خالد مسعود خانکالملکھاری

برگریز۔۔خالدمسعودخان

کورونا وائرس کے خوف سے قطعاً بے فکر جب میں گھر میں داخل ہوتا ہوں تو پھولوں کی بہار دل خوش کر دیتی ہے۔ کورونا کے خوف سے بے فکر ہونے سے خدانخواستہ میری مراد یہ نہیں کہ میں اس وائرس سے بچائو کیلئے بتائی گئی احتیاطی تدابیر سے بھی لاپروا ہوں بلکہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے بعد بالکل بے فکر ہوں۔ اونٹ کا گھٹنا باندھنے کے بعد توکل کا جو مفہوم ہے میں اب اس درجے پر ہوں۔ گھر کے داخلی دروازے کے ساتھ پڑے ہوئے کنسول پر ایک عدد ہینڈ سینی ٹائزر کی بوتل پڑی ہوئی ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور باہر جاتے وقت اس سے نہ صرف اپنے ہاتھ Disinfect کرتا ہوں بلکہ بچے اور آنے جانے والے مہمان بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ دفتر میں اور گاڑی میں بھی یہی اہتمام ہے۔ ہاتھ اچھی طرح دھوتا ہوں اور پھر بے فکر ہوں۔ اب‘ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی فکر مندی میں مبتلا ہونا ہے تو پھر زندگی گزر گئی۔
بات پھولوں کی ہو رہی تھی۔ ڈرائیو وے کے دونوں اطراف میں اس موسم کے پھولوں نے رنگوں کی کہکشاں بکھیر رکھی ہے۔ سفید سے لے کر بنفشی رنگوں کے پھول۔ دو دو رنگوں کی پتیوں والے پھول۔ صرف سیاہ رنگ کے پھولوں کی کمی ہے وگرنہ کون سا رنگ ہے جو اس بہار کا حصہ نہیں؟ پورچ کی دیوار سے لپٹی ہوئی گلاب کی بیل البتہ ابھی اپنے جوبن پر نہیں آئی مگر پوری تیاریوں میں ہے۔ پھولوں کی ”ڈوڈیوں‘‘ کے بے تحاشا اور ان گنت گچھے کھلنے کو بس تیار ہی ہیں۔ جس روز کھلنا شروع ہوں گے گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھولوں کی قوس قزح سی آنکھوں کو تراوت بخشے گی۔ یہ بیل میری اہلیہ خدا جانے کہاں سے لائی تھی۔ ایک چھوٹی سی شاخ تھی جسے اس نے اپنے ہاتھ سے اسی جگہ لگا دیا اور یہ بیل چل پڑی۔ کئی لوگ اس کی شاخ لے کر گئے ہیں مگر کہیں نہیں چلی۔ اس بیل کی بہار بڑی مختصر سی ہوتی ہے۔ جس طرح افراتفری میں اس کے پھول کھلتے ہیں اسی طرح لشٹم پشٹم جھڑ جاتے ہیں۔ نیچے مرجھائی ہوئی پتیوں کا پورا فرش سا بچھ جاتا ہے لیکن یہ چند روزہ بہار بھی وہ رنگ دکھاتی ہے کہ بیان کرنا مشکل ہے۔
چھوٹے سے مستطیل لان کے دو اطراف میں دیواریں ہیں اور دوسری دو سائڈوں پر دو دو کی قطار میں گملے ہیں۔ پیچھے بڑے گملے اور آگے تھوڑے چھوٹے والے۔ کئی اقسام کے پھول ہیں اور ہر قسم میں مزید کئی رنگوں والے۔ جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں ہر رنگ موجود ہے۔ مجھے تو ان کے نام بھی نہیں آتے۔ یہ میری اہلیہ کا شوق تھا۔ اسے پھولوں سے تو جیسے عشق تھا۔ اسے پھولوں کے نام بھی آتے تھے اور یہ بھی پتا تھا کہ ان کا موسم کون کون سا ہے۔ لاہور جانا ہوتا تو گورنر ہاؤس کے ساتھ والی چھوٹی سی سڑک جو اپر مال اور ڈیوس روڈ کو مسلم لیگ ہاؤس کے سامنے ملاتی ہے اس سڑک پر ایک پھولوں کے بیجوں کی دکان ہے غالباً سنی ویو سیڈ سٹور ہے۔ یہاں سے وہ بیج خریدتی۔ مالی سے پنیری لگواتی اور پھر پنیری کو گملوں میں شفٹ کرواتی۔ اب میں گھر میں پھول تو لگواتا ہوں مگر مجھ سے اتنا اہتمام نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ ہر موسم میں لان اسی طرح پھولوں سے بھرا دکھائی دیتا ہے جیسا اس کے ہوتے ہوئے ہوتا تھا مگر اب ہائیکورٹ کے سامنے والی گلی کے اندر سے ایک نرسری سے پنیری کے گملے لاتا ہوں اور مالی کے حوالے کر دیتا ہوں۔ مالی ”کلر‘‘ کی دو ریڑھیاں ڈلواتا ہے‘ گملے نئے سرے سے بھر کر تیار کرتا ہے اور پنیری لگا دیتاہے۔ مالی کو سختی سے تاکید ہے کہ موسم کے آتے ہی یہ سب کام یاد سے کر لے۔ پھول ہر حال میں لگنے چاہئیں۔ لان سال کے دو موسموں میں پھولوں سے بھرا ہونا چاہئے۔ ویسا ہی جیسا اس کے جانے سے پہلے ہوتا تھا۔
برسوں ہو گئے اب کبھی پھولوں کی نمائش پر بھی نہیں گیا۔ جب تک وہ تھی تب تک ”کمپنی باغ‘‘ میں لگنے والی پھولوں کی ہر نمائش پر اس کا جانا لازمی تھا۔ اب تو مجھے پتہ بھی نہیں چلتا کب نمائش لگی اور کب ختم ہو گئی۔ آخری بار بھی اس کے ساتھ ابدالی روڈ پر لگنے والی پھولوں کی نمائش میں گیا تھا۔ پھر جہاں وہ گئی وہیں نمائش میں شرکت چلی گئی۔ وہ پھولوں کے پاس کھڑی ہو کر مجھے بتاتی کہ یہ فلاں پھول ہے اور یہ فلاں۔ میں ہوں ہاں کر دیتا۔ وہ ہنس کر کہتی: آپ سن نہیں رہے۔ میں کہتا: سن تو رہا ہوں۔ وہ کہتی: میرا مطلب ہے آپ توجہ بالکل نہیں دے رہے۔ میں کہتا: پوری توجہ دے رہا ہوں۔ وہ کہتی: اچھا اس والے پھول کا نام بتائیں‘ میں نے ابھی آپ کو بتایا تھا۔ میں کہتا: یہ بے ایمانی ہے‘ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ بعد میں امتحان ہوگا؟ ویسے بھی میں پھولوں کی نمائش گاہ میں آیا ہوں‘ کمرۂ امتحان میں نہیں جہاں تم مجھ سے ”کوئیز‘‘ لے رہی ہو۔ پھولوں کے نام اب بھی نہیں آتے۔ دو چار نام یاد ہیں مگر یہ نہیں پتہ کہ یہ کس موسم کے ہیں۔
مجھے نہ پھولوں کا علم ہوتا تھا اور نہ ہی ان کے موسم کا۔ مجھے تو بس تبھی پتہ چلتا جب پھولوں کے رنگ اپنا جوبن دکھاتے اور چھب بکھیرتے۔ لان‘ پھول اور پودے۔ یہ اس کا شوق تھا اور کام بھی‘ میں تو صرف گزرتے ہوئے نظر مارتا تھا اور کبھی کبھار رک کر ان رنگوں پر غور کرتا تھا کہ کون سا ایسا رنگساز ہوگا جو ایسے رنگ بنا سکے سوائے میرے مالک اور خالق کے۔ اب میں یہ سب کچھ کرتا ہوں۔ روزانہ لان میں کھڑا ہو کر ایک ایک گملے کا جائزہ لیتا ہوں۔ کون سے گملے کے پھول جلد کھلے تھے اور کس کے دیر سے۔ کون سے پھول زیادہ نکلے ہیں اور کون سے کم۔ کس گملے میں پھول کم اور سبزہ زیادہ ہے اور کس گملے میں سبزہ کم ہے اور پھول زیادہ۔ یہ وہ حساب کتاب ہے جس سے کبھی میرا لینا دینا ہی نہیں ہوتا تھا مگر لان کو اور گملوں کو اسی حال میں رکھنے کی ذمہ داری نے بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ رات واپس گھر آیا تو لان میں اندھیرا تھا۔ گلاب کے پھولوں والی بیل بھی اندھیرے میں تھی۔ میں نے موبائل فون کی ٹارچ چلا کر اس کے خوشے چیک کیے۔ ”ڈوڈے‘‘ دیکھے ایک ڈوڈی سے گلابی پتیوں کی جھلک سی نظر آئی۔ بس دو تین دن کی بات ہے‘ پھر اس بیل پر وہ رنگ چڑھے گا کہ الامان۔ نیچے فرش روزانہ صاف کرنا پڑے گا۔ یہ ساری بہار بمشکل بیس پچیس دن چلے گی۔ صرف ان بیس پچیس دنوں کی بہار بھی بہت ہے۔ بہار کا تو ایک دن بھی غنیمت ہے۔
اسی بیل کے ایک طرف چکوترے کا ایک درخت تھا۔ جب میری اہلیہ نے بالشت بھر کا پودا اپنے ہاتھ سے یہاں لگایا تو گمان بھی نہیں تھا کہ ایسا شاندار نکلے گا۔ اس پر چکوترے یعنی گریپ فروٹ تو اس کے سامنے ہی لگنے شروع ہوگئے تھے۔ ایسے صحتمند اور بڑے بڑے کہ گمان ہوتا تھا‘ تربوز کے بچے ہیں۔ لگتے دس بارہ تھے مگر جو دیکھتا حیران رہ جاتا۔ کئی ملنے والے جاتے ہوئے ایک آدھ چکوترہ توڑ کر بھی لے جاتے کہ اس سائز کا چکوترہ بازار میں تو دیکھنے کو بھی نہیں ملتا۔ دو سال ہوئے یہ درخت ایک طرف جھکنا شروع ہو گیا تھا۔ اوپر گلاب کی بیل نے بڑھوتری کا راستہ روک دیا تھا۔ مالی سے مشورہ کیا کہ کیا کریں؟ اس نے کہا کہ دو تین ماہ بعد موسم ایسا ہوگا کہ اس پودے کو تھوڑی دور منتقل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ پھر اس نے اس چھوٹے سے درخت کی شاخیں کاٹ کر ہلکا کر دیا تاکہ یہاں سے نکال کر دوسری جگہ شفٹ کرنے میں آسانی ہو۔ دو تین ماہ بعد اس کو دوسری جگہ منتقل کر دیا مگر اسے نہ ہرا ہونا تھا نہ ہوا۔ دو تین ماہ بعد صرف سوکھا ہوا ٹھنٹھ باقی رہ گیا۔ اب وہ ٹھنٹھ بھی باقی نہیں‘ مگر ملال ہے اور مستقل ہے۔
ایک آدھ ماہ بعد پھول مرجھانا شروع کر دیں گے۔ بیل پر صرف پتے رہ جائیں گے۔ پھر گرمیوں کے بعد پھولوں کا ایک اور موسم آئے گا اور پھر ایک اور پت جھڑ۔ خزاں میں سب پھول پتے جھڑ جائیں گے۔ فارسی میں اس کیلئے کیا خوبصورت نام ہے ”برگریز‘‘ اس کے بعد پھر پھول پتے اپنے جوبن پر آ جائیں گے۔ باہر کے موسم ایک طے شدہ اور متعین طریقے سے بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی بہار کبھی خزاں‘ کبھی سردی اور کبھی گرمی۔ کاش اندر کے موسم بھی اس ترتیب کے ساتھ چلتے اور بدلتے مگر! مگر چھوڑیں۔ برگریز ایسا خوبصورت لفظ ہے کہ برسوں سے دامن پکڑے کھڑا ہے۔ نہ وہ چھوڑتا ہے اور نہ ہی اس سے دامن چھڑوانے کو دل کرتا ہے۔ فی الحال تو لان میں رنگوں کی بہار ہے۔ یہ بھی اس رحیم کی کرم نوازی ہے کہ آنکھوں کی تراوت کا بندوبست کر دیتا ہے۔ ورنہ کہاں ہم اور کہاں یہ صحن میں اتری ہوئی رنگوں بھری کہکشاں؟رنگوں بھری یہ کہکشاں اس خوف بھرے ماحول سے کہیں دور پرے لے جاتی ہے۔ بھلے تھوڑی دیر کیلئے ہی سہی!
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker