خالد مسعود خانکالملکھاری

زخمی گھوڑے پر سوار بہادر سپاہی۔۔خالدمسعودخان

ٹڈی دل اب تک چولستان کی صفائی کر چکا ہے‘ رایااور توریا کی قریب قریب ساری فصل اور دو انسانی جانوں کو نگل چکا ہے اور ابھی اس کے کنٹرول کا دور دور تک کوئی امکان نہیں کہ سپرے کی ساری دوائی کا دارومدار ”خیرات‘‘ میں ملنے والی کیڑے مار ادویات پر ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ابھی اس ملک سے محبت لوگوں کے دلوں میں موجود ہے اور ہر مشکل گھڑی میں درد مند اہلِ دل حضرات آگے آ جاتے ہیں۔ یہی حال اس وقت چولستان میں ٹڈی دل کی تلفی کے لیے کیے جانے والے ہوائی سپرے کا ہے جس کے لیے پاکستان کی زرعی ادویات کی کمپنیوں نے بلا مبالغہ لاکھوں لٹر دوائی بالکل مفت عطیہ کی ہے‘ اور اسی مفت کی دوائی کے بل پر یہ مہم جاری ہے ۔یہ اور بات کہ صرف اور صرف اس مانگے تانگے کی دوائی پر مہم کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی کہ اس کام پر مامور محکمے کے پاس‘ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں‘ بیس جہاز تھے۔ ان میں سے پندرہ تو پہلے مرحلے پر ہی ناکارہ قرار دیئے جا چکے ہیں اور بقیہ پانچ کو آپریشنل کرنے کے لیے خدا جانے کتنے پیسے خرچ کیے گئے اور کتنے غتربود ہوئے؛ تاہم ابتدائی طور پر پانچ بیور (Beaver) ائیر کرافٹس کو اس ٹڈی دل کی تلفی مہم کے لیے فٹ قرار دیا گیا اور پھر ان پانچ میں سے دو کو اس مہم میں جھونک دیا گیا۔ یہ دونوں جہاز بھی جس حال میں تھے اس کا اندازہ مجھے ملنے والے ان دو واٹس ایپ پیغامات سے لگایا جا سکتا ہے جو شہید کپتان شعیب ملک نے اپنے پائلٹوں اور محکمے کے دوسرے افسران کے بنائے ہوئے گروپ پر بھیجے۔
جنگی جہاز چلانے والے بہادر سکواڈرن لیڈر (ر) شعیب ملک کو بحیثیت پائلٹ اس بات کا پوری طرح اندازہ تھا کہ اسے جس جہاز کو چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ ”بیمار گھوڑا‘‘ ہے اور بیمار گھوڑوں کو جنگ میں استعمال نہیں کیا جاتا‘ لیکن ٹڈی دل کے حملے کے جو نتائج نکل رہے تھے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی زندگی خطرے میں ڈالتے ہوئے بیمار گھوڑے پر چڑھ کر ہاتھ میں تلوار پکڑی اور میدانِ جنگ میں کود پڑا۔ پھر وہی ہوا جو اِن حالات میں ہوتا ہے۔ جنگ کے عین عروج میں زخمی گھوڑا جواب دے گیا اور اپنے بہادر سوار کو اپنے ساتھ لے ڈوبا۔ پہلے کیپٹن شعیب کے واٹس ایپ میسجز
(یہ میسجز ایک صاحب کے پیغام کے جواب میں کیے گئے۔ ہم ان صاحب کا نام اسلم تصور کر لیتے ہیں)
Aslam sb. you will not understand. To get inducted new aircraft you need 2 years minimum to be fully operational. You need to train your engineers, technicians, pilots and get their paperwork completed in CAA. By that time locust can eat up everything. No on changes horse during war. It is easy to say that we will get new air craft. My dear! it takes longer time and a lot of resources to bring it operational. You cannot understand the mechanics of aviation as this is not your field.
دوسرا پیغام جو اسی پیغام کا ہی اگلا حصہ ہے۔
We stop our discussion on the topic. Again a simple question, when can I get another replacement of my sick aircraft, which needs immediate attention. I am fighting with an injured horse. Aslam sb. since 6 months our 4th aircraft at Lahore is without any work? It did not require 100 million to recover. Do you know when that is going to be out?
میں نے دونوں پیغامات انگریزی میں اس لیے نقل کیے ہیں کہ ترجمے میں کوئی لفظ اوپر نیچے نہ ہو جائے اور اصل متن کی روح متاثر نہ ہو۔ اب ان کا ترجمہ:
1۔ اسلم صاحب! آپ نہیں سمجھیں گے۔ نیا جہاز حاصل کرنے کے لیے آپ کو کم از کم دو سال کا عرصہ درکار ہے کہ وہ پوری طرح میدانِ کار میں آ سکے۔ اس کے لیے آپ کو اپنے انجینئروں، تکنیکی عملے، پائلٹوں کو تربیت دینے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے لیے درکار ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرنی ہوگی۔ لیکن اسی دوران ٹڈی دل ہر چیز کھا کر برابر کر دے گا۔ جنگ کے درمیان میں گھوڑا تبدیل نہیں کیا جاتا۔ یہ کہنا آسان ہے کہ ہم نیا جہاز لے لیں گے۔ میرے عزیز! اس کے لیے بہت سا وقت اور پیسہ درکار ہے کہ اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔ آپ ہوا بازی کی باریکیوں سے آگاہ نہیں کہ یہ آپ کا متعلقہ شعبہ ہی نہیں۔
2۔ ہم اس موضوع پر اپنی بحث کا اختتام کرتے ہیں۔ دوبارہ میرا وہی سادہ سا سوال ہے کہ مجھے اس بیمار جہاز کا متبادل کب دیا جائے گا، جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ میں ایک زخمی گھوڑے کے ساتھ میدانِ جنگ میں ہوں۔ اسلم صاحب! گزشتہ چھ ماہ سے ہمارا چوتھا جہاز لاہور کیا کسی مرمت کے بغیر کھڑا ہے؟ اسے ٹھیک کروانے کے لیے کوئی سو ملین روپے درکار نہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کب میدان میں آنے کے قابل ہوگا؟
درج بالا دونوں پیغامات اتنے واضح ہیں کہ ان کا مفہوم سمجھنے کے لیے زیادہ عقل درکار نہیں‘ اور کہانی کو مکمل کرنے کے لیے کسی کہانی نویس کی ضرورت نہیں۔ جہاز خراب تھا اور شعیب ملک کو اس کا پورا علم بھی تھا اور ادراک بھی۔ وہ اس مہم سے علیحدگی اختیار کر سکتا تھا لیکن اس کے سامنے ٹڈی دل کا حملہ تھا اور ایک بہادر شخص اس حملے سے راہِ فرار اختیار کرنے کے بجائے لڑتے ہوئے مرنے کو ترجیح دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ جنگ کے دوران گھوڑا تبدیل کرنے کا رسک نہیں لے سکتا کہ تب تک ٹڈی دل سب کچھ کھا کر برابر کر دے گا۔
ٹڈی دل کا کوئی شدید حملہ گزشتہ ستائیس سال سے نہیں ہوا تھا، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ محکمہ اور اس سے بڑھ کر سرکار سو جائے۔ افریقہ کے صحرائوں میں پروان چڑھنے والا ٹڈی دل ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے براستہ اومان اور ایران پاکستان میں داخل ہوا تو شروع میں کسی نے رتی برابر فکر نہیں کی۔ خیال کے گھوڑے دوڑانے والے ماہرین کا خیال تھا کہ شدید سردی پڑے گی اور لوکسٹ (ٹڈی دل) ختم ہو جائے گا۔ ختم کیا ہونا تھا؟ اس نے واپسی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے (جولوکسٹ کا صدیوں سے طریقہ کار ہے کہ وہ پھر واپس اسی جگہ چلا جاتا ہے جہاں سے وہ آغاز کرتا ہے) چولستان، سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں ڈیرہ ڈال لیا۔ بلا مبالغہ اب ان کی تعداد اربوں کھربوں میں ہے۔ جب ایسا ہو جائے تو پھر اگلے کئی سال تک اس سے جان چھڑوانی مشکل ہو جاتی ہے۔ شعیب ملک کو اس کا اندازہ تھا کہ یہ ٹڈی دل فی الوقت تو چولستان کی رایا اورتوریا کی ساری فصل کھا چکا ہے اور گندم کی فصل کے در پے ہے، لیکن اگر اسے تلف نہ کیا گیا تو یہ اگلا ایک عشرہ ہمارے لیے مصیبت بنا رہے گا۔ صورتحال یہ ہے کہ جنگجو پائلٹ اپنے ساتھی انجینئر کے ساتھ جنگ لڑتا ہوا شہید ہوا ‘لیکن لگتا ہے کہ اس کی شہادت اسی طرح اکارت جائے گی جیسا کہ اس ملک میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker