خالد مسعود خانکالملکھاری

تھیا گلی‘ وادیٔ نلتر اور برونکس چڑیا گھر کے برفانی چیتے۔۔خالدمسعودخان

نلتر جانے کا قصد کیا تو دو تین لوگوں نے کہا کہ جھیلیں دیکھتے ہوئے آتے یا جاتے وقت بشکری میں برفانی چیتا ضروری دیکھیے گا۔ اسد تو ویسے ہی جانوروں کا دیوانہ تھا‘ دوسرا اس نے کبھی زندہ برفانی چیتا بھی نہیں دیکھا تھا وہ تو اس پر فوری طور پر تیار ہو گیا۔ ست رنگی جھیل سے واپسی پر اصل راستے سے تھوڑا سا بائیں طرف جیپ موڑنے کے بعد تھوڑی ہی دور جاکر افسر جان نے جیپ بند کر دی اور کہنے لگا: وہ سامنے درختوں کے پیچھے چیتا ہے۔ جیپ چیتے والے احاطے سے قریب دو سوگز دور روک دی کہ گاڑیوں کا اس سے آگے لے جانا منع تھا۔ ہم جیپ سے اترکر پیدل چیتے کی طرف چل پڑے۔
یہ ایک کافی بڑا جالی والا پنجرہ تھا‘ بلکہ دو تین مختلف پنجرے تھے جو آپس میں جڑے ہوئے تھے اور ان میں ایک دوسرے کے اندر جانے کیلئے اندرونی دروازے بھی تھے۔ ساتھ انتظامی بلاک تھا‘ غرض یہ ایک پورا کمپلیکس تھا اور خاصی بڑی جگہ گھیرے ہوئے تھا۔ انتظامی بلاک میں چیتے کی نقل و حرکت کو ہمہ وقت مانیٹر کرنے کی غرض سے کلوز سرکٹ کیمرے لگے ہوئے تھے جو نہ صرف کمرے کے اندر سے بلکہ دور بھی کسی جگہ دیکھے جا رہے تھے۔ ہمیں آتا دیکھ کر ایک شخص ہماری طرف آیا اور اس نے بتایاکہ چیتا اس وقت پہلے جنگلے میں ہے اور جنگلے کے بالکل ساتھ بیٹھا ہے۔ ہم اس کے اشارے والی جانب چل پڑے۔ جنگلے کے بالکل قریب ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں نہایت ہی خوبصورت اور صحتمند برفانی چیتا اونگھ رہا تھا۔ ہمارے قدموں کی چاپ سن کر اس نے بڑی کاہلی سے آنکھیں کھولیں، منہ کھول کر جمائی لی اور کھڑے ہوکر اپنے اگلے پنجے پھیلا کر انگڑائی لی اور بڑے شاہانہ انداز میں پاؤں پھیلا کر بیٹھ گیا‘ گویا کہہ رہا تھاکہ اگر تصویریں لینی ہیں تو مابدولت تیار ہیں۔
یہ مادہ برفانی چیتا تھا۔ کیئرٹیکر نے مزید ہوشیار کرنے کیلئے اسے نام لے کر پکارا۔ اس کا نام Lovely تھا۔ عمر پوچھی تو پتا چلا کہ ابھی تھوڑے دن پہلے سات سال پورے کرکے آٹھویں سال میں لگی ہے۔ اس چیتے کے بھی بہت سے قصے سننے میں آئے؛ تاہم یہ مادہ بچہ 31 دسمبر 2012ء کو خنجراب کے پاس پانی میں بہتا ہوا ملا تھا۔ تب اس کی عمر محض چند ماہ تھی۔ کچھ لوگوں نے اس برفانی چیتے کو اس پانی سے نکالا اور محکمہ جنگلی حیات کو اس نایاب نسل کے چیتے کے بچے کی اطلاع دی۔ اس برفانی چیتے کے بچے کو گلگت بلتستان کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے اپنی تحویل میں لے لیا اور شاہراہ قراقرم کے کنارے ایک چھوٹے سے پنجرے میں بند کر دیا۔ یہ ایک چھوٹا اور تنگ سا پنجرہ تھا جس میں اس معصوم جانور کو بند کر دیا گیا اور یہ اس پنجرے میں پورے دو سال تک بند رہا۔ اس دوران وہاں سے گزرنے والی بے پناہ ٹریفک، گرمی، خراب موسم اور ہر آتے جاتے کی جانب سے غیر دوستانہ رویئے کے سبب مسلسل اذیت اور تکلیف میں رہا تاوقتیکہ سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن آف پاکستان نے اس برفانی چیتے کی حالت زار پر آواز اٹھائی۔ اس کے نتیجے میں اس برفانی چیتے کے لیے خصوصی طور پر نلتر وادی میں گیارہ ہزار مربع فٹ کا خصوصی جنگلہ مع دیگر سہولیات تیار کیا گیا۔ اس خصوصی اہتمام کیلئے سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن، پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان، یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بذریعہ امریکی سفارت خانہ اسلام آباد، سنو لیپرڈ ٹرسٹ، سنو لیپرڈ کنزروینسی اور انٹرنیشنل فنڈ فار اینیمل ویلفیئر نے تعاون کیا اور اس چیتے کو دو سال بعد آرام سے رہنا نصیب ہوا۔
برفانی چیتا اس وقت ان جانوروں میں شمار ہوتا ہے جو معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر میں یہ نایاب جانور صرف وسطی اور جنوبی ایشیاء کے پہاڑی سلسلے میں پایا جاتا ہے۔ اس کو بچانے کے لیے بہت سے قانون بنائے گئے ہیں اور پاکستان ان پر دستخط کرکے ان تمام قوانین پر عمل کرنے کا پابند ہے‘ جس سے اس جاندار کی نسل کو بچانے میں مدد مل سکے۔ پاکستان میں برفانی چیتے قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں پائے جاتے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد دو سو سے چار سو کے درمیان ہے۔ اس جانور کو ذاتی تحویل یا قید میں رکھنا خلاف قانون ہے۔ اس قانون کے تحت ایک عدد برفانی چیتا حمزہ شہباز شریف سے برآمد کرکے لالہ زار نیشنل پارک نتھیا گلی میں رکھا ہوا ہے۔ اس چیتے سمیت اس وقت کل دو عدد برفانی چیتے قید کی حالت میں پاکستان میں موجود ہیں۔ ایک نتھیا گلی میں اور دوسرا نلتر وادی میں۔ دونوں چیتے مادہ ہیں، جبکہ ایک عدد نر برفانی چیتا چودہ سال قبل 2006ء میں پانچ سال کے معاہدے کے تحت امریکہ کو نسل کشی کی غرض سے ادھار کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ پانچ سال چھوڑ آج چودہ سال گزر چکے ہیں مگر LEO نام کا یہ نر برفانی چیتا آج بھی نیویارک کی کائونٹی برونکس کے چڑیا گھر میں ہے۔ وہاں یہ برفانی چیتے کی نسل کشی کا فریضہ بھی سرانجام دے چکا ہے؛ تاہم پاکستان میں دو عدد مادہ چیتا گزشتہ کئی سال سے کسی نر چیتے کی منتظر ہیں لیکن امریکی باقاعدہ ایک ایم او یو کے تحت Loan کی بنیاد پر بھیجے گئے نر چیتے کو واپس کرنے پر تیار نہیں۔
ویسے تو سنا ہے کہ حمزہ شہباز شریف بھی سوہنی نام کی اس مادہ چیتا کو وائلڈ لائف والوں کو دینے پر رضامند نہیں تھا مگر محکمہ والوں نے بتایاکہ پاکستان نے اس جانور کے تحفظ کے لیے جن قوانین پر دستخط کیے ہیں ان کے تحت آپ اس جانور کو اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکتے لہٰذا زیادہ خرابی اور بدنامی سے بچنے کیلئے بہتر ہے کہ آپ اسے سرنڈر کر دیں۔ مزید کہا گیاکہ چیتا تو آپ کو بہرحال واپس کرنا پڑے گا؛ تاہم اس کے ساتھ عالمی سطح پر آپ کی شہرت پر جو داغ لگے گا وہ علیحدہ ہو گا‘ لہٰذا انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ چیتا‘ جو انہوں نے غیر قانونی طریقے سے وسطی ایشیاء کی ریاست سے سمگل کرکے منگوا کر اپنی ڈونگا گلی والی رہائش میں رکھا ہوا تھا‘ واپس کر دیا۔ ایک رازدار نے بتایا کہ یہ چیتا واپس تو مل گیا ہے لیکن اس کی رہائش اور کھانے پینے کی صورتحال اس سے کہیں بری ہے جو اس جانور کیلئے درکار ہے۔ اس وقت یہ چیتا پرندوں والے پنجرے میں قید ہے اور حال یہ ہے کہ اسے حمزہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ بہتر کھانے کی سہولت میسر تھی۔
دو سال قبل نلتر میں قبل از وقت ہونے والی شدید برفباری کے باعث لولی اور اس کے ساتھ متعین محکمے کے دو ملازم برفباری کے باعث مقید ہو گئے تھے۔ خطرہ تھاکہ یہ چیتا بھوک سے ہلاک ہو جاتا‘ لیکن وہاں کے چار رضا کار پہلے جیپ پر اور پھر ساری رات نو گھنٹے پیدل چل کر بشکری پہنچے۔ اس چیتے کو پنجرے میں ڈالا اور پھر اس پنجرے کو چیتے سمیت گھنٹوں پیدل اٹھا کر نلتر بالا پہنچے اور اسے مرنے سے بچایا۔ یہ مادہ چیتا گزشتہ سات سال سے تنہا ہے۔ اس کے کیئر ٹیکر نے بتایا کہ گزشتہ سال جب یہ مادہ چیتا جوبن پر آئی تو جنگل سے ایک چیتا اس پنجرے کے اردگرد گھومتا رہا مگر اسے جفتی کے لیے سرکار سے اجازت نہ مل سکی۔ یہ خوبصورت اور نایاب جانور‘ جس کی آبادی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے‘ قید میں بھی اپنی نسل بڑھا سکتا ہے جس طرح نیویارک کے برونکس چڑیا گھر میں پاکستانی چیتا لیو امریکہ میں اس کی نسل بڑھا رہا ہے۔ میری درخواست ہے کہ نتھیا گلی کے لالہ زار نیشنل پارک میں موجود سوہنی کو بھی نلتر بھیج دیا جائے اور برونکس کے چڑیا گھر میں موجود پاکستانی نر چیتے LEO کو معاہدے کے تحت واپس لایا جائے۔ سنتے ہیں کہ کپتان تو امریکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ کپتان کو چاہیے کہ دستخط شدہ ایم او یو امریکیوں کے منہ پر مارے اور اپنا ادھار دیا گیا چیتا واپس لائے جو پانچ سال کیلئے بھیجا گیا تھا مگر چودہ سال گزرنے کے باوجود ہمیں واپس نہیں مل رہا۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker