خالد مسعود خانکالملکھاری

جہاں ہر دروازہ دیوار ثابت ہو رہا ہے۔۔خالد مسعودخان

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بندہ سامنے کاغذ رکھے اور ہاتھ میں قلم پکڑے یہ سوچتا رہتا ہے کہ کالم کا آغاز کیسے کیا جائے اور کیا لکھا جائے؟ آج بھی ایسا ہی معاملہ آن پڑا ہے۔ ڈیرہ غازی خان سے پرے تونسہ سے آنے والی مسلسل اور نہایت ثقہ راویان کی بیان کردہ روایات کو کس کھاتے میں ڈالوں؟ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں‘ اور لکھوں تو کس طرح لکھوں؟ رشوت، ٹھیکے، قبضے، کرپشن اور زمینوں کی الاٹمنٹ کے لا متناہی سلسلے۔ ان سب کا کُھرا ایک ہی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کُھرا بھی ایسا کہ اس کا گھر تلاش کرنے کے لیے کسی کھوجی کی نہیں، محض کامن سینس کی ضرورت ہے کہ اس سے قبل تونسہ میں ایسی لوٹ نہ کبھی مچی تھی اور نہ کسی نے سنی تھی۔ راویان کو چھوڑیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ ہو رہا اور مسلسل ہو رہا ہے اور اس کی نہ کوئی روک ہے اور نہ رکاوٹ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو اس سب کے لیے صاحب کی حصہ داری نہیں بھی تو اشیر باد اور تھپکی ضرور شامل ہے اور اگر ایسا نہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ صاحب کو اپنے گھر کی خبر ہی نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہمارا یہ کہنا درست ہے کہ بارہ کروڑ آبادی کا پورا صوبہ کس کے حوالے کر دیا گیا ہے‘ جس سے اپنے گھر کی ایک چھوٹی سی تحصیل نہیں سنبھالی جا رہی‘ جسے ضلع بنانے کی افواہیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔
تحصیل تونسہ کو دو تحصیلوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ تحصیل تونسہ اور تحصیل کوہ سلیمان۔ یہ تحصیل 2018ء میں بنائی گئی۔ یہ وہی تحصیل کوہ سلیمان ہے جس کے نام پر اب ایک عدد کوہ سلیمان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنائی گئی ہے۔ اس کی جگہ پہلے جنوبی پنجاب کے سب سے بلند ہل سٹیشن اور تفریحی مقام فورٹ منرو کی ترقی کے لیے فورٹ منرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنائی گئی تھی‘ لیکن اب اسے ختم کر کے بظاہر ایک بڑا نام دیا گیا ہے کہ اس میں سارا کوہ سلیمان شامل نظر آتا ہے۔ وہ کوہ سلیمان جس کا ایک حصہ فورٹ منرو ہے‘ لیکن اس نام کی آڑ میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ صرف اور صرف کوہ سلیمان تحصیل کے لیے کھیلا جا رہا ہے۔ وہی تحصیل جس میں ہمارے پیارے وزیر اعلیٰ پنجاب کا آبائی قصبہ بارتھی بھی شامل ہے اور فی الوقت ساری ترقیاتی سکیموں کا رخ صرف اور صرف تونسہ براستہ ڈیرہ غازی خان برائے بارتھی کی طرف ہے۔ کوہ سلیمان میں ساری ترقیاتی سکیموں کے قریب ساٹھ ستر فیصد ٹھیکے جو بلا مبالغہ اربوں روپے پر مشتمل ہیں‘ صرف دو ٹھیکے داروں کے پاس ہیں۔ ان کے نام لکھنا ضروری نہیں؛ تاہم یہ دونوں نام زبان زد عام ہیں۔
میاں شہباز شریف کے دور حکومت میں بے روزگار ایگریکلچر گریجوایٹس کو ساڑھے بارہ ایکڑ فی گریجوایٹ بے آباد سرکاری زمین الاٹ کرنے کی پالیسی بنائی گئی اور 2010 میں ایک لمبے چوڑے طریقہ کار کو پورا کرنے والے ان بے روزگار ایگری کلچر گریجوایٹس کو پالیسی نمبر 1234 /2010-780 مورخہ 6 مارچ 2010 کے تحت زمین الاٹ کر دی گئی۔ یہ زمین الاٹ کرنے کے اختیارات ہر ضلع کے ڈی سی او/ ڈسٹرکٹ کلکٹر کو تفویض کر دیئے گئے۔ تحصیل تونسہ کے بھی 94 گریجوایٹس کو بذریعہ قرعہ اندازی اسسٹنٹ کمشنر تونسہ نے 2 مئی 2010 کو زمینیں الاٹ کر دیں۔ ڈی سی او ڈیرہ غازی خان نے اس الاٹمنٹ کی مورخہ 28 مئی کو توثیق کر دی۔ بمطابق ضابطہ ہر گریجوایٹ نے سرکاری مقررہ کردہ فیس 6750 روپے فی کس جمع کروا دی۔
ان گریجوایٹس کو الاٹ کردہ زمین تونسہ کے موضع رکھ قیصرانی میں واقع تھی اور اس اراضی پر وہاں کے زورآور قبضہ کیے بیٹھے تھے اور زمین چھوڑنے پر کسی طور تیار نہ تھے۔ ان گریجوایٹس کو رکھ قیصرانی میں لاٹ نمبر 205 تا لاٹ نمبر 298 الاٹ ہوئیں۔ یہ کل 9400 کنال اراضی بنتی تھی جبکہ ان زور آوروں نے اس موضع کی 58000 کنال اراضی پر قبضہ کر رکھا تھا اور وہ اس میں سے یہ تھوڑی سی زمین بھی چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے۔ ان قابضین میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلے میں عدالت میں رٹ کر دی۔ قصہ مختصر یہ کہ یہ معاملہ عدالتوں میں قریب آٹھ سال چلتا رہا۔ اس دوران کئی بار ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ کو یہ قبضہ واگزار کروانے کے لیے احکامات بھی جاری ہوئے مگر بوجوہ یہ قبضہ جوں کا توں رہا اور ایگریکلچر گریجوایٹس اس دوران ہر اس دروازے پر دستک دیتے رہے‘ جہاں سے بھی انہیں مدد کی امید تھی۔ اس سلسلے میں وہ احتجاج بھی کرتے رہے اور احتجاجی کیمپ بھی لگاتے رہے۔ عدالتوں میں خوار ہوئے اور اپنے علاقے کے وزیر اعلیٰ کے پاس شنوائی کے لیے درخواستیں بھی دیتے رہے مگر انہیں کہیں سے مدد نہ ملی۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ وہی ہو رہا تھا جو چچا میر تقی میر کے ساتھ ہوا تھا یعنی وہ اسی دروازے پر دستک دیتے رہے جو ان قبضہ کرنے والوں کو ضلعی انتظامیہ وغیرہ سے بچانے کا باعث تھا‘ یعنی
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
قبضہ کرنے والوں میں ایک سابق ایم پی اے جو بڑے گھر والوں کا قریبی عزیز تھا، شامل تھا۔ ایک بڑے گھر والوں کا بھائی، دو ماموں اور اسی قبیل کے تگڑے لوگ۔ بھلا ان کے سامنے بے روزگار اور بے آسرا گریجوایٹس کی دال کیا گلتی؟ بڑی تگ و دو کے بعد لاہور سے ایک تحقیقاتی افسر آیا اور قابضین کے ڈیرے پر بیٹھ کر رپورٹ لکھ کر واپس لاہور چلا گیا۔ یہ تو ایگری کلچر گریجوایٹس کو الاٹ کردہ 9400 کنال اراضی کا قصہ تھا۔
تحصیل تونسہ میں آخری اشمال اراضی یعنی بندوبست 1967ء میں ہوا تھا اور اب تازہ ترین بندوبست 2018 میں ہوا‘ یعنی صاحب کے برسر اقتدار آنے کے بعد تحصیل کوہ سلیمان میں اشتمال ہوا اور اس کے دو مواضعات موضع زین اور موضع گلکی کے آباد کاروں اور زمین داروں کو بے دخل کر کے شاملات (نا ممکن) کی تقریباً 8000 کنال اراضی صاحب نے اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی نام پر منتقل کروا لی ہے۔ ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ مختلف مواضعات میں بکھری ہوئی اپنی اراضی کو کسی ایک جگہ پر اکٹھا کرنے کا نام اشتمال اراضی ہے مگر اس سے پہلے کبھی یہ نہیں سنا تھا کہ اشتمال اراضی کے نام پر دیگر کسی موضع میں واقع اراضی کے عوضانے کے بجائے اشتمال کے نام پر شاملات کی زمین کو ہتھیایا گیا ہو‘ مگر یہ ہو رہا ہے۔ موضع جاڑا میں بیرسٹر امام قیصرانی کی جدی یعنی باپ دادا کی وراثتی زمین پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ بیرسٹر امام کوئی بالکل لا وارث یا بے حیثیت آدمی نہیں۔ 2013ء میں وہ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 240 سے جبکہ ملحقہ حلقہ پی پی 241 سے سردار عثمان بزدار مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے۔ یہ دونوں اصحاب اس الیکشن میں ناکام ہوئے تھے۔ خدا کی قدرت ہے کہ اکٹھے الیکشن لڑنے والوں میں سے ایک شخص سائل ہے اور دوسرے کے لیے مجھے مناسب الفاظ نہیں مل رہے۔ بعض اوقات ذخیرہ الفاظ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اسی صورتحال کا ہمارا پرانا دوست اور ڈیرہ غازی خان ڈگری کالج کا سابق صدر غلام مصطفی میرانی بھی شکار ہے‘ اور اپنی چالیس ایکڑ کے قریب زمین کے حصول کے لیے جس دروازے پر دستک دیتا ہے آگے سے وہ دروازہ حقیقت میں دیوار ثابت ہوتا ہے۔ شاعر نے اس کے بالکل متضاد ایک شعر لکھا ہے
دستک دے کر خوش فہمی میں مت رہتا
یہ دیوار نہیں، اس کا دروازہ ہے
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker