خالد مسعود خانکالملکھاری

ملتان کی سیاست کا نامکمل جائزہ۔۔خالد مسعودخان

جلالپور پیر والا سے آزاد رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والا قاسم لنگاہ میرا پرانا دوست ہے۔ دوستی اپنی جگہ مگر سیاست اپنی جگہ ہوتی ہے لہٰذا وہ گفتگو کے دوران مجھ سے خاصا محتاط رہتا ہے۔ اول تو وہ شروع میں ہی اعلان کر دیتا ہے کہ یہ ساری گفتگو ”آف دی ریکارڈ‘‘ ہے یا پھر نہایت ہی بے ضرر گفتگو کرے گا۔ ہر سوال کا گول مول اور ہومیوپیتھک قسم کا جواب دے گا اور بات کو گھما پھرا کر کہیں اور لے جائے گا۔ جب بھی اس سے کوئی متنازع یا مشکل سوال کیا آگے سے جواب دینے کے بجائے پوپلے سے منہ سے ہنس کر کہے گا ”توں مروائیں گا‘‘ اور بات ختم۔ یہ اس کا جواب ہوتا ہے۔ آزاد الیکشن لڑ کر جیتا اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے پی ٹی آئی کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔ ہر بات پر ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ فنڈز لے رہا ہے اور حلقے میں استعمال بھی کر رہا ہے۔ سرکاری دفاتر میں حکومتی پارٹی کے رکن اسمبلی جیسا پروٹوکول اور پذیرائی بھی انجوائے کر رہا ہے لیکن پوچھیں تو کہے گا کہ وہ تو آزاد رکن اسمبلی ہے اور اس کا پی ٹی آئی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ پوچھیں کہ یہ غیر مشروط حمایت وغیرہ کس کھاتے میں ہے تو جواب دیتا ہے کہ وہ تو اپنے حلقے کے ترقیاتی کاموں کیلئے حکومت سے تعاون کر رہا ہے اور کچھ نہیں۔ مزید سوال کریں تو کھچروں والی ہنسی ہنس کر بات گول کر جاتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ملتان کے جو تین ایم پی اے پیسے نہیں بنا رہے ان میں سے ایک قاسم لنگاہ ہے۔
باقی دو والے کون ہیں؟ بس اتنا بتا دینا کافی ہے کہ دونوں بھلے آدمی ہیں۔ ملتان کے نہایت ہی نیک نام اور خاندانی باپ کی اولاد ہیں۔ جدی رئیس ہیں اور سیاست سے کمائی کرنے کے بجائے خرچ کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہاں یاد آیا! ایک انصاری ایم پی اے کے بارے میں اگر پلے سے خرچ کرنے کی خبر نہیں ملی تو مال بنانے کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ باقی دنیا کو فانی اور اسمبلی کی رکنیت کو بہت ہی عارضی اور ناپائیدار چیز سمجھ کر جلد از جلد فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔ اس مصروفیت میں جو معنی پوشیدہ ہیں آپ لوگ اللہ کے فضل سے نہایت سمجھدار ہیں اور اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔
جمہوریت کیا مزے دار چیز ہے؟ عوام کیسے کیسے لوگوں کو ووٹ کے ہوائی جہاز پر چڑھا کر اسمبلی بھجوا دیتے ہیں۔ ایک ایم این اے کسی جگہ تقریر کر رہا تھا۔ نام کو چھوڑیں‘ کام کو دیکھیں۔ تقریر کے دوران اپنے بارے میں ڈینگیں مار رہا تھا۔ آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ تقریر ”نیشنل ایکشن پروگرام‘‘ کے حوالے سے تھی اور فاضل مقرر مسلسل حلقے میں اپنے کاموں اور عوام دوستی کا ذکر کرنے میں مصروف تھا۔ کہہ رہا تھا کہ اس نے حلقے میں تھانے کچہری کی سیاست کو دفن کر دیا ہے۔ اپنے مخالفین پر جھوٹے مقدمے بنوانے کی روایت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ کسی مخالف سے انتقامی سلوک نہیں کیا۔ کسی کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔ اس دوران مجمعے میں سے کسی نے اس کو یاد دلایا کہ تقریب میں گفتگو کا موضوع نیشنل ایکشن پروگرام سے متعلق ہے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والا ممبر قومی اسمبلی کہنے لگا کہ میں نے حلقے میں نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت عوام کی صحت اور جان کی حفاظت کی خاطر تمام ”نائیوں‘‘ کو پابند کر دیا ہے کہ وہ مضر صحت اور بیماریاں پھیلانے والے استروں کے بجائے ہیپاٹائٹس فری بلیڈ استعمال کرتے ہوئے لوگوںکی شیو کریں۔ قارئین! اگر آپ اسے مذاق سمجھ رہے ہیں تو میں آپ کی حس مزاح کی داد دوں گا؛ تاہم یہ بتانا بھی ضروری سمجھوں گا کہ یہ مذاق نہیں حقیقت ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ اس پر رویا جائے یا ہنسا جائے؟
مال بنانے والوں کی ایک ٹرائیکا خاصی تیز جا رہی ہے۔ ضلع ملتان کے دو سروں سے منتخب ہونے والے دو رکن صوبائی اسمبلی ایک صوبائی وزیر کے دائیں بائیں ہیں اور قلب سے کیے جانے والے حملوں کے علاوہ میمنہ و میسرہ سے حملے کر کے مال غنیمت سمیٹنے میں مصروف ہیں۔ اندرون شہر والا ذاتی زور بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے اکیلا ہی اپنی چومکھی لڑنے اور بلا شرکت غیرے اللہ کے فضل سے لطف اندوز ہونے میں مصروف ہے۔ شہر کے ایک ایم این اے کی رپورٹ کم از کم براہ راست پیسے نہ پکڑنے کے حوالے سے پہلے بھی بہت اچھی تھی اور اب بھی بہت اچھی ہے لیکن اسے بد قسمتی کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ اگلی نسل نے یہ فخر بھی قائم نہیں رکھا اور بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھو رہی ہے۔ بتانے والے معتبر ہیں اور سننے والے یقین نہیں کر رہے۔شہر سے ایک رکن قومی اسمبلی لینڈ مافیا کا معاون و محافظ ہے۔
قارئین! میں معذرت خواہ ہوں کہ بات قاسم لنگاہ سے شروع ہوئی اور کہیں اور چلی گئی۔ چند روز قبل ملاقات ہوئی تو خاصا مایوس تھا۔ سوال کیا تو بے دھڑک جواب دے مارا۔ میں نے پوچھا‘ یہ جواب آف دی ریکارڈ ہے؟ کہنے لگا نہیں! آن دی ریکارڈ ہے۔ میں نے پوچھا‘ صرف یہی سوال یا آج کی ساری گفتگو؟ وہ گفتگو جو ابھی کی بھی نہیں۔ قاسم لنگاہ کہنے لگا آج کی ساری گفتگو آن دی ریکارڈ ہے۔ میں نے کہا یہ انقلاب کیسا؟ آگے سے کہنے لگا کیا کریں؟ حلقے میں لوگوں کی حالت دیکھیں تو دکھ ہوتا ہے۔ مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ آٹے اور چینی کی قیمتوں نے عام آدمی کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ کاشتکار تباہ ہو گیا ہے۔ کپاس کاشت کرنے والے برباد ہو گئے ہیں۔ گنے کی فصل کو ملز مالکان اکٹھے ہو کر لوٹ رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھاہے اور بے چارے کاشتکار کی نہ تو فصل اچھی ہو رہی ہے اور نہ ہی اسے اپنی فصل کی مناسب قیمت مل رہی ہے۔ ہمارا سارا حلقہ زراعت پیشہ لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہی اس علاقے کی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور یہی ستون تباہ و برباد ہو رہا ہے۔ ہم نے لوگوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے ووٹروں کو جواب دینا ہوتا ہے۔ اب حقیقت سے کب تک آنکھیں چرا سکتے ہیں؟
میں نے پوچھا‘ کیا تم بیس ارکان والے فارورڈ بلاک کا حصہ بنے تھے؟ وہ کہنے لگا‘ نہیں! میں نے تو اس بارے سوچا بھی نہیں تھا حالانکہ مجھ سے رابطہ ہوا تھا مگر میں نے انکار کر دیا تھا۔ میں نے پوچھا: وجہ کیا تھی؟ قاسم خان کہنے لگا‘ مجھے اس گروپ کے اغراض و مقاصد کا صحیح علم نہیں تھا: تاہم یہ بات طے ہے کہ عثمان بزدار اینڈ کمپنی کے ہاتھ اب کچھ بھی نہیں ہے اور جب تھا تب انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ میرا دکھ اور گلہ عثمان بزدار کے اختیارات سلب کرنے سے نہیں بلکہ سیاسی قیادت کو زیرو کرنے سے ہے۔ عثمان بزدار سے کچھ نہیں ہو رہا تھا تو اختیارات بیوروکریسی کو پکڑانے کے بجائے بندہ بدل دیتے۔ معاملات منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں رہتے۔ ہم لوگ یوں بے دست و پا تو نہ ہو جاتے۔ ہم لوگوں نے عوام کو منہ دکھانا ہے۔ جواب دینا ہے۔ حلقے کے عوام کا سامنا کرنا ہے۔ ان کی مشکلات کا ازالہ کرنا ہے۔ ان کو سہولتوں کی فراہمی کا اہتمام کرنا ہے۔ اگر نظام بیوروکریسی نے ہی چلانا ہے تو یہ سارا سیاسی عمل بے فائدہ ہے۔ اس کی کیا ضرورت ہے؟
میں نے پوچھا کہ عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ منتخب نمائندوں کے رشتہ دار تنظیمی عہدوں پر فائز نہیں ہوں گے۔ اب شہر سے رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر کا بھائی پی ٹی آئی کا شہر کا صدر بنا دیا گیا ہے۔ وہ ہنسا اور کہنے لگا‘ یہ بات آپ پی ٹی آئی والوں سے پوچھیں۔ میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا‘ قاسم لنگاہ! تم پھر پرانی ڈگر پر آ رہے ہو۔ وہ کہنے لگا‘ میں سچ کہہ رہا ہوں۔ میرا حکومت سے پارلیمانی تعاون اپنی جگہ لیکن میرا تنظیمی حوالوں سے پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں اس لیے اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
میں نے پوچھا‘ سنا ہے شاہ محمود قریشی اپنے ایک قریبی عزیز کیلئے ملتان کے تحصیل ناظم یا میئر کیلئے ارکان اسمبلی کو حمایت کیلئے کہہ رہے ہیں۔ قاسم لنگاہ کہنے لگا‘ سنا تو میں نے بھی ہے لیکن مجھ سے اس سلسلے میں رابطہ کسی نے نہیں کیا۔ لیکن میئر کیلئے اس عزیز کے سلسلے میں شاید شاہ محمود کی دال نہ گلے کہ ملتان کے میئر کیلئے اگر حسب سابق فیصل مختار میدان میں کود پڑا تو وہ میدان مار لے گا۔ میں نے کہا‘ میدان مار لینے سے تمہاری کیا مراد ہے؟وہ کہنے لگا‘ میدان مارنے سے مراد ٹکٹ لینا ہے اور کچھ نہیں لیکن ہو سکتا ہے اس سب کی نوبت ہی نہ آئے۔ میں نے کہا‘ اس سے کیا مراد ہے؟ کیا تم بھی اس نظام کے زیادہ دیر تک چلنے سے ناامید ہو؟ قاسم لنگاہ مشکوک سی ہنسی ہنس کر خاموش ہو گیا۔
میں نے دوبارہ پوچھا‘ تمہارا اس سے کیا مطلب ہے؟ وہ کہنے لگا‘ میرا وہ مطلب نہیں جو تم سوچ رہے ہو۔ میرا مطلب ہے کہ شاید لوکل باڈیز کے الیکشن کی ابھی نوبت نہ آئے اور سارے امیدواروں کی بھاگ دوڑ دھری کی دھری رہ جائے۔ میں نے کہا‘ قاسم لنگاہ! میں تمہاری بات سمجھ تو گیا ہوں مگر فی الحال جو تم کہہ رہے ہو اسی پر یقین کر لیتا ہوں۔ آخر تم ہمارے پرانے دوست ہو اور دوستوں کی بات پر دل نہ بھی مانے تو یقین کر لینا چاہئے۔ دوستی کے بھی کچھ قاعدے ضابطے ہوتے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بعض باتوں پر یقین کرنا پڑتا ہے۔ سو اس وقت یہی سہی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker