خالد مسعود خانکالملکھاری

خالدمسعودخان کا کالم:دو خاندان اور قحط الرجال

قریب دو ماہ قبل ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا ”شجرہ نسب سے محروم سڑکیں، ایئر پورٹس اور ہسپتال‘‘ اس کالم میں‘ میں نے پاکستان میں سڑکوں، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں اور اسی قبیل کی اور چیزوں پر حکمرانوں کے ناموں کی لگی ہوئی تختیوں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کا موازنہ امریکہ سے کیا تھا اور دل کے پھپھولے پھوڑے تھے۔ اس پر میرے ایک امریکہ میں رہائش پذیر قاری نے چند ایئر پورٹس کا نام لے کر میرے مؤقف کے بر خلاف اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ امریکہ میں بھی پاکستان کی طرح حکمران طبقہ از قسم صدور اور شہروں کے میئرز وغیرہ سرکاری پروجیکٹس پر اپنا نام چسپاں کر دیتے ہیں اور وہاں بھی درجنوں پروجیکٹس کے اس طرح کے نام ہیں۔ اپنے اس قاری کے نشان دہی کردہ ایئر پورٹس کے علاوہ امریکہ میں دیگر کئی ایئر پورٹس‘ جن کے نام لوگوں کے نام پر رکھے گئے ہیں‘ کے بارے میں تو بعد میں کچھ کہوں گا‘ فی الحال تو میں ایک طویل فہرست آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں‘ جو صرف تین شخصیتوں کے نام پر رکھے جانے والے ، سرکاری پروجیکٹس پر مشتمل ہے۔ یہ تین نام جناب میاں نواز شریف، شہباز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو ہیں۔ کچھ پروجیکٹس ان کے بچوں کے نام پر ہیں۔ ذرا اس تفصیل پر نظر دوڑائیں۔
٭میاں محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگری کلچر ملتان ٭میاں محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان ٭محمد نواز شریف گرلز ڈگری کالج سیالکوٹ ٭میاں محمد نواز شریف گرلز کالج منڈی بہاؤالدین ٭نواز شریف ڈگری کالج چونا منڈی لاہور ٭نواز شریف میڈیکل کالج گجرات ٭نواز شریف پارک مری روڈ راولپنڈی ٭نواز شریف ہسپتال یکی گیٹ لاہور٭نواز شریف سوشل سکیورٹی ہسپتال لاہور
اب ذرا ان کے برادرِ خورد میاں شہباز شریف کے نام کے پروجیکٹس کی تفصیل ملاحظہ کریں: ٭شہباز شریف ہسپتال ملتان ٭شہباز شریف ڈگری کالج جامکے چیمہ سیالکوٹ ٭شہباز شریف سپورٹس کمپلیکس راولپنڈی ٭شہباز شریف برج سیالکوٹ اور جہلم۔
اب جن کا بھٹو زندہ ہے، اس کی بھی سن لیں: ٭بے نظیر آباد (سابق نواب شاہ) ٭بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی بے نظیر آباد ٭بے نظیر بھٹو شہید ڈسٹرکٹ سکول، بے نظیر آباد ٭بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی اپر دیر ٭بے نظیر بھٹو شہید وومن یونیورسٹی، پشاور ٭نظیر بھٹو شہید گرلز کالج لاڑکانہ ٭بے نظیر بھٹو شہید ڈگری کالج، کراچی ٭بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کراچی ٭بے نظیر بھٹو شہید اے این ایف ہسپتال کراچی ٭شہید بے نظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی کراچی ٭بے نظیر بھٹو شہید ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنس یونیورسٹی کراچی ٭بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری، کراچی۔
اور اگلی نسل بھی اب اس دوڑ میں شامل ہو چکی ہے: ٭بلاول بھٹو میڈیکل کالج جام شورو ٭بختاور بھٹو کیڈٹ کالج برائے طالبات بے نظیر آباد۔
آپ صرف ان ناموں سے اندازہ لگا لیں کہ خود پسندی اور نرگسیت کس انتہا پر پہنچ چکی ہے؟
اب اس کے مقابلے میں امریکہ میں صرف فی الحال شخصیات کے نام پر رکھے ہوئے ایئر پورٹس کا ذکر ہو جائے۔
1۔ اوہیر ایئر پورٹ شکاگو، یہ ایئر پورٹ 1944 میں بنا تھا۔ تب اس کا نام میونسپل ایئر پورٹ شکاگو تھا‘ تاہم اس کا نام 1949 میں دوسری جنگِ عظیم میں بہادری کا ”میڈل آف آنر‘‘ لینے والے پائلٹ ایڈورڈ ہینری اوہیر کے نام پر رکھ دیا گیا۔ دنیا کے سب سے مصروف ترین ایئر پورٹ ہارٹس فیلڈ جیکسن ایئر پورٹ اٹلانٹا کا نام اٹلانٹا کے دو سابق میئرز کے نام پر ہے۔ ولیم بی ہارٹس فیلڈ 1937 سے 1962 تک پچیس سال اٹلانٹا کے میئر رہے‘ تاہم جب 1971 میں اس ایئر پورٹ کا نام ان کی اکیاسویں سالگرہ پر ہارٹس فیلڈ ایئر پورٹ رکھا گیا تو اسے میئر شپ سے فارغ ہوئے نو سال گزر چکے تھے۔ مینارڈ جیکسن بھی اٹلانٹا کا میئر رہا تھا۔ جون 2003ء میں اس کا انتقال ہوا اور اس کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے اکتوبر 2003 میں اس کی وفات کے چار ماہ بعد اس ایئر پورٹ کے نام میں جیکسن کا بھی اضافہ کر دیا گیا۔ لوگان انٹرنیشنل ایئر پورٹ بوسٹن کا نام پہلی جنگ عظیم کے ہیرو جنرل ایڈورڈ لارنس لوگان کے نام پر ہے۔ جنرل لوگان کی موت کے تقریباً چار سال بعد اس ایئر پورٹ کا نام 1943 میں اس کے نام پر رکھا گیا۔ اسی طرح چارلس شلز ایئر پورٹ کا نام مشہور کارٹونسٹ اور کارٹون کریکٹر ”پی نٹس‘‘ کے خالق چارلس ایم شلز کے نام پر رکھا گیا۔ برمنگھم شٹلزورتھ ایئرپورٹ البامہ کا نام انسانی حقوق کے ایک سیاہ فام رہنما فریڈ شٹلزورتھ کے نام پر ہے۔ جیکسن ایورز ایئر پورٹ مسی سیپی کا نام بھی انسانی حقوق کے ایک اور مشہور سیاہ فام رہنما میڈگرولی ایورز کے نام پر ہے۔ لمبرٹ سینٹ لوئس انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا نام جہاز اڑنے کے شوقین اور 1904 اولمپکس میں سلور میڈل لینے والے گالفر ایڈورڈ بونڈ لمبرٹ کے نام پر ہے۔ یاد رہے کہ لمبرٹ نے جہاز ایجاد کرنے والے رائٹ برادرز سے 1905ء میں اپنے شوق کی تکمیل کے لیے جہاز خریدا تھا۔ ملواکی کا جنرل مچل ایئر پورٹ فادر آف ماڈرن یو ایس ایئر فورس اور جنگ عظیم اول کے ہیرو میجر جنرل ولیم بلی مچل کے نام پر ہے۔ جنرل مچل کی وفات 1936 میں ہوئی تھی جبکہ ایئر پورٹ کا نام اس کے پانچ سال بعد تبدیل کیا گیا۔
اب زیادہ تفصیل میں کیا جاؤں؟ اسی طرح شارلٹ ڈگلس ایئر پورٹ، لاگارڈیا نیو یارک، بریڈلے ایئر پورٹ کنکٹی کٹ، ریپلے ایئرپورٹ اوماہا، کلیو لینڈ ہاپکنز ایئر پورٹ کلیو لینڈ، ٹام بریڈلی لاس اینجلس ایئر پورٹ وغیرہ کے نام بھی مختلف مشہور شخصیات اور میئرز سے وابستہ ہیں‘ لیکن کسی ایک ایئر پورٹ کا نام بھی کسی حاضر سروس میئر یا اقتدار میں موجود صدر وغیرہ نے اپنے نام پر نہ از خود رکھا نہ ہی ان کے کسی چمچے نے اس قسم کی کوئی حرکت کی‘ تاہم عہدے سے فراغت یا دنیا سے رخصتی کے بعد ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر یہ ایئر پورٹس ان کے نام سے منسوب کیے گئے۔ اس کی آخری مثال لوئیس ویل انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے نام کی تبدیلی ہے۔ 1941 میں بننے والے اس ایئر پورٹ کا نام 16 جنوری 2019ء کو فرزند لوئیس ویل اور عالمی طور پر تسلیم شدہ ”گریٹیسٹ آف آل ٹائم‘‘ سابق عالمی ہیوی ویٹ باکسر محمد علی کے نام پر لوئیس ویل محمد علی انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھ دیا گیا۔ بوسٹن کی مشہور زیر آب سرنگ کا نام مشہور امریکی پروفیشنل بیس بال کھلاڑی تھیوڈور سیموئل ولیم المعروف ٹیڈ ولیم کے نام پر ہے۔ برطانیہ کے شہر لیورپول کے ہوائی اڈے کا نام مشہور برطانوی راک بینڈ ”بیٹلز‘‘ کے مرکزی گلوکار جان لینن کے نام پر جان لینن ایئرپورٹ ہے۔ وہاں کھلاڑی، گلوکار، جنگی ہیرو، انسانی حقوق کے علم بردار ایسی عزت کے مستحق ہیں۔
مجھے قطعاً کوئی اعتراض نہ ہو اگر ہمارے ان لیڈروں نے سر گنگا رام ہسپتال، جانکی دیوی ہسپتال یا گلاب دیوی ہسپتال کی طرح اپنے ناموں والے پروجیکٹس پر پلے سے چار پیسے ہی خرچ کیے ہوتے یا بے شک بھاگ دوڑ کر کے ان کے لیے چندہ ہی اکٹھا کیا ہوتا۔
زندہ قومیں اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں۔ کھیل، علم و ادب، فنون لطیفہ، بہادری، تعلیم و تحقیق اور سائنس وغیرہ میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے افراد کی ایک طویل فہرست ہے لیکن لگتا ہے کہ پاکستان میں قائدِ اعظم اور علامہ اقبال سے منسوب دو چار چیزوں کے بعد باقی سارا پاکستان دو خاندانوں کے قبضہ قدرت میں دے دیا گیا ہے اور ان دو خاندانوں کے علاوہ اس ملک میں کوئی ہیرو پیدا نہیں ہوا۔ کیا یہاں واقعتاً اتنا ہی قحط الرجال ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker