خالد مسعود خانکالملکھاری

کیا شاندار موٹر وے ہے!۔۔خالد مسعودخان

حالانکہ میرا روڈ انسپکٹری سے کوئی تعلق نہیں، لیکن جتنا وقت سڑکوں پر گزرتا ہے آپ مجھے روڈ انسپکٹر بھی سمجھ لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ایک دوست نے پوچھا کہ تم لاہور آتے ہو؟ میں نے کہا: بہت زیادہ۔ وہ کہنے لگا: تو کسی روز میرے ہاں رات قیام کرو، گپ شپ رہے گی۔ میں نے کہا: جب سے ملتان لاہور موٹروے آپریشنل ہوئی ہے، لاہور آنا جانا بڑھ گیا ہے لیکن ٹھہرنا کم ہو گیا ہے۔ پہلے لاہور آتا تھا اور واپس اسی روز جانے کی بجائے رات لاہور میں رک جاتا تھا۔ اب ملتان سے لاہور سفر کا دورانیہ تین گھنٹے ہو گیا ہے لہٰذا بلا سوچے سمجھے روانہ ہو جاتا ہوں اور کام ختم ہوتے ہی ملتان واپس روانہ ہو جاتا ہوں کہ صرف تین گھنٹے کے سفر سے کیا گھبرانا؟ اگر رات دس بجے بھی فارغ ہو جائوں تو ملتان کی طرف منہ کر لیتا ہوں کہ رات ایک بجے ملتان پہنچ جائوں گا۔ اب رات کے ایک بجے کون سا زیادہ رات گزری ہوتی ہے؟ اب بھی ایک بجے رات تک ملتان میں جاگ ہی رہا ہوں۔ سو اس سفر میں آسانی کے طفیل کم از کم ملتان اور لاہور آنا جانا بڑھ گیا ہے لیکن لاہور میں قیام کے امکانات بہت ہی کم ہو گئے ہیں۔
ایک روز یونہی بیٹھے بیٹھے دال چاول کھانے کو دل چاہا۔ ملتان میں لکشمی چوک جیسے دال چاول ناپید ہیں۔ بیٹی کو کہا کہ لاہور چلتے ہیں۔ کہنے لگی: خیر ہے؟ ایک دم بیٹھے بیٹھے آپ کو لاہور جانے کا خیال کیسے آ گیا؟ پہلے تو نہیں بتایا کہ آپ نے آج لاہور جانا ہے۔ میں نے کہا: پہلے کیسے بتاتا؟ ابھی ابھی تو دل دال چاول کے لیے مچلا ہے۔ بیٹی زور سے ہنسی اور کہنے لگی: آپ پہلے بتاتے میں دال چاول بنوا لیتی۔ میں نے کہا: لکمشی چوک جیسے دال چاول یہاں کون بناتا؟‘ چلو گاڑی میں بیٹھو۔ وہ پوچھنے لگی: ایسے ہی چل پڑوں؟ میں نے کہا: ایسے ہی چل پڑو۔ وہاں سے سیدھا ملتان واپس آنا ہے، تردد کیسا؟ لاہور آنے جانے اور چاول کھانے میں صرف آٹھ گھنٹے صرف ہوئے اور رات گئے ہم ملتان واپس پہنچ گئے۔ موٹر وے نے بہرحال مزے کروا دیئے ہیں۔
ایسا کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا کہ بندہ ملتان سے سکھر تین گھنٹوں میں پہنچ سکتا ہے لیکن اب ایسا ممکن ہے اور میں اسے ذاتی طور پر آزما بھی چکا ہوں۔ ملتان سے رحیم یار خان صرف اڑھائی گھنٹوں میں پہنچ گیا تھا۔ اتنا وقت ہی ملتان سے صادق آباد لگا تھا۔ دو گھنٹے سے کم وقت میں موٹر وے کے روجھان والے انٹرچینج تک لگے اور وہاں سے آدھا گھنٹہ چوک بہادر پور تک لگا اور پندرہ منٹ میں صادق آباد یا رحیم یار خان، جہاں چاہیں پہنچ جائیں؛ تاہم ایک بات یاد رکھیں‘ ملتان سکھر موٹر وے پر چڑھنے سے قبل گاڑی میں پٹرول ٹینک کو فل کروانا نہ بھولیں۔ راستے میں اگر پٹرول ختم ہو گیا تو ساری پھرتیاں اور ”سپیڈیں‘‘ دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ شیر شاہ ٹول پلازہ پر ٹول ٹیکس والا کارڈ لینے کے لیے رکا تو موٹر وے پولیس کا ایک اہلکار میری طرف آیا اور بڑے شائستہ انداز میں کہنے لگا: سر! راستے میں کوئی پٹرول پمپ نہیں ہے‘ اگر آپ نے پٹرول ٹینک فل کروالیا ہے تو ٹھیک ہے‘ ورنہ واپس جا کر قریب ہی واقع پٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوا لیں‘ وگرنہ راستے میں پریشانی ہو سکتی ہے۔ میں نے ہنس کر کہاکہ مجھے موٹروے پر موجود تمام سہولیات‘ جن میں پٹرول کی عدم دستیابی اور سروس ایریاز سے محرومی شامل ہے‘ کے بارے میں مکمل علم ہے لہٰذا میں نے پٹرول ٹینک فل کروا لیا ہے‘ پینے کیلئے پانی ساتھ رکھا ہوا ہے اور واش روم گھر سے استعمال کرکے روانہ ہوا ہوں۔ باقی اللہ تعالیٰ کرم کرے گا۔
ملتان لاہور موٹروے کو چالو ہوئے اب کئی ماہ ہو چکے ہیں۔ لاہور، ملتان موٹروے کے لاہور تا عبدالحکیم سیکشن کو شروع ہوئے تو پورا سال مکمل ہوگیا ہے۔ اس سیکشن پر تین عدد سروس ایریاز کا منصوبہ ہے بلکہ منصوبہ کیا؟ عمارتیں تقریباً مکمل حالت میں موجود ہیں‘ صرف فنشنگ ہونا باقی ہے۔ ایک عدد سروس ایریا جو ننکانہ صاحب کے قریب ہے، نیم چالو ہے۔ یعنی اس پر پٹرول پمپ موجود ہے اور پٹرول دستیاب بھی ہے۔ ایک عدد ٹک شاپ ہے جس پر لوٹ مار جاری ہے اور کافی کا عام سا کپ اڑھائی سو روپے میں اور چائے ایک سو تیس روپے میں دستیاب ہے۔ باقی دو عدد سروس ایریاز جن میں سے ایک سمندری انٹرچینج پر چک 441 گ ب اور دوسرا رجانہ انٹرچینج کے قریب پھلور کے ساتھ واقع ہے، نامکمل ہیں اور بند ہیں۔ صرف ایک جگہ مسجد کی سہولت موجود ہے مگر واش رومز اس قدر غلیظ ہیں کہ طہارت تک کے لیے استعمال کرنے کے لیے جس دل گردے کی ضرورت ہے وہ کم لوگوں میں ہی موجود ہوگا۔
ملتان لاہور موٹروے دوحصوں پر مشتمل ہے۔ لاہور تا عبدالحکیم یہ M-3 ہے اور چھ لین پرمشتمل ہے۔ اس کی لمبائی 230 کلومیٹر ہے۔ عبدالحکیم تا ملتان والا سیکشن دراصل پنڈی بھٹیاں تا ملتان M-4 کا حصہ ہے اور یہ چار لین پر مشتمل موٹروے ہے۔ اس کی لمبائی(عبدالحکیم تا ملتان) ایک سو کلومیٹر کے لگ بھگ ہے یعنی لاہورتا ملتان کل لمبائی تین سو تیس کلومیٹر (صرف موٹروے کی لمبائی) کے لگ بھگ ہے۔ اس میں سے آپ لاہور تا ننکانہ صاحب تک کا فاصلہ منہا کر دیں تو باقی دو سو ستر کلومیٹر بنتے ہیں۔ ملتان تا سکھر موٹروے کی کل لمبائی 392 کلومیٹر ہے۔ ننکانہ صاحب سے سکھر تک کا کل سفر چھ سو ساٹھ کلومیٹر سے زائد بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ سکھر سے لاہور جا رہے ہیں تو اس چھ گھنٹے سے زائد سفر کے دوران جو چھ سو ساٹھ کلومیٹر پر مشتمل ہے آپ کو نہ تو پٹرول میسر ہے‘ نہ آرام کرنے کے لیے کوئی ریسٹ ایریا دستیاب ہے اور نہ ہی واش روم یا چائے کی سہولت میسر ہے۔ کیا شاندار موٹروے ہے؟
ملتان تا لاہور ٹال ٹیکس کی رقم ساڑھے پانچ سو روپے سے زائد ہے۔ میں لاہور جانے کے لیے خانیوال سے موٹروے پر چڑھتا ہوں اور تین جگہ ٹال ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ شام کوٹ سے درکھانہ تک اسی روپے، درکھانہ سے M-3 کے اختتام تک تین سو نوے روپے اور پھر وہاں سے راوی ٹال پلازہ پر تیس روپے۔ ایک موٹروے پر تین بار لمبی قطار میں لگ کر ٹال کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ ملتان تا سکھرٹال کی رقم چھ سو اسی روپے ہے۔ لاہور سے سکھر تک آپ پانچ سو ستر اور چھ سو اسی روپے‘ کل ملاکر ایک ہزار دو سو پچاس روپے کی ادائیگی کرتے ہیں لیکن اس کے عوض درمیان میں نہ آپ کو پٹرول ملتا ہے اور نہ ہی کوئی کھانے پینے کی چیز۔ نہ آرام کی سہولت دستیاب ہے اور نہ ہی واش روم استعمال کے لیے میسر ہے۔ دوران سفر اگر گاڑی پنکچر ہو جائے تو پنکچر لگانے کی کوئی دکان موجود نہیں؛ البتہ ٹال ٹیکس کی وصولی پوری طرح لاگو ہے۔
اگر پوری سہولیات میسر نہیں تو پورے ٹال ٹیکس کی وصولی کا کیا جواز ہے؟ ملتان تا سکھر موٹروے پر سروس ایریاز کے نان فنکشنل ہونے کے بارے این ایچ اے نے وضاحت جاری کی ہے کہ متعدد بار ٹینڈر ہو چکے ہیں مگر مناسب ریٹ نہ ملنے کی وجہ سے سروس ایریاز چالو نہیں ہو سکے‘ جونہی مناسب ریٹ ملے یہ ایریاز چالو کر دیئے جائیں گے۔ بقول این ایچ اے ہم نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔ مسافر بھلے سے برباد ہو جائیں محکمے کو ٹینڈر میں ”مناسب ریٹ‘‘ کی پڑی ہوئی ہے۔ محکمہ تو مناسب ریٹ پر ٹینڈر کر دے گا اور محکمے کو ملنے والی مناسب ٹینڈر کی رقم کے عوض مسافر ان سروس ایریاز پر جیب کٹواتے پھریں گے۔ دنیا بھر میں موٹرویز پر موجود سروس ایریاز پر اشیائے صرف اور خورونوش مارکیٹ سے دس پندرہ فیصد زائد قیمت پر ملتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں موٹروے پر ریٹس عام مارکیٹ سے دوگنے سے زیادہ ہوتے ہیں۔ یعنی ٹینڈر کی رقم تو این ایچ اے وصول کرلے گی اور این ایچ اے کے اس نفع کی ادائیگی وہ مسافر کریں گے جو اس سفر کے دوران ایک ہزار دو سو پچاس روپے کی ادائیگی کر چکے ہوتے ہیں۔
سکھر تا ننکانہ صاحب چھ سو ساٹھ کلومیٹر کی موٹروے پر نہ کوئی پٹرول پمپ ہے، نہ سروس ایریا، نہ پنکچر کی دکان ہے، نہ ریسٹ ایریا ہے اور نہ ہی واش روم ہے اور ایک ہزار دوسو پچاس روپے کا ٹال ٹیکس ہے۔ اس موٹروے کا یہ ریکارڈ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہونا چاہئے۔ کیا شاندار موٹروے اور کیا شاندار ریکارڈ ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker