خالد مسعود خانکالملکھاری

طارق حبیب کے لیے۔۔خالدمسعودخان

برسوں پرانی بات ہے۔ جامعہ پنجاب میں مشاعرہ تھا۔ اب مشاعرے کا کیا ذکر ہو؟ سفر اور مشاعرہ تو اب معمول کی بات ہو چکا ہے ‘لیکن خاص بات یہ تھی کہ مشاعرے کے اختتام پر ہمدمِ دیرینہ ڈاکٹر مرغوب حسین طاہر کے گھر میں دوستوں کی منڈلی جم گئی۔ پرانے دوست‘ بلکہ ایک دوست کے بقول” صرف پرانے نہیں‘ پھٹے پرانے‘‘ دوست۔ میں وہ خوش قسمت شخص ہوں جس کے پاس ایسے ہی پرانے دوست ہیں۔ رات گئے تک مرغوب حسین طاہر کے گھر گپیں اور گرین ٹی چلتی رہی۔ ملتان والا پرانا دوست خالد خان‘ ضیاء الحسن‘ عبدالقیوم اور شعیب احمد۔ میں سن‘ سال اور تاریخ یاد رکھنے کے معاملے میں بہت ہی فارغ واقع ہواہوں۔ مجھے تاریخ تو ایک طرف رہی اس رات کا سال بھی یاد نہ رہتا اگر اس رات شعیب احمد نے اپنی شاعری کی کتاب ”میں تجھے سوچتا ہوں‘‘ کے پہلے صفحے پر بڑی محبت سے میرا نام لکھ کر نیچے دستخط کر کے تاریخ نہ ڈالی ہوتی۔ یہ 15 اکتوبر 2008ء کی یادگار اور خوشگوار رات تھی۔ پھر اس طرح ہم دوست دوبارہ اکٹھے نہ ہو سکے۔ خالد خان سے کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مرغوب سے بھی‘ مگر وہ اکٹھ پھر نہ ہو سکا۔ رات میں نے کتاب کی سرسری سی ورق گردانی کی اور اگلے روز یعنی سولہ اکتوبر کو لاہور سے ملتان واپسی کے دوران ساری کتاب پڑھ ڈالی۔ کتاب میں کئی اشعار نے دل کو شاد کیا۔ اب کسی کتاب میں چند شعر بھی دل کے دروازے پر دستک دے دیں تو لطف آ جاتا ہے۔ اس کتاب کی آخری نظم نے سچ پوچھیں تومسحور کر دیا۔ یہ نظم ”کسی‘‘ طارق حبیب کے نام لکھی گئی تھی۔ میں تب سے‘ یعنی سولہ اکتوبر 2008ء سے اس طارق حبیب کی تلاش میں تھا۔
میں بعض اوقات اپنی آرام طلبی اور سستی کے باعث مشکل میں پھنس جاتا ہوں اور کبھی فرمائشی مشکل پسندی کی طرف چل نکلتا ہوں۔ طارق حبیب کو تلاش کرنا کون سا مشکل کام تھا؟ فون اٹھاتا‘ شعیب کو کال ملاتا اور پوچھتا‘ شعیب ! یہ طارق حبیب کون ہے؟ کیا کرتا ہے؟ کہاں ہوتا ہے؟ اس سے ملاقات کیسے ہو سکتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ مگر اپنی بہت سی دیگر حماقتوں کی طرح میرے پاس اپنی اس احمقانہ حرکت کا بھی نہ کوئی جواز ہے اور نہ کوئی وجہ۔ بس یونہی دل میں آئی کہ اسے خود سے تلاش کروں۔ جب مقدر ہو گا ملاقات بھی ہو جائے گی۔ اب ڈھونڈنے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے‘ لیکن میں نے اس سلسلے میں سب سے آسان بلکہ نہایت ہی آرام طلبی والا طریقہ اپنا لیا۔ جس آدمی کا نام بھی طارق حبیب ہوتا اس سے پوچھتا کہ آپ شعر کہتے ہیں؟ اگر پہلے سوال کا جواب انکار میں ہوتا تو میں اگلا سوال ہی نہ کرتا۔ اس طرح کم از کم آدھ درجن طارق حبیب میرے پہلے سوال کی بنیاد پر ہی اس تلاش سے آؤٹ ہو گئے۔ دور کیوں جاؤں‘ روزنامہ دنیا میں کالم لکھنے والے طارق حبیب کے بارے میں شروع شروع میں یہ گمان ہوا کہ لکھاری ہے‘ یہ ”وہی والا‘‘ طارق حبیب ہوگا۔ اب تھوڑا انتظار کیا کہ اگر یہ مطلوبہ والا طارق حبیب ہے تو کالم میں اپنے یا کسی اور شاعر کے اشعار کے صدقے پکڑا جائے گا‘ لیکن کافی عرصہ کوئی شعر کالم کی زینت نہ بنا تو میں نے اپنے اس ساتھی کالم نگار کو اپنی تلاش کی فہرست سے خارج کر دیا۔ مگر طارق حبیب کی تلاش جاری رکھی۔
قارئین! آپ یقینا حیران ہو رہے ہوں گے کہ آخر اس طارق حبیب میں ایسی کیا بات تھی کہ میں اسے گزشتہ بارہ سال سے اس طرح تلاش کر رہا ہوں کہ محض منتظر ہوں کہ وہ مجھے کہیں از خود مل جائے۔ کئی بار خیال آیا کہ آخر کسی حماقت پر اتنا اصرار کیوں؟ شعیب سے‘ ضیاء الحسن سے حتیٰ کہ ڈاکٹر معین نظامی سے اس طارق حبیب کا کیوں نہ پوچھ لوں؟ مگر پھر دل نے اپنی حماقت پر ثابت قدمی کا مشورہ دیا۔ دل نے کہا: جہاں اتنے سال گزر گئے ہیں اب اسی طرح چلنے دیا جائے۔ ملاقات تب ہوتی ہے جب میرے مالک کا اذن ہوتا ہے۔ شاید ابھی وہ وقت نہیں آیا۔ ابھی اجازت نہیں ملی۔ میں کہہ رہا تھا کہ آخر طارق حبیب میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ اسے میں بارہ سال میں بھی نہ بھول سکا؟ ایک تو طارق حبیب پر شعیب احمد کی وہ شاندار نظم جو ساری کتاب کی جان تھی۔ مجھے اسی دن محسوس ہوا کہ طارق حبیب کوئی خاص آدمی ہے۔ ایسے سعد الفاظ میرے جیسے عام آدمی کے لیے نہیں اترا کرتے۔ ان الفاظ کا مقدر خاص لوگ ہوتے ہیں۔ طارق حبیب جیسے‘ وہ کوئی خاص آدمی ہوگا تبھی خالقِ حرف و قلم نے شعیب احمد کو ایسے خاص الفاظ بخشے اور انہیں نظم کی ترتیب عطا کی۔
پھر اوپر سے ڈاکٹر معین نظامی جیسے نستعلیق اور نفیس شخص کی توصیف۔ معین نظامی جیسا شخص جو الفاظ کے استعمال میں کفایت شعاری اور احتیاط روا رکھتا ہے بھلا میرے جیسے کسی عام تام آدمی کے لیے ایسے ضائع کر سکتا ہے؟ نظم کا ایسا شاندار اور بے مثل شاعر‘ لیکن شاعروں سے دوری اور لا تعلقی کے باعث شہرت کی اس منزل سے کوسوں پرے ہے جہاں اس سے کہیں کمتر درجے کے شاعر فائز ہیں۔ نظم ایسی کہ دل کو چھو لے‘ طبیعت کو شاد کر دے اور روح کو معطر کر دے۔ معین نظامی کی یہ نظم ان کی کتاب ”طلسمات‘‘ کا انتساب ہے اور طارق حبیب کے نام ہے۔
سرِ بام رائیگانی
میرا آخری دیا ہے
میرا دل‘ کہ جس کو میں نے
تیرے نام کر دیا ہے
گزشتہ ہفتے سرگودھا میں مشاعرہ تھا۔ ایک شاعر طارق حبیب تھا۔ میں نے سوال کرنے سے پہلے مناسب جانا کہ پہلے اس سُن لوں۔ مجھے یقین تھا کہ اسے سننے کے بعد سوال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی کہ کیا وہ شعیب کی کتاب کی نظم والا طارق حبیب ہے؟ اسے سنا اور پھر سوال کرنے کے بجائے اسے اُٹھ کر گلے لگایا۔ طارق حبیب نے اپنی نظموں کی کتاب ”ملامت‘‘ اور غزلوں کی کتاب ”بشارت‘‘ دی۔ نظمیں تو بہت سی ہیں کہ آپ کو سناؤں لیکن کالم کا دامن صرف دو چھوٹی چھوٹی نظموں کے لیے بھی تنگ پڑتا دکھائی دے رہا ہے
(1) تری توجہ کا یہ ثمر ہے
تری توجہ اگر مجھے بال و پر نہ دیتی
تو مجھ پہ یہ آسمان نہ کھلتا
رموز سے بھری ہوئی کائنات خود کو چھپائے رکھتی
تری توجہ کا یہ ثمر ہے
کہ اب میں غیب و حضور کا فرق جانتا ہوں
تری توجہ میں معرفت کے سبھی لطائف چھپے ہوئے ہیں
تری توجہ سلوک ہے
اور یہ چشمہ حسنِ سلوک ہی سے رواں دواں ہے
تری توجہ نے ایک ذرّے کو اعتبارِ حیات بخشا
وہ ذرّہ میں ہوں
(2) عجب داغِ جدائی ہے
ترا داغِ جدائی بھی عجب داغِ جدائی ہے
کہ جتنا اس کو دھوتے ہیں
یہ اتنا ہی نکھرتا ہے
کبھی میلا نہیں ہوتا
ہمیشہ اُجلا رہتا ہے
کبھی مدھم نہیں پڑتا
ہمیشہ جگماتا ہے
تیرے داغِ جدائی نے جدائی معتبر کر دی
ترا داغ ِجدائی بھی عجب داغِ جدائی ہے
(3)…ہمارا رونا جب رویا گیا
کچھ ایسا ہے
کہ آدھی رات کے پہلو سے اٹھ کر
دُکھ
ہمارے پاس آتے ہیں
ہمیں اپنا سمجھ کر
اپنے سارے دُکھ سناتے ہیں
ہمیں رونا نہیں آتا
ہمارا فرض بنتا ہے
کہ ہم ان سب دُکھوں کو
ایک اک کر کے
گلے لپٹائیں
پرسا دیں
ہم اس خواہش میں رونے کی اداکاری بھی کرتے ہیں
ہمیں رونا نہیں آتا
ہم ان لمحوں سے ڈرتے ہیں
کہ جن لمحوں کی قسمت میں
ہمارا رونا لکھا ہے
ہمارا رونا جب رویا گیا
اس دن
تماشا دیدنی ہوگا
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker