھا۔ راشد اشرف کی مرتب کردہ اس کتاب میں میرے لڑکپن کی پڑھی ہوئی کہانیاں جمع تھیں۔ جم کاربٹ‘ کینتھ اینڈرسن‘ کرنل وڈ اور ڈونلڈ اینڈرسن کے علاوہ دیگر کئی شکاریوں کی کہانیاں۔ شاکر سے پوچھا: پہلا حصہ مل جائے گا؟ کہنے لگا: کراچی پبلشر سے معلوم کر کے بتاؤں گا۔ دل میں عجب کشمکش کہ کتاب اٹھاؤں یا نہ اٹھاؤں؟ آخر کار کتاب اٹھائی۔ قیمت پوچھنے کی بڑی مشکل سے ہمت کی جواباً شاکرنے ایسی ملامتی نظروں سے دیکھا کہ بیان کرنا ممکن نہیں۔ پھر شاکر نے کہا کہ آپ نے نجم الاصغر شاہیا کی کلیات کے بارے میں کہا تھا‘ فیصل آباد سے کل آ جائے گی تو راحت کے ہاتھ آپ کو بھجوا دوں گا۔ چار دن ہوتے ہیں مرحوم نجم الاصغر شاہیا کی کلیات مجھے مل گئی ہے۔ لائبریری صاف کر لوں پھر اس کتاب کا لطف لوں گا۔ کیا شاندار شاعر تھا جو اپنی زندگی میں اس پذیرائی‘ مقبولیت اور مرتبے سے بلکہ شناخت سے محروم رہا جس کا وہ حقدار تھا۔ کتاب پڑھ لوں تو پھر ایک کالم (بشرطِ زندگی) نجم الاصغر شاہیا پر۔ فی الحال تو لائبریری کی صفائی جاری ہے۔ لاک ڈاؤن میں اس سے زیادہ مناسب کام اور کیا ہو سکتا ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker