خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعودخان کا کالم:جھوٹ‘ بجٹ‘ ذہانت اور خالی دماغ

جھوٹ کی تین اقسام ہیں۔ پہلی جھوٹ‘ دوسری سفید جھوٹ اور تیسری بجٹ۔ بجٹ دراصل جھوٹ‘ فریب اور دروغ گوئی کا نہایت ہی سلیقے سے ترتیب دیا گیا الفاظ اور اعداد کا گورکھ دھندہ ہے۔ مشہور برطانوی ناول نگار سیموئل بٹلر نے لکھا ہے کہ ”سچ تو کوئی احمق بھی بول سکتا ہے‘ جھوٹ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اسے بولنے کیلئے ذہانت درکار ہوتی ہے۔‘‘ اور ہمارے وزرائے خزانہ ماشاء اللہ سے ماہر اقتصادیات تو نہیں ہوتے مگر ذہین ضرور ہوتے ہیں۔ اگر ذہین نہ ہوں تو بھلا اقتصادیات اور معاشیات سے دور کا تعلق نہ ہونے کے باوجود ملک کی اقتصادیات کے مدار المہام کے عہدے پر کیسے فائز ہو جائیں؟ دور کیوں جائیں؟ یہی اپنے شوکت ترین صاحب کی اقتصادی مہارت اور ذہانت کا جائزہ لے لیتے ہیں۔
شوکت ترین صاحب نے ایم بی اے کیا ہوا ہے۔ ایم بی اے تو اس عاجز نے بھی کر رکھا ہے؛ تاہم بنیادی فرق یہ ہے کہ میں نے ملتان یونیورسٹی سے اور ترین صاحب نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے یہ ڈگری حاصل کی ہے۔ خوفِ فسادِ خلق کے ڈر سے یہ مان بھی لیں کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کا تعلیمی معیار بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے بہتر ہو سکتا ہے لیکن دو چیزیں نہایت ہی قابلِ غور ہیں۔ پہلی یہ کہ ایم بی اے کا سارا کورس بزنس ایجوکیشن پر مشتمل ہے اور ہمارے زمانے میں چار سمسٹرز کے دوران پڑھائے جانے والے بیس کورسز میں سے صرف دو کورس اکنامکس سے متعلق ہوتے تھے اور وہ بھی بالکل بنیادی نوعیت کی اکنامکس تھی۔ ایک کورس کا تو نام ہی Fundamentals of Economicsیعنی ابتدائی یا بنیادی اکنامکس تھا۔دوسری اہم بات یہ کہ ہمیں یہ مضمون شیخ افتخار مرحوم نے پڑھایا۔ بہت بڑے صنعتکار تھے اور امریکہ سے فارغ التحصیل تھے۔ وہ بطور وزیٹنگ ٹیچر ہمیں پڑھانے آتے تھے اور بلامعاوضہ پڑھاتے تھے۔ چار سمسٹرز میں درجن بھر اساتذہ سے واسطہ پڑا مگر شیخ افتخار جیسا استاد پھر نصیب نہ ہوا۔ بعد ازاں میں نے چند کورسز آئی بی اے کراچی‘ لمز لاہور اور دیگر نامور تعلیمی اداروں میں پڑھے مگر اس پائے کا استاد کہیں بھی نظر نہ آیا۔
میرا خیال ہے بات دوسری طرف چلی گئی۔ بات ہو رہی تھی جناب شوکت ترین کی اقتصادی مہارت اور ذہانت کی۔ جہاں تک کسی بینکار کی اقتصادی مہارت کا معاملہ ہے تو دنیا بھر کے بینکار امیر‘ سرمایہ دار‘ تاجر تو رہے ایک طرف وہ غریب‘ بے روزگار اور پنشنر تک سے اپنا منافع ”کھیسی‘‘ کر لیتا ہے۔ یہ ”کھیسی‘‘ کرنا بڑا وسیع المعانی لفظ ہے جو اندرونِ لاہور والے کبھی استعمال کیا کرتے تھے۔ سو بینکار کا بنیادی کام کسی کھاتہ دار یا قرضدار کو نفع پہنچانا نہیں بلکہ بینک کیلئے منافع اکٹھا کرنا ہے۔ اب جس شخص کی تربیت ہی یہ ہوئی ہو کہ اس نے اپنے قرضدار اور کھاتہ دار کے پیسے میں سے اپنا منافع نکالنا ہے‘ قرضدار خواہ دیوالیہ ہو جائے اور کھاتہ دار ”پھانک‘‘ ہو جائے بینکار کے ٹھینگے پر۔
ماہرِاقتصادیات کا کام عام آدمی کا طرز ِزندگی بہتر کرنا‘ خطِ غربت کو نیچے لانا‘ مہنگائی کم کرنا‘ ملک پر قرضوں کا بوجھ کم کرنا‘ خود کفالت کی جانب گامزن کرنا اور ملک کے جی ڈی پی میں بہتری لانا ہے۔ یہ اس کے بنیادی کام ہیں۔ ان میں سے ایک کام بھی ایسا نہیں جسے کوئی بینکار‘ اکاؤنٹنٹ‘ فنانس منیجر یا عالمی اقتصادی اداروں کے ملازمین سر انجام دے سکیں۔ یہ کام ڈاکٹر محبوب الحق جیسے لوگ تو سر انجام دے سکتے ہیں‘ شوکت عزیز‘ عبدالحفیظ شیخ‘ اسحاق ڈار یا شوکت ترین وغیرہ کے بس کی بات نہیں کہ وہ قرضے لیکر ملک چلانے کے مجرب نسخے آزمانے کے علاوہ کوئی اور کام کر سکیں۔ بینکار‘ اکاؤنٹنٹ اور صنعتکاروں کے فنانس منیجرز نے ساری عمر بینک سے قرض لیکر انڈسٹری چلائی ہوتی ہے۔ اوور انوائسنگ سے اپنا سرمایہ قبل از آغازِ کاروبار ہی نکال لیا ہوتا ہے۔ جعلی قسم کے اکاؤنٹس کی بنیاد پر اپنی دو روپے کی چیز کی قیمت کو بڑھا چڑھا کر اس پر دس روپے کا قرضہ لیا ہوتا ہے اور پھر اس قرضے کو چکر بازیوں سے ری شیڈول کروایا ہوتا ہے۔ یہی ان کا تجربہ ہوتا ہے اور یہی ان کی خوبی۔ اب اسے بدقسمتی کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ پچیس سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو اس نہایت ہی اہم اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل پوسٹ پر نوید قمر‘ سرتاج عزیز‘ اسحاق ڈار‘ شوکت عزیز‘ حفیظ شیخ‘ مفتاح اسماعیل‘ شمشاد اختر‘ اسد عمر اور شوکت ترین فائز رہے ہیں۔ شوکت ترین‘ سرتاج عزیز‘ نوید قمر اور حفیظ شیخ یہ فریضہ دو دو بار سر انجام دے چکے ہیں؛ تاہم اس عہدے پر بار بار حملے کرنے کا جو ریکارڈ مفرور اسحاق ڈار نے تین بار قائم کیا وہ ابھی ناقابل شکست ہے۔ اس عہدے کی بے توقیری اور بے وقعتی کا یہ عالم رہا ہے کہ اس پر قبلہ سلیم مانڈوی والا بھی اپنا ہنر آزماتے رہے ہیں۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ہمارے حکمرانوں کے نزدیک وزیر خزانہ کا عہدہ کس قدر ٹکے ٹوکری کا تھا۔
اب رہ گئی بات ذہانت کی‘ تو آپ میرے ”گرائیں‘‘ شوکت ترین صاحب کی ذہانت کا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ جب وہ میاں نواز شریف کے دور میں حبیب بینک کے سربراہ کے طور پر تعینات ہوئے تو انہوں نے حکومت پاکستان کی ملکیت ملک کے سب سے بڑے بینک کو تو محض 389 ملین ڈالر کے عوض فروخت کر دیا جبکہ بینک کے اثاثے ہی اس سے کہیں زیادہ تھے۔ جب حبیب بینک پاکستانی روپوں میں 22 ارب روپے میں فروخت ہوا تب اس کے اثاثوں کی مالیت 300 ارب کے لگ بھگ تھی۔ لیکن انہوں نے اپنا ذاتی یونین بینک جو بمشکل حبیب بینک کا دسواں حصہ تھااورمحض 65 برانچوں اور دو ارب روپے کے اثاثوں کا حامل تھا 413 ملین ڈالر میںیعنی حبیب بینک سے چوبیس ملین ڈالر زیادہ قیمت پر بیچ دکھایا۔ اب بھلا ذہانت اور کسے کہتے ہیں؟
ایمانداری کی بات ہے کہ بجٹ میں دونوں اطراف سے اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ خدا کی پناہ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ عام آدمی کو توسمجھ ہی نہیں آتی کہ ہو کیا رہا ہے کیونکہ بجٹ کے بارے میں دونوں کیمپوں نے اپنا اپنا مؤقف پہلے سے ہی طے کر رکھا ہوتا ہے۔ حکومت کے نزدیک (خواہ یہ کوئی بھی حکومت ہو) یہ دنیا کا سب سے شاندار‘ بہترین اور متوازن بجٹ ہوتا ہے جو عوام دوست اور غریب پرور ہوتا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کے نزدیک (اس کی بھی کوئی قید نہیں کہ کونسی اپوزیشن) یہ عوام دشمن‘ غریب شکن اور عوام پر ٹیکسوں کے بوجھ سے لدا ہوا تاریخِ عالم کا سب سے ظالم بجٹ ہوتا ہے۔اوپر سے مزید ستم یہ ہے کہ عام آدمی تو رہا ایک طرف‘ نام نہاد ماہرینِ اقتصادیات بھی اپنی اپنی مرضی کا ”سچ‘‘ بولتے ہیں۔ ایسے میں جب ہر طرف جھوٹ کی مارا ماری ہو بھلا یہ عاجز کیا عرض کر سکتا ہے؟ مجھے تو صرف اتنا پتا ہے کہ بجٹ تب تک محض جھوٹ کا پلندہ اور اعداد و شمار کا گوکھ دھندا رہے گا جب تک اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچتے۔ ان ثمرات سے مراد مہنگائی میں کمی‘ آمدنی میں اضافہ‘ روزگار میں بہتری‘ صنعتی ترقی‘ خود انحصاری میں اضافہ‘ قرضوں والی معیشت سے چھٹکارا‘ خطِ غربت میں کمی‘ گیس‘ تیل اور بجلی کی قیمتوں کا عام آدمی کی دسترس میں ہونا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ عوام دوست بجٹ ہے اور ملکی معیشت بہتر سمت میں جا رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر عام آدمی کو اس سے قطعاً کوئی غرض نہیں کہ کرنٹ خسارہ کم ہوا ہے‘ زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں اور Foreign remittanceمیں اضافہ ہوا ہے۔ عام آدمی کا مسئلہ بینک میں رکھے ہوئے پیسے سے حل نہیں ہوتا بھرے ہوئے پیٹ سے حل ہوتا ہے۔ہاں! پیٹ سے یاد آیا ‘ ایک افریقی کہاوت ہے کہ ”معدہ دماغ سے لاکھ درجے بہتر ہے۔ خالی ہو تو کم از کم بتا تو دیتا ہے‘‘۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker