خالد مسعود خانکالملکھاری

ایک بے چسا کالم اور چس دار ناشتہ۔۔خالد مسعودخان

گفتگو کا کوئی خاص موضوع نہیں تھا۔ مجموعی سیاسی صورتحال‘ ماضی کی باتیں اور ملتان کے علیحدہ صوبہ بننے کے امکانات وغیرہ وغیرہ۔ میں نے پوچھا کہ حالیہ ایف آئی آر کا کیا سٹیٹس ہے؟ ہاشمی صاحب کہنے لگے: اگر مجھے یہ گرفتار کرناچاہیں تو کسی نئے پرچے کی ضرورت نہیں۔ ڈھیروں پرانی ایف آئی آرز درج ہیں اور ان میں سے تقریباً ساری کی ساری ایسی ہیں جو نہ تو ختم ہوئی ہیں اور نہ ہی داخلِ دفتر ہوئی ہیں۔ میں نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انگریز کے قانون کے تحت ابھی بھی کسی ایف آئی آر کی عمر اَسی سال ہوتی ہے۔ یعنی اگر وہ ختم نہیں ہوئی یا اس پر کوئی فیصلہ صادر نہیں ہوا اور وہ محض ایک طرف خاموشی سے پڑی ہے تو وہ اَسی سال کے اندر کسی وقت بھی دوبارہ ”ان ایکشن‘‘ آ سکتی ہے۔ جاوید ہاشمی کہنے لگے: سٹوڈنٹس لائف کی سینکڑوں‘ تحریکِ ختم ِنبوت کی درجنوں‘ 1977ء کے انتخابات کے بعد چلنے والی تحریک کی کئی ایف آئی آرز اور پرویز مشرف دور میں درج ہونے والا بغاوت کا پرچہ۔ سب کچھ موجود ہے۔ مجھے گرفتار کرنے کے لیے نئی ایف آئی آر کی کیا ضرورت ہے؟ کسی بھی سابقہ پرچے میں پکڑ کر اندر کیا جا سکتا ہے۔ میں نے پوچھا :پرویز مشرف دور والے بغاوت کے کیس کی کیا صورتحال ہے؟ کہنے لگے :میں اس پر گزشتہ تیرہ سال سے ضمانت پر ہوں۔ محض اس ضمانت کو کینسل کر کے مجھے اندرکیا جا سکتا ہے۔ یہ پرچہ 2003 ء میں درج ہوا تھا اور میں اس کیس میں چار سال جیل میں گزار کر 2007ء میں باہر آیا تھا۔ مجھ پر درج کیس ختم نہیں ہوا۔ محض ضمانت ہوئی ہے۔
میں نے پوچھا :اب نیا پرچہ کس جرم میں ہے؟ جاوید ہاشمی نے تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے کہا کہ پتا نہیں کیا جرم ہے اور کیا دفعہ لگائی گئی ہے۔ میں نے تو صرف سنا ہے کہ کوئی پرچہ ورچہ ہو گیا ہے۔ ایف آئی آر کا بھی سنا ہے کہ سیل کر دی گئی ہے۔ مجھے کیا پتا کیا پرچہ ہوا ہے؟ رہ گئی میری باتیں‘ تووہ میں روزانہ کرتا ہوں کہ ملک میں سول بالادستی ہونی چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ اس موجودہ حکومت کو بہر حال پانچ سال پورے کرنے چاہئیں۔ کوئی تو ایسی سول حکومت ہو جو اپنی مدت پوری کرے‘ پانچ سالہ مینڈیٹ کو اپنی مدت پوری کرنے دیا جانا چاہیے‘تاہم آپ جیسے کسی دوست سے سنا ہے کہ مجھ پر دوبارہ بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ نہ میں اداروں کے خلاف ہوں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے۔ بس آئین کی بالادستی اور اداروں کی حدود و قیود کی بات کرتا ہوں اور وہ میں کرتا رہوں گا۔ اگر مجھے گرفتار کر لیا گیا تو میں ضمانت کے لیے درخواست دائر نہیں کروں گا۔ میں نے ہنس کر کہا: ہاشمی صاحب! آپ سب کچھ بڑے سوچ سمجھ کر اور پورے حساب کتاب سے کرتے ہیں۔ کسی بھولپن یا انجانے میں نہیں کرتے۔ آپ نے پورا حساب لگا رکھا ہے کہ اول تو آپ کی گرفتاری حکومت کو مہنگی پڑے گی۔ اس عمراور صحت کی اس حالت میں آپ کی گرفتاری پر آپ کے دشمن بھی احتجاج کریں گے۔ اس لیے آپ کی گرفتاری کا امکان بظاہر نہ ہونے کے برابر ہے ‘تاہم اگر حکومت نے یہ حماقت کر ہی دی تو آپ اپنی گرفتاری کو شاید انجوائے کریں گے۔ جاوید ہاشمی کہنے لگے: میری طرف سے مجھے کل کے پکڑتے آج پکڑ کر اندر کر دیں‘ لیکن میں جو باتیں کہہ رہا ہوں نہ ان سے دستبردار ہوں گا اور نہ ہی فردِجرم سے انکار کروں گا۔
باتیں ادھر اْدھر سے ہوتی ہوئیں عشروں پہلے کی غیر جماعتی سیاست تک جا پہنچیں۔ سید فخر امام کے سپیکر قومی اسمبلی بننے کا قصہ شروع ہو گیا۔ ووٹ اکٹھے کرنے کی مہم کی تفصیل بیان کی گئی پھر بات ملتان میں ضلع کونسل کے چیئر مین کے انتخاب پر آ گئی۔ اس شہرہ آفاق انتخاب میں ایک طرف سید یوسف رضا گیلانی تھے اور مقابلے میں تب کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام تھے۔ سید فخر امام یہ الیکشن ہار گئے۔ دوسری طرف ان کی اہلیہ سیدہ عابدہ حسین جھنگ سے ڈسٹرکٹ کونسل کی چیئر پرسن منتخب ہو گئیں۔ جاوید ہاشمی بتا رہے تھے کہ الیکشن ہارنے کے بعد وہ سید فخر امام کے آفیسرز کالونی والے مکان میں اکٹھے ہوئے۔ میں نے درمیان میں لچ تلتے ہوئے کہا کہ وہی گھر جو سید فخر امام نے ملک عطا اللہ بوسن سے اونے پونے داموں مار لیا تھا۔ ہاشمی صاحب مسکرائے اور دھیمی آواز میں کہنے لگے: ہاں! وہی گھر‘ لیکن اب آگے کوئی بات نہ کرنا۔ میری بات سنو: میں نے جواباً ہنس کر کہا: ظاہر ہے ناشتہ کروانے کے عوض بولنا آپ کا ہی حق ہے۔
جاوید ہاشمی بتانے لگے : ہم نے سید فخر امام کو کہا کہ جمہوری تعداد کی اعلیٰ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں وزارتِ بلدیات سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ میری اس تجویز پر سید فخر امام نے پہلے تو استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تاہم جب دیگر افراد نے بھی یہی مشورہ دیا تو سید فخر امام با دلِ نخواستہ اس استعفے پر تیار ہو گئے۔ ہم نے ان کا استعفیٰ پی پی آئی کے ذریعے اخبارات تک پہنچا دیا۔ بی بی عابدہ حسین جھنگ سے الیکشن جیت کر ملتان آ گئیں۔ موبائل فون تو ہوتے نہیں تھے کہ جھٹ پٹ خبر پہنچائی اور سنائی جا سکتی۔ عابدہ حسین گھر پہنچیں تو کہنے لگیں کہ فخر امام استعفیٰ دیں گے تو نہیں مگر انہیں دے دینا چاہیے۔ جب ہم نے بتایا کہ نہ صرف وہ استعفیٰ دے چکے ہیں بلکہ ان کا استعفیٰ اب تک اخبارات کو بھی پہنچ چکا ہے تو وہ بڑی حیران ہوئیں۔
پھر باتیں مسلم لیگ (ن) سے رخصتی اور پی ٹی آئی میں شمولیت سے ہوتی ہوئیں دوبارہ ہاشمی صاحب کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر آ گئیں۔ ہاشمی صاحب کہنے لگے کہ انہیں میاں نواز شریف نے کبھی بھی دل سے یا خوشی سے مسلم لیگ( ن) کی ٹکٹ نہیں دی۔ 1988ء سے لے کر 2008ء تک انہیں ہمیشہ ٹکٹ سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی‘ خصوصاً لاہور سے تو ہر بار انہوں نے ٹکٹ بڑی جدوجہد کے بعد حاصل کیا‘ تاہم اس کے باوجود نواز شریف ان کے لیڈر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ ماضی کو چھوڑیں‘ 2014 ء کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے جو آپ کے ساتھ کی وہ کم تھی کہ آپ دوبارہ مسلم لیگ( ن) میں شامل ہو گئے؟ مسلم لیگ (ن) کی قومی قیادت نے آپ کو بالکل لاوارث چھوڑ دیا اور مقامی قیادت نے باقاعدہ آپ کے خلاف مہم چلائی؟ جاویدہاشمی کہنے لگے: آپ کی دونوں باتیں سو فیصد درست ہیں‘ لیکن میں نے بہر حال سیاست تو کرنی تھی۔ میں نے کہا: لیکن آپ کی سیاست کہاں گئی؟ آہستہ آہستہ آپ کو انتخابی سیاست سے آئوٹ کر دیا گیا ہے۔ 2018ء میں آپ کو نہ تو آپ کے آبائی حلقے سے جو اَب دوبارہ آپ کے لیے کافی امکانات لیے ہوئے تھا‘ ٹکٹ دیا گیااور نہ ہی ملتان شہر سے۔ ہاشمی صاحب خاموش ہو گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ جاوید ہاشمی سیاسی طور پر تنہااور آئندہ کے بارے میں کنفیوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی گزشتہ سات سال کی سیاسی غلطیوں کو کسی طور تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔
قارئین ! مجھے افسوس ہے کہ ایسی بہت سی باتیں جو مزیدار بھی تھیں اور تلخ بھی وہ ساری کی ساری ”آف دی ریکارڈ‘‘ تھیں۔ اب امانت میں خیانت تو نہیں کی جا سکتی۔ اگر ہاشمی صاحب تھوڑی ہمت کرتے تو آپ لوگوں کو ”چس‘‘ آ جاتی‘ تاہم فی الحال اسی ”بے چسے‘‘ کالم پر گزارہ کریں۔ ویسے ایک بات جو آف دی ریکارڈ نہیں‘ وہ یہ ہے کہ ناشتہ بہت مزیدار اور چس دار تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker