خالد مسعود خانکالملکھاری

نئے پاکستان میں روٹین کے ٹرانسفر۔۔خالد مسعودخان

نئے پاکستان میں کیا حسین اتفاق ہے کہ جس سرکاری افسر کا بھی میرٹ پر بلا کسی دباؤ یا سفارش تبادلہ ہوتا ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ‘بھسوڑی‘ نکل آتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور اللہ دتہ وڑائچ کو عام ٹرانسفر پالیسی کے تحت راجن پور سے ٹرانسفر کر دیا گیا۔ پتا چلا کہ موصوف ڈپٹی کمشنر نے مورخہ تین ستمبر2018ء کو لیٹر نمبر 4567/HC(G) کے ذریعے کمشنر ڈیرہ غازی خان کو مطلع کیا کہ پی ٹی آئی کے ایم این اے سردار نصراللہ دریشک، ان کا ایم پی اے بیٹا حسنین بہادر دریشک اور سابقہ ایم پی اے سردار علی رضا دریشک ان پر دبائو ڈال کر پٹواریوں اور بی ایم پی (بارڈر ملٹری پولیس) کے ملازموں کی ٹرانسفر پوسٹنگ کروانا چاہتے ہیں۔ ادھر یہ خط لکھا گیا‘ ادھر ہر سہ افراد نے عموماً اور سردار نصراللہ دریشک نے خصوصاً غل غپاڑہ مچا دیا۔ نتیجتاً ڈپٹی کمشنر راجن پور اللہ دتہ وڑائچ کا ‘میرٹ‘ پر تبادلہ کر دیا گیا۔
یہ بھی محض اتفاق ہی ہے کہ چکوال کے ڈپٹی کمشنر غلام صغیر شاہد نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اپنے علاقے کے پی ٹی آئی کے ایم این اے ذوالفقار علی خان کے بارے میں بھی اسی قسم کا یعنی ٹرانسفر پوسٹنگ کے متعلق دباؤڈالنے کا خط لکھا۔ ڈپٹی کمشنر موصوف کو ”چین آف کمانڈ‘‘ کی خلاف ورزی یعنی غلط جگہ براہ راست خط لکھنے کے جرم میں انتظامی بنیادوں پر ٹرانسفر کر دیا؛ تاہم راوی اس بارے قطعاً خاموش ہے کہ ڈپٹی کمشنر پر دباؤ ڈالنے والے ایم این اے کے خلاف پارٹی کی طرف سے کوئی ایکشن لیا گیا‘ یا نہیں۔
سابقہ آئی جی پنجاب محمد طاہر کو کلیم امام کی جگہ نہایت جانچ پڑتال کے بعد میرٹ پر پنجاب کا آئی جی لگایا گیا اور ان کی پوسٹنگ پر جہاں ان کی تعریفوں کے پل باندھے گئے وہیں اس پوسٹنگ کو پی ٹی آئی کی گڈگورننس کے کھاتے میں ڈال کر داد کے ڈونگرے بھی برسائے گئے۔ پھر ان کو اس تعیناتی کے محض ایک ماہ تین دن بعد تبدیل کر دیا گیا اور ان کی جگہ امجد جاوید سلیمی کو پنجاب کا آئی جی تعینات کر دیا گیا۔ شنید ہے اس ٹرانسفر کے پیچھے ہمارے گلاسگو والے دوست اور گورنر پنجاب چودھری سرور کا ہاتھ تھا‘ واللہ اعلم۔ تاہم حکومتی خوش گمانی یہی ہو سکتی ہے کہ پنجاب کے آئی جی کی صرف ایک ماہ تین دن بعد فراغت بھی روٹین کی ٹرانسفر تھی حالانکہ روٹین یہی ہے کہ عموماً آئی جی اپنی ریٹائرمنٹ تک اس پوسٹ پر کام کرتا ہے۔
اب اگر اتفاقات ہی دھڑا دھڑ پیش آرہے ہوں تو بھلا یہ عاجز کیا کر سکتا ہے؟ ایک اور اتفاق ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ شعیب طارق وڑائچ کے ساتھ بھی پیش آ گیا۔ انہیں ایک نوٹس کے ذریعے ہدایت دی گئی کہ وہ گوجرانوالہ کی جی ٹی روڈ پر زور آور سیاست دانوں کے یا ان کی پشت پناہی سے چلنے والے اور تجاوزات کے زمرے میں آنے والے پٹرول پمپوں کا خاتمہ کریں۔ انہوں نے اس ہدایت پر من و عن عمل کر دیا۔ عقلمندی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ تھوڑی سمجھداری سے کام لیتے اور زیادہ زورآور قسم کے لوگوں کی ملکیت والے پٹرول پمپوں سے دور رہتے مگر انہوں نے نئے پاکستان میں ایسے کسی کام سے پرہیز کیا جس میں انگریزی والے Pick and Choose یعنی پسند ناپسند کا الزام لگتا۔ سو انہوں نے ہر اس پٹرول پمپ کے خلاف جو تجاوزات کے زمرے میں آتا تھا ایکشن کر ڈالا۔ اب یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ ان پٹرول پمپوں میں سے ایک کا تعلق چودھری اقبال گجر سے تھا۔ ایسی باتوں کے تحریری ثبوت تو بہرحال نہیں ہوتے مگر زبان خلق کے بارے میں صدیوں سے یونہی تو مشہور نہیں کہ وہ ”نقارۂ خدا‘‘ ہوتی ہے‘ سو زبان خلق پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے اور زبان خلق یہ کہتی تھی کہ یہ ٹرانسفر چودھری اقبال گجر کی دختر نسبتی کے توسط سے بنی گالہ میں تشریف فرما خاتون اول کے حکم پر ہوا۔ یاد رہے کہ یہ چودھری اقبال گجر وہی ہیں جن کے صاحبزادے چودھری احسن جمیل گجر کا نام نامی ڈی پی او پاکپتن کے ٹرانسفر کے سلسلے میں آیا تھا۔
اسی سے یاد آیا کہ ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا ٹرانسفر بھی اسی کنکشن سے ہوا تھا؛ تاہم یہ بھی محض اتفاق ہے کہ دونوں بار حکمنامہ ایک ہی جگہ سے آیا تھا۔ سارے قصے کا نہ تو وقت ہے اور نہ ہی کالم میں جگہ۔ سب کو معلوم ہے کہ پاکپتن کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رضوان گوندل کے ساتھ کیا ہوا تھا مگر یہ کیا حسین اتفاق ہے‘ رپورٹ یہ پیش کی گئی کہ رضوان گوندل کا ٹرانسفر روٹین میں ہوا تھا اور یہ روٹین کا ٹرانسفر رات دس بجے کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے مملکت خداداد پاکستان میں رات دس بجے روٹین کے ٹرانسفر کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایسی روٹین جس کے پیچھے بھی احسن جمیل گجر صاحب ہی تھے۔ پھر اچانک آئی جی اسلام آباد کا بھی روٹین میں سو فیصد میرٹ پر ٹرانسفر ہوگیا۔ یہ بھی محض اتفاق تھا کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد بھی اس افواہ کے فوری بعد ٹرانسفر ہوئے کہ انہوں نے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا فون سننے سے انکار کر دیا تھا اور ان کے فارم ہائوس میں گھسنے والی گائے کے مالکان کو فوری طور پر گرفتار نہیں کیا تھا۔ ان کی ٹرانسفر پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر رپورٹ پیش کی گئی کہ گائے کے فارم ہاؤس میں گھسنے اور فون نہ سننے کا اس ٹرانسفر سے قطعاً کوئی تعلق نہیں اور یہ ٹرانسفر تو کافی دن پہلے سے ہی طے شدہ تھی اور بالکل روٹین میں ہوئی ہے۔ تاہم بعد میں بننے والی جے آئی ٹی نے اس ‘روٹین‘ کی ٹرانسفر کی حقیقت کھول کر بیان کر دی۔
تین روز قبل ملتان کے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن شعیب ترین کو بھی روٹین میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔ یہ روٹین کا ٹرانسفر تھوڑا روٹین سے ہٹ کر تھا۔ جیسا کہ ڈی پی او پاکپتن کا ٹرانسفر روٹین میں رات دس بجے ہوا تھا اسی طرح ملتان کے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن شعیب ترین کا روٹین والا ٹرانسفر اتوار کے روز ہوا ہے۔ کسی اٹھارہویں گریڈ کے افسر کا اتوار کے روز روٹین میں ہونے والا شاید یہ پنجاب کا تاریخ میں پہلا ٹرانسفر ہے۔ اس روٹین والے ٹرانسفر کے بارے میں جو شنید ہے وہ یہ ہے کہ اس ٹرانسفر کے پیچھے نشتر ہسپتال کے ایم ایس یعنی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا ہاتھ ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ بظاہر یہ بات ہضم نہیں ہوتی اور نئے پاکستان میں تو بالکل ہی ناممکن لگتی ہے کہ کسی سرکاری ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کسی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کا اس روز جب ملک بھر کے سارے سرکاری دفاتر بند ہوتے ہیں سیکرٹری کا دفتر کھلوائے اور بالکل ”روٹین‘‘ میں ٹرانسفر کروا دے‘ لیکن خلق خدا یہی کہہ رہی ہے کہ یہ ٹرانسفر ایم ایس نشتر ہسپتال نے اتوار کے روز کروایا ہے اور ”روٹین‘‘ میں کروایا ہے۔
وجہ اس ٹرانسفر کی یہ ہے کہ موصوف یعنی ایم ایس نشتر ہسپتال کے خلاف شعیب ترین نے مالی بدعنوانیوں کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ موصوف پر اس سے قبل مظفر گڑھ میں بھی کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کا مقدمہ بنا تھا مگر انہوں نے اپنی کاریگری سے یہ سارا معاملہ چند روز قبل صاف کرا لیا تھا اور اب ملتان میں بھی ان کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ صاف کرنے کا سارا اہتمام کر لیا گیا ہے۔ یہ روٹین کا ٹرانسفر اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ڈاکٹر عاشق ملک پر مالی بدعنوانیوں کے علاوہ اور بھی کئی الزامات ہیں جن کو یہاں دہرایا نہیں جا سکتا۔
میں نے اپنے ایک باخبر دوست سے پوچھا کہ ایک ایم ایس کے ہاتھ اتنے لمبے کیسے ہو سکتے ہیں کہ چھٹی والے دن چیف سیکرٹری کا دفتر کھلوا کر سیکشن افسر احمد سہیل کے دستخطوں سے مورخہ نو دسمبر بروز اتوار ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان کا ٹرانسفر کروا دے؟ وہ دوست کہنے لگا: جب نشتر ہسپتال ملتان کا سابقہ ایم ایس معطل ہوا تو اس کی جگہ ڈاکٹر عاشق ملک نے اپنا تبادلہ کروانے کے لئے دس لگ بھگ ایم پی اے اکٹھے کئے اور لاہور جا کر دھڑلے سے نشتر ہسپتال ملتان میں اپنی تعیناتی کروائی تھی۔ جو شخص دس ایم پی اے اٹھا کر لاہور لے جا سکتا ہے وہ یہ کام کیوں نہیں کروا سکتا؟ میں نے اپنے اس دوست سے پوچھا: جب پنجاب میں سینیٹ کی دو سیٹوں کا الیکشن ہو رہا تھا‘ اس ایم ایس کی خدمات کیوں حاصل نہیں کی گئیں‘ دس ووٹ تو یہ لے دیتا۔ وہ دوست ہنس کر کہنے لگا: زیادہ مذاق نہ کرو‘ فی الحال نئے پاکستان میں روٹین کے ٹرانسفروں کے مزلے اڑاؤ۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker