خالد مسعود خانکالملکھاری

خالدمسعودخان کا کالم:حق مانگنا تو میرا حق ہے

لکھنے اور بولنے کی لامحدود آزادی دنیا میں کہیں بھی نہیں۔ ان ممالک میں بھی نہیں جو آزادیٔ اظہار کے سرخیل ہیں۔ کوئی نہ کوئی ایسا پہلو ضرور ہے جہاں جا کر آزادیٔ اظہار کی گاڑی کو بریک لگ جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں ہولو کاسٹ اس کی ایک مثال ہے؛ تاہم اس ایک مخصوص موضوع کے علاوہ بھی کئی معاملات ہیں مثلاً قومی سلامتی سے متعلق بہت سے پہلو ایسے ہیں جہاں پر ان کا میڈیا از خود اپنے اوپر ایک ذمہ دارانہ پابندی عائد کر لیتا ہے اور بہت سے معاملات میں ریاست اپنا کردار سرانجام دیتی ہے۔ برطانیہ میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے عرصہ ہوا بتایا تھا کہ برطانوی اخبارات کے دفاتر میں ایم آئی فائیو یا سکس (مجھے اب ٹھیک طرح یاد نہیں لیکن میرا گمان ہے کہ اس نے غالباً ایم آئی فائیو بتایا تھا) کا ایک بندہ بطور ملازم موجود رہتا ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ وہ حکومتی انٹیلی جنس ایجنسی کا ملازم ہونے کے باوجود تنخواہ اخبار سے لیتا ہے اور اپنی ایجنسی کی پالیسی کے مطابق خبروں پر نظر رکھتا ہے اور انہیں حسب ِپالیسی سنسر کرنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ پاکستان میں حالات ایسی صورتحال سے نسبتاً بہتر ہیں لیکن صورتحال آہستہ آہستہ خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے میڈیا کہیں بھی مکمل آزاد نہیں اور میرا ذاتی خیال ہے کہ اسے مادر پدر آزاد چھوڑا بھی نہیں جا سکتا؛ تاہم بہتر یہی ہے کہ میڈیا ازخود یہ طے کرلے کہ اس کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ Limitations کیا ہیں ادھر امریکہ میں بعض معاملات پر لوگ وہ کچھ بول سکتے ہیں جو ہمارے ہاں اب ممنوعہ موضوعات میں شمار ہوتے جا رہے ہیں مثلاً اگر امریکہ میں قاضی فائز عیسیٰ والے کیس کا فیصلہ ہوتا تو سول سوسائٹی وہ چیخ و پکار کرتی کہ رہے نام اللہ کا‘ لیکن ہمارے ہاں ایسے معاملات میں لے دے کر سوشل میڈیا بچا ہے اور پھر آپ کو تو علم ہی ہے کہ سوشل میڈیا پر حقائق اور خواہش کے درمیان کیا نسبت وجود میں آ چکی ہے۔ لہٰذا ہوا یہ ہے کہ جو بات باقاعدہ میڈیا پر طریقے سے کی جا سکتی تھی اس پابندی کے باعث بہت زیادہ مبالغہ آرائی پر مبنی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہیں اور صبح سے لے کر رات گئے تک دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک گھوم کر واپس بھی آ جاتی ہیں۔ خبروں‘ تبصروں اور دل کی بھڑاس سے بھرے ہوئے کمنٹس کو فارورڈ کرنا گویا سوشل میڈیا پر صدقہ جاریہ بن چکا ہے۔
میرا خیال ہے کہ امریکہ میں جسٹس فائز عیسیٰ کیس پر یہاں رہنے والے اگر تبصرہ کریں تو ان پر توہین عدالت نہیں لگتی اور ان تبصروں کو سننے پر بھی اس کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ پاکستانی قوانین امریکہ میں نہیں چلتے لہٰذا میں ان تبصروں کو سننے کی حد تک آزاد ہوں۔ جس طرح ہمارے ہاں عدلیہ سوموٹو کے تحت کسی بھی معاملے کو اپنے دائرۂ اختیار میں لاکر اس پر ایکشن لے سکتی ہے اسی طرح امریکہ میں رہائش پذیر ہمارے دوست بھی ”سوموٹو‘‘ لیتے ہوئے بہت سے معاملات پر سوالات کرنے اور تبصرہ کرنے میں آزاد ہیں۔ ان کے کئی سوالات تو ایسے ہیں کہ اس مقام تک جاتے ہوئے اس عاجز کے پَر جلتے ہیں لیکن بعض سوالات ایسے ضرور ہیں جو پوچھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ریاست مدینہ میں قاضی کسی پوچھ تاچھ سے بالاتر تھے؟ کیا ریاست مدینہ میں لوگ صرف عمرؓ بن خطاب سے ہی ان کی بات سننے سے قبل ان کے لمبے کُرتے کے کپڑے سے متعلق جواب مانگنے تک محدود تھے یا وہ قاضی سے بھی سوال کر سکتے تھے؟ کیا ریاست مدینہ میں قاضی اپنے فیصلوں کے بارے میں کسی کو جوابدہ نہیں تھے؟ کیا ریاست مدینہ میں قاضی کی عزت و تکریم بذریعہ قانون کروائی جاتی تھی یا ان کے فیصلے ان کی عزت و تکریم میں اضافے کا باعث بنتے تھے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اسلامی نظریاتی کونسل توہین عدالت کے قانون کی شرعی حیثیت پر کوئی واضح رائے دے سکتی ہے؟ قاضی کی جانب سے اپنی مراعات اور تنخواہ میں از خود اضافے کے اختیار بارے کوئی فیصلہ سنا سکتی ہے؟ کیا وہ بتا سکتی ہے کہ ہمارے تہہ در تہہ نظام انصاف میں سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے کے بعد مجرم کی سزا ختم کرنے کا صدارتی اختیار شریعت کے مطابق ہے یا اس کے منافی؟ قتل کی صورت میں دی جانے والی سزائے موت جو اسلام میں ریاست سے زیادہ افراد کے درمیان باہمی معاملہ ہے اور اس کی صرف دو صورتیں ہیں دیت یا قصاص۔ ایسے میں مقتول کے ورثا کی مرضی اور منشا کے بغیر صدرِ پاکستان قاتل کی سزائے موت ختم کرسکتا ہے؟کیا اداروں کا احترام قانون کے اطلاق سے زبردستی کروانا ممکن ہے؟ آپ لوگوں کو زبردستی خاموش تو کرواسکتے ہیں لیکن وہ جو ایک لفظ عزت ہے آپ وہ نہیں کرواسکتے۔ توہین نہ کرسکنے کی مجبوری ‘ عزت کرنے سے کوسوں دور کی چیز ہے۔ اداروں کا احترام لازم ہے لیکن اداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔ قانون کے زور پر میں اپنی عزت و احترام نہیں کرواسکتا۔ ڈر اور خوف لوگوں کو منہ پر تو مطیع کر سکتا ہے مگر دل سے عزت نہیں کروا سکتا۔ معاشرہ اور ادارے اگر باہمی احترام کے رشتے میں گندھے ہوں تو اس سے بڑھ کر بھلا اور کیا ہوسکتا ہے؟ لیکن اس کیلئے اداروں کو اپنی ذات سے اوپر جا کر فرد اور معاشرے کے حوالے سے سود مند اور باہمی احترام کا رویہ اپنانا ہوگا اور خود کو کسی سے بالا تر اور دوسرے کو حقیر و کمترسمجھنے کے بجائے ان کا مدد گار اور سہولت کار بنانا ہوگا۔ لیکن ہوکیا رہا ہے؟
صرف حالیہ واقعات کو سامنے رکھیں تو بہت سے سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ ان بہت سے سوالات میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جو پوچھنے کو دل تو کرتا ہے لیکن پوچھ نہیں سکتے۔ لیکن کئی سوالات ایسے ہیں جو آئین کے تحت دیئے گئے فرد کے حقوق کے حوالے سے تو بہر حال پوچھے جاسکتے ہیں مثلاً یہ کہ کیا پاکستان میں کسی عام آدمی کو اسی قدر جلدی انصاف مل سکتا ہے جس طرح اس ملک کی مقتدر اشرافیہ کو مل رہا ہے؟ آئین پاکستان تمام پاکستانی شہریوں کو یکساں انصاف کی یقین دہانی کرواتا ہے۔ کیا پاکستان میں برسوں سے عداتوں میں اپنے کیسوں کی تاریخ لگنے کے منتظر لاکھوں پاکستانی شہری آئین کی اس یقین دہانی کے تحت اسی پھرتیوں بھرے انصاف کے حق دار نہیں جو ہم آج کل ہر چوتھے دن ملاحظہ فرماتے ہیں؟ ایف بی آر کے دائرہ کار کو جس طرح حالیہ ایک کیس میں محدود کردیا گیا کیا یہی سہولت ہر پاکستانی کو حاصل ہوگی کہ وہ ایف بی آر کے اختیارات سے خود کو بالا تر قرار دلوا سکے؟ کیا ہر پاکستانی غیر ملکی اثاثوں کیلئے رسیدیں دینے کے قانون سے مستثنیٰ ہوچکا ہے؟ یہ خدانخواستہ توہین عدالت یا قانون کا مذاق نہیں‘ صرف چند تشنہ سوالات ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو آئین کے آرٹیکل پچیس کے تحت حاصل میرے حقوق سے متعلق ہیں۔ یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ ”تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طورپر حقدار ہیں‘‘۔ پاکستان کے آئین کے تحت حاصل اپنے حقوق کے بارے میں سوال کرنا میرا حق ہے اور میرے ان حقوق کی پامالی آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ میں اگر اس بارے میں سوال کرتا ہوں تو ان حقوق کے حامل شہری کے طورپر اپنے ان سوالات کا جواب بھی میرا حق ہے۔ آئین کی وضاحت کرنا کیونکہ عدالتوں کا اختیار ہے اس لئے لا محالہ یہ سوالات بھی انہی سے کیے جاسکتے ہیں جو ان کی وضاحت کا اختیار رکھتی ہیں۔ میں تو اپنا وہ حق طلب کررہا ہوں جو آئین پاکستان اپنے ابتدائی چالیس آرٹیکلز میں مجھے تفویض کرتا ہے اور حق طلب کرنا کوئی غیر آئینی کام تو نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker