خاور نعیم ہاشمیکالملکھاری

اور اصلی صحافی بھی وہاں پہنچ گئے۔۔خاور نعیم ہاشمی

ملک صاحب کبھی بڑے ڈیرے دار ہوا کرتے تھے، کچھ عرصہ سے تھوڑے سے نان فنکشنل ہوگئے تھے مگر ڈیرے داری کسی نہ کسی طور قائم رکھی، دو ہفتے پہلے ان کا انتقال ہوگیا، مجھے خبر بہت دیر سے ملی اور میں ان کے گھر تعزیت کیلئے نہیں گیا، ہمارا کئی سال تک گہرا تعلق رہا، سوچتا ہوں کہ ان کے گھر جاکر وہ زخم کسے دکھاؤں گا جو ان کے انتقال سے سینے پر لگا ہے۔۔۔سوچا کیوں نہ ان کی یادیں آپ کے ساتھ تازہ کی جائیں، ملک صاحب کے جاندار مذاق، ان کے ہمیشہ یاد رہ جانے والے قصے۔۔۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی شرارت سوجھتی رہتی تھی، انہیں ، کئی سال پہلے کی بات ہے،فون پر بتانے لگے کہ آج وہ اپنے ہی بھائی کو تختہ مشق بنائیں گے، کیونکہ وہ سرکاری زمین پر قبضہ کر کے وہاں دکانیں تعمیر کرا رہا ہے اور ظاہر کر رہا ہے کہ دکانیں حکمران پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو مفت دے گا، ملک صاحب نے بھائی کو ڈرانے کیلئے دو جعلی صحافی تیار کئے، انہیں کیمرہ دیا، اور بریف بھی کیا، جعلی صحافی موقع واردات پر پہنچ گئے تو چھوٹے بھائی نے ملک صاحب کو ہی مدد کے لئے پکارلیا، ملک صاحب کہنے لگے کہ غلط کام کرو گے تو صحافی تو آئیں گے ہی ناں، بھائی مدد مدد پکارتا رہا تو ملک صاحب اس کے پاس پہنچ گئے، اپنے ہی بھیجے ہوئے ،،صحافیوں،، سے ،،مذاکرات،، کئے، پھر بھائی کو سمجھایا کہ انہیں بیس پچیس ہزار دے کر جان چھڑاؤ۔ لالچی بھائی نے کہا میرے پاس تو اس وقت پیسے نہیں ہیں ، ملک صاحب نے اپنی جیب سے پیسے ادا کر دیے اور بھائی نے کہا کہ واپس کر دینا ،یہ ادھار ہے، ملک صاحب نے یہ واقعہ سناتے ہوئے بہت قہقہے لگائے تھے ، ابھی ہفتہ دس دن ہی گزرے تھے کہ ملک صاحب کا پھر فون آ گیا، ان کی ہنسی نہیں رک رہی تھی، بات کرنے کی کوشش کرتے تو پھر ہنسی غالب آ جاتی،،،، بمشکل یہ بتا سکے،،، یار ، وہ اصلی والے صحافی بھی میرے چھوٹے بھائی کے پاس مال بنانے پہنچ گئے ہیں، وہ پچاس ہزار سے کم لینے پر تیار نہیں ، اور بھائی مجھے پوچھ رہا ہے کہ اگر یہ اصلی والے صحافی ہیں تو پہلے والے کون تھے؟ اور کیا اب اسے دوبارہ اپنی جیب سے ہی ان دکاندار صحافیوں کو خرچہ دینا پڑیگا ملک صاحب خود تو کمالات دکھاتے ہی رہتے تھے، ان کے کئی یار دوست بھی ایک سے بڑھ کر ایک تھے، ایک کا نام تھا، بٹ جی۔۔۔ سوال چنا جواب گندم والا محاورہ جتنا ان پر فٹ آتا تھا کسی اور پر کیا آئے گا، آپ چاہے کتنی ہی توجہ سے شمال کی جانب گامزن ہوں، ہوش تب آتا تھا جب بٹ جی آپ کو جنوب تک پہنچا چکے ہوتے، بات ہو رہی ہو، جینا لو لو بریجڈا یا برشی باردت کی، آپ تعریف کر رہے ہوں مدھوبالا یا مارلن منرو کی ،بٹ جی کو اپنی قدیمی سہیلی مینا جی یاد آ جاتی ، ان کا فرمانا تھا ،، جنی سوہنی مینا سی ،تسیں سوچ وی نئیں سکدے،،،جب پوچھا جاتا کہ،، آجکل کہاں ہوتی ہیں مینا جی؟ تو افسردگی سے بتاتے ، اسے پنجاب کا کوئی جاگیردار لے اڑا تھا شادی کرکے،۔ بٹ جی کو اعزاز حاصل ہے کہ سرد راتوں میں وہ مینا جی کے ساتھ رضائی اوڑھ کر لڈو بھی کھیلا کرتے تھے، بقول بٹ جی ، ان کے خیالات کبھی آلودہ نہ ہوئے، بھلے مانسوں کے زمانے کی باتیں ہیں، بٹ جی ٹھیک ہی کہتے ہونگے مگر بٹ صاحب کی محبت میں مینا جی رضائی سے نکل کر ڈرائنگ روم تک نہیں جاتی تھیں، بقول بٹ جی کئی لوگ ہیرے جواہرات لے کر بھی آتے ، مینا جی پروا نہ کرتی تھیں، بٹ جی فرمایا کرتے تھے کہ مینا جی پیسے کو نہیں تعلق کو اہمیت دیتی تھیں، آج کل ایسی مینائیں کہاں ؟ بٹ جی ایک بار بیٹھک میں مینا جی کا گانا سن رہے تھے، باقی مہمانوں کی طرح وہ بھی مینا جی کو نذرانہ پیش کرتے رہے، لیکن آفرین ہے مینا جی پر ، اس نے سب کے پیسے اٹھا لئے سوائے بٹ جی کے ، مینا جی کو خدشہ تھا کہ اگر اس نے بٹ جی کے پیسے اٹھا لئے تو محفل سے اٹھ کر چلے نہ جائیں۔ بٹ جی بتاتے ہیں کہ ان کے اوائل جوانی کے کئی دوست ان سے بھی زیادہ ذہین تھے، بیرون ملک رہنے والا ایک دوست تو ایسا تھا کہ اسے غریبوں کی مدد کرنے پر نوبل ایوارڈ مل جانا چاہئے تھا، وہ ہر سال دو مہینوں کے لئے پاکستان آتا اور کسی پسماندہ علاقے سے کسی غریب کی بیٹی سے بیاہ کرکے اسے شہر لے آتا ہے، وہ کبھی سسرال والوں سے جہیز نہیں لیتا بلکہ پچاس ساٹھ ہزار لڑکی کے والدین کو پلے سے دے آتا ، ڈیڑھ دو مہینے بعد دلہن کو میکے کا کرایہ دے کر خود واپس پردیس چلا جاتا۔۔بٹ جی ٹھیک کہتے تھے بندہ عقلمند ہوتو چیزیں سستی مل ہی جاتی ہیں۔
٭٭٭٭٭ اب میں جس خاتون کا ذکر کرنے جا رہا ہوں انہیں میں احتراماً باجی کہتا ہوں ، انیس سو ستر میں جب میں نے صحافت شروع کی تو انہوں نے میری بہت راہنمائی کی تھی، وہ پہلے دن کی طرح آج بھی اسی شفقت سے پیش آتی ہیں ،پروین ملک ادبی حلقوں میں ایک معتبر نام ہے، کبھی کبھی کسی تقریب میں ملاقات ہو جاتی ہے، ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ وہ مجھ پر ایک خاکہ لکھیں گی ، اگر انہیں اس کے لئے وقت مل گیا تو یقینا میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہوگا، پروین ملک جرنلزم میں ماسٹرز کرنے کے بعد روزنامہ آزاد سے منسلک ہوئی تھیں،میں اس اخبار میں ان کا جونیئر کولیگ تھا،پروگریسو خیالات کی حامل پروین ملک عورتوں کے حقوق اور سماجی مسائل پر روزانہ کالم لکھا کرتی تھیں، میں ان دنوں روزانہ بچوں کے لئے کہانی لکھا کرتا تھا، وہ ہمیشہ اس حوالے سے میری حوصلہ افزائی کرتیں، پرو ین ملک کی ان کے یونیورسٹی فیلو مقبول سے شادی ہوئی، بعد ازاں وہ وفاقی وزارت اطلاعات سے منسلک ہو گئیں، کئی برس تک ہفت روزہ پاک جمہوریت اور ماہ نو کی ادارت سنبھالی ، برسوں پہلے ان کا اکلوتا بیٹا اوائل عمری میں ہی چھت کے گر کر جان بحق ہو گیا تھا، اس سانحہ کے بعد وہ اندر سے کتنی ٹوٹ پھوٹ گئی ہونگی؟ میں یہ سوچ کر ہی لرز جاتا ہوں۔ ستر کی دہائی میں ایک دن میں کالج میں پروفیسر امین مغل صاحب کا پیریڈ اٹینڈ کر رہا تھا کہ،اچانک وہ مجھ سے مخاطب ہوئے ،، پوچھا تم نے اس ماہ کی فیس جمع کرادی ہے؟ ,, نہیں، میرا جواب سن کر انہوں نے مجھے کلاس روم سے نکال دیا اور کہا اب فیس جمع کرانے کے بعد کلاس میں آنا، میں فیس کے پیسے دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے اور لنچ میں اڑا چکا تھا،فوری فیس جمع کرانا ممکن نہ تھا ،سو بہت پریشان ہوا، دوسری جانب ایک ترقی پسند استاد کا یہ رویہ میرے لئے انتہائی پریشان کن تھا، لیکن اب سوچتا ہوں کہ ایرک سپرین اور دیگر اساتذہ کرام کے ساتھ سرکاری نوکریوں سے نکالے گئے لیفٹ ونگ کے ان سفید پوش دانشوروں کے گھر بھی تو ہماری فیسوں سے ہی چلتے ہونگے ، فیس ساٹھ روپے تھی، جرمانہ وغیرہ ڈال کر تقریباً سو روپے ادا کرنا تھے، اس دن میں بہت چپ چپ رہا اور گھر جانے کی بجائے روزنامہ آزاد کے دفتر میں ہی بیٹھا گیا اور اپنی توہین پر کڑھتا رہا ، وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا، رات کا ایک بج رہا تھا،اچانک میرے دماغ میں پروین ملک کا نام گونجا اور میں نے انہیں فون کر دیا، پروین ملک نے دوسری گھنٹی پر ہی کال رسیو کرلی مجھے ایک سو روپے کی ضرورت ہے اور وہ بھی صبح آٹھ بجے سے پہلے پہلے …پروین ملک نے پہلے تو کہا اس وقت بھلا میں کیسے آسکتی ہوں؟پھر تھوڑے توقف کے بعد بولیں اچھا، میں آتی ہوں رات دو بجے اخبار کی آخری کاپی پریس میں چلے جانے کے بعد آفس کے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے اور میں وہیں آفس کے لان میں کرسی پر بیٹھا پروین ملک کا منتظر رہا، علی الصبح چار بجے کے قریب ایک رکشہ لارنس روڈ پر روزنامہ آزاد کے آفس کے باہر رکا ، پروین ملک باہر نکلیں، مجھے دیکھ کر مسکرائیں ، کسی سوال جواب کے بغیر سو روپے کا نوٹ مجھے تھمایا اور واپس چلی گئیں۔ اس ادھار کو میں کبھی چکانا نہیں چاہتا۔ اگر انہیں کبھی سو روپے کا نوٹ واپس کر دیتا تو شاید ایک محبت کرنے والی بہن سے محروم ہوجاتا۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker