خالد مسعود خانکالملکھاری

میرے آقاﷺ کی حرمت اور ناموس ۔۔ خالد مسعود خان

ریاستِ مدینہ یقیناً در گزر اور مذہبی رواداری کا نمونہ تھی اور اس کی تقلید میں یہ عناصر بھی بے شک قابل تقلید ہیں لیکن کیا ریاست مدینہ میں میرے آقاؐ کے گستاخ کی کوئی جگہ؟ کیا ریاست مدینہ میں اسلام کے غدار کی کوئی گنجائش ہے؟ اور کیا ریاست مدینہ میں نبی آخر الزماںؐ کے باغی کی کوئی جگہ ہے ؟ اس کا جواب قطعاً مشکل نہیں اور اس کا جواب دینے کے لیے سوچنے کی رتی برابر گنجائش نہیں ۔ اگر اس سوال کے جواب کے لیے کوئی ایک لمحے کے لیے بھی سوچتا ہے تو اس کے ایمان پر سوال اٹھانا عین فرض ہے۔
حکومت سازی سے کہیں قبل عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں عاطف میاں جیسے ماہر اقتصادیات کو ایسا شخص قرار دیا تھا جس کی طرح کے لوگوں کو ملکی منصوبہ سازی میں شامل کیا جانا چاہئے۔ عمران خان کی اس تقریر کے فوراً بعد اس مسئلہ پر اعتراض اٹھایا گیا اور یہ بات سامنے لائی گئی کہ عاطف میاں قادیانی ہے اور ایسے شخص کی بطور ایڈوائزر تعیناتی عاشقانِ رسولؐ کو گوارا نہیں اور عقلمند کو اشارہ کافی ہوتا ہے لیکن افراد کے انتخاب بارے عمران خان ابھی تک کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑ سکے۔ حکومت ملتے ہی وہی کیا جس کا عرصہ پہلے وہ اظہار کر چکے تھے اور اس پر اعتراض بھی اٹھا مگر کوئی اثر نہ ہوا۔
عمران خان کا خیال ہے کہ وہ خود کرپٹ نہیں، نیک نیت ہیں، ایماندار ہے اور ملک کو سدھارنا چاہتے ہیں، لہٰذا یہی کافی ہے۔ ان کی ذات اگر کرپشن سے پاک ہے اور لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں تو ان کے بعد اس چیز کی کوئی ضرورت نہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی ایمانداری، نیک نیتی اور ایمان بارے کوئی سوال اٹھایا جائے۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے لیے اس کی اکیلی ذات ہی کافی ہے۔ بینکوں سے بیاسی کروڑ معاف کروانے والی فہمیدہ مرزا کو وزارت دینے سے۔ بچوں کی صحت کے لیے دی جانے والی رقم کھانے والی زبیدہ جلال کو وزیر بنانے سے، حتیٰ کہ عاطف میاں جیسے مرتد کو اپنا اقتصادی مشیر بنانے سے بھی ریاست مدینہ کے تصور پر کوئی آنچ نہیں آئی۔
لبرل اور روشن خیال طبقے کا صرف اس سلسلے میں ایک ہی سوال ہے کہ کیا اب پاکستان میں کسی غیر مسلم اقلیت کے رہنے کا، کارِ سرکار میں حصہ داری کا اور اس ملک کے معاملات میں کوئی کردار سر انجام دینے کا کوئی حق نہیں؟ یہ سوال درست ہے لیکن اس کا بنیادی تصور غلط ہے کہ یہ سوال عاطف میاں کے سلسلے میں اٹھنے والی بے چینی کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ پاکستان میں غیر مسلم اقلیت کو وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو اسلام اقلیتوں کو دیتا ہے۔ جس کی ضمانت آئین پاکستان دیتا ہے اور جو انہیں ریاست مدینہ میں بطور غیر مسلم اقلیت حاصل تھے۔ لیکن کیا قادیانی ان سارے حقوق کے حقدار ہیں؟ ظاہر ہے اگر وہ خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر کے خود کو آئین پاکستان کے تابع کر لیں تو میرے خیال میں انہیں یہ سارے حقوق ملنے چاہئیں لیکن قادیانی خود یہ سارے حقوق استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ خود کو ”غیر مسلم‘‘ تسلیم ہی نہیں کرتے۔ قادیانی آئین پاکستان کے تحت غیر مسلم ہیں لیکن خود قادیانی پاکستانی آئین کی اُس شق کو ماننے سے انکاری ہیں۔ بطور غیر مسلم اقلیت وہ خود ان حقوق کو لینے سے منکر ہیں جس کی ضمانت اسلام اور اس کے بعد آئین پاکستان اپنے غیر مسلم شہریوں فراہم کرتا ہے۔ حقوق و فرائض دو طرفہ معاملہ ہے اور یکطرفہ طور پر اسے چلانا ممکن نہیں۔ قادیانی خود کو نہ تو غیر مسلم سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان اقلیتی حقوق کا کلیم کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے مذاہب مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے ہیں‘ دنیا بھر میں صرف اور صرف قادیانی وہ واحد مذہب ہے جو مسلمانوں کو بلا تخصیص سنی، شیعہ، بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث سب کو غیر مسلم اور خود کو صحیح العقیدہ مسلمان سمجھتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ملک کی دیگر غیر مسلم اقلیتوں اور قادیانیوں میں ہے۔
میں جب یونیورسٹی میں داخل ہوا تب ہر شعبہ میں غیر مسلم اقلیتوں کے لیے ایک نشست مخصوص ہوتی تھی۔ دس بارہ شعبے تھے اور اتنی ہی اقلیتی نشستیں۔ میرا داخلہ ایم بی اے میں ہوا۔ ہماری کلاس میں ایک لڑکا اس مخصوص نشست پر داخل ہوا۔ پتا چلا کہ یہ لڑکا قادیانی ہے اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشست پر داخل ہوا ہے۔ اب مجھے صحیح طرح تو یاد نہیں کہ کتنے دن گزرے۔ شاید دو تین ہفتے ہی گزرے ہوں گے کہ وہ لڑکا کلاس سے غائب ہو گیا۔ کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ اسے قادیانی جماعت کی طرف سے مجبور کیا گیا کہ وہ اقلیتی نشست چھوڑ دے کیونکہ ہم (قادیانی) خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے۔ بعد میں ہم نے دوسرے شعبوں میں اقلیتی نشستوں پر داخل ہونے والے طلبہ کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ پوری یونیورسٹی کے ایک بھی شعبے میں کوئی قادیانی اس نشست پر داخل نہیں ہوا۔ مختلف شعبوں میں عیسائی طلبہ نے داخلہ لیا۔ ایک آدھ شعبہ میں ہندو طالب علم بھی داخل ہوا مگر کسی قادیانی نے اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھایا۔
خاتم النبیینؐ کی آخری نبوت کے منکر اور جعلی شراکت دار پر ایمان لانے والا بھلا ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت میں مشیر کیسے ہو سکتا ہے؟ قادیانی خود کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کو تسلیم کر لیں۔ آئین پاکستان کی اس شق کو مان لیں اور خود کو امت مسلمہ سے علیحدہ اقلیت تسلیم کر لیں۔ ہمارا ان سے کوئی جھگڑا نہیں۔ ریاست مدینہ میں عیسائی، یہودی، مشرک اور بت پرستوں کو رہنے کی بھی سہولت تھی اور مذہب آزادی بھی۔ لیکن مسیلمہ کذاب کو نہ تو رہنے کی آزادی تھی اور نہ ہی اس رواداری کی سہولت تھی جو دیگر اقلیتی شہریوں کو حاصل تھی۔ رسالت مآبؐ کی نبوت کے انکاری کو تو اقلیتوں والی سہولتیں بھی میسر تھیں اور مذہبی آزادی بھی۔ مگر ختم نبوت کے منکرین، نبی آخر الزمان ؐ کی نبوت میں شراکت داری اور ختمِ نبوت کے منکریں اور باغیوں کو یہ سہولت ہرگز ہرگز حاصل نہ تھی۔
آپؐ اور آپؐ کے خلفائے راشدینؓ کی ریاست مدینہ میں اقلیتوں کو جان و مال کا تحفظ حاصل تھا۔ عزت و آبرو کی سلامتی حاصل تھی۔ مذہبی آزادی تھی۔ یہودیوں سے معاہدے موجود تھے نہ عیسائیوں سے گفت و شنید اور خط و کتابت بھی تھی اور Charter of Privileges یعنی ”عہدنامۂِ استحقاق‘‘ کے نام سے میرے آقاؐ کا ایک خط آج بھی صحرائے سینا میں موجود ایک قدیم عیسائی چرچ ”سینٹ کیتھرین موناسٹری‘‘ میں موجود ہے جو ان کے حقوق کے تحفظ کا عہد نامہ ہے۔ یہ عہد نامہ انہیں عبادت کی، نقل و حرکت کی، اپنے لیے منصف منتخب کرنے کی، جائیداد کے تحفظ کی، فوج میں بھرتی سے استثنیٰ کی اور جنگ میں امان کی ضمانت دیتا ہے لیکن جھوٹی نبوت کے دعویدار اور اس کے ماننے والوں کو کسی قسم کی ضمانت تو درکنار ریاست ِمدینہ ان سے گفت و شنید تک کی روادار نہ تھی۔ عمران خان صاحب! آپ کیسی ریاست مدینہ کا تصور ذہن میں لیے پھرتے ہیں؟
ایک خان صاحب خود کسی کی سننے سے انکاری ہیں اور دوسرے ان کے چاہنے والے‘ جو ان کے ہر غلط فیصلے پر دلائل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا سارا سوشل میڈیا اور ان کے نقارچی، جو پہلے ان کے ذاتی ترجمان تھے اور اب سرکاری خرچے پر ان کے ذاتی ترجمان ہیں۔ بلکہ ترجمان بھی کب ہیں۔ محض وزیرِ صفائی ہیں۔
امت کی بے چینی اور مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ میں آ کر عاطف میاں کو فارغ کیا تو کیا کیا؟ آخر ہم ایسے فیصلے ہی کیوں کریں جن کو بعد از رسوائی واپس لینا پڑے۔ یہ ایک سبق ہے۔ سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کا۔ حکمرانوں کو اب یہ جان لینا پڑے گا کہ ”ریاست مدینہ‘‘ میں بہت سی چیزوں کی گنجائش نکل آئے گی مگر میرے آقاؐ کے باغیوں، غداروں اور جھوٹے شراکت داروں اور ان کے ماننے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ ریاست مدینہ میں در گزر اور رواداری کی حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں میرے آقاؐ کی حرمت اور ناموس کی حد شروع ہوتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker