کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہیدکاکالم۔۔اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں

نئے سال کا ابھی پہلا مہینہ ختم نہیں ہوا کہ بہت سے ایسے گنجلک مسائل سامنے آئے ہیں کہ دماغ سوچ سوچ کر پلپلا ہو رہا ہے۔ پہلے تو ایک جلن آنکھوں کے سامنے ہے کہ اسرائیلی لوگوں نے نیا سال بہت شور و غل کے ساتھ دبئی میں منایا۔ سب نے دیکھا۔ سب خاموش رہے۔دیکھا کئے۔قطر اور سعودی عرب میں ڈھائی سال تک ناکہ بندی رہی۔ ایک صبح دونوں ملکوں میں جھٹ پٹ صلح ہوئی جہاز بھی آنے جانے لگے۔ سب دنیا خاموش مگر واشنگٹن پہ ٹرمپ کے حامیوں نے ایسا حملہ کیا کہ پاکستان میں ٹی وی اور اسمبلی پہ ہونے والا حملہ نہ صرف یاد آگیا بلکہ ساری دنیا نے اسے سیاسی بدفعلی قرار دیا۔ واپس پاکستان میں جھانکا تو دو ماہ سے سنسنی خیزی کے ساتھ ایک امریکی خاتون اور ایک پاکستانی سیاست دان کا جھگڑا چل رہا تھا۔ وہ بھی اچانک لپیٹ دیا گیا۔ ہم چپ رہے۔ دیکھا کئے۔
بالکل اس طرح گزشتہ کتنے ہی سالوں سے عزیر بلوچ پہ سینکڑوں مقدمات جس میں قتل کی وارداتیں بھی شامل تھیں، پہلے کی طرح ایک دفعہ پھر بہت سے مقدمات میں بری ہوگیا۔ ہم چپ رہے۔ دیکھا کئے۔
بالکل اس طرح خواجہ سعد رفیق کے خلاف مقدمات یکدم لپیٹ دیئے گئے۔ سوچئے مت ۔ سنئے AGRRمیں کرپشن کے بے انتہا کیسز سے پردہ اٹھا تو آگے بڑھے۔ فیڈرل پبلک کمیشن کے پرچے فروخت ہونے کی ویسے ہی خبر چوکھٹے میں آئی۔ جیسےحاشیے کے ساتھ لکھا گیا کہ 2023ء میں لال ترکی کے عنوان سے خلافت تحریک پہ پاکستان اور ترکی کا میڈیا مل کر کام کریں گے۔ خلافت تحریک کا انجام جو ہوا تھا۔ کیا وہی آج کل ہوتا دکھایا جائے گا۔ہم بڑے زعم سے بار بار اعلان کررہے ہیں کہ 2020ء میں کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا۔ یہ جو روز وزیرستان، بلوچستان، بنوں اور کان کنوں کو ہاتھ پیر باندھ کر گولیاں مارنے والے خود اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نے مارا ہے۔ ان کو مڑ کر نہیں دیکھ رہے اور کہہ رہے ہیں کہ مجرموں کو جو پکڑائے گا اسے 30لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ کیا یہ سارے اقدام، ہوش و حواس میں کئے جاتے ہیں۔ بالکل ایسے کہ جیسے اسامہ بن لادن کے مارنے والی رات ہمارے سارے ادارے کہہ رہے تھے، ہم تو سو رہے تھے، ہمیں تو خبر ہی نہیں ہوئی۔ جس رات ملک اندھیرے میں ڈوبا، اس رات کے لئے بھی کہا گیا، ہمیں تو خبر ہی دیر سے ملی اور کسے پہلے ملی ان کو بھی انعام دیا جائے۔ ویسے اس کووڈ 19کے زمانے میں جب سب کو دوستیاں بھی بھول گئی تھیں۔ ہمارے بہت عزیز اور مسکین دوست ممتاز احمد شیخ نے ناول کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کو 800صفحات میں اس سلیقے سے مرتب کیا ہے کہ جب تک اس صحیح پرچے کو دونوں ہاتھوں سے نہ اٹھایا جائے ہم نا تو اں لوگوں سے تو اٹھایا ہی نہیں جاتا۔ ڈاکٹر اشرف کمال نے ناول کی برصغیر میں تاریخ کو بڑے سلیقے سے بیان کیا ہے۔ خدا کرے کہ اس قیمتی شمارے کو پڑھنے والے میسر آسکیں۔
سوچتی ہوں کہ لکھوں یا نہ لکھوں کہ ایک معزز ڈاکٹر صاحب نے اپنی سگی بہن کو چار سال تک اذیتیں دیں کہ وراثت میں اپنے حق سے دستبردار ہو جائے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ خبر یہ ہے کہ قانون بنانے والے ابھی سوچ رہے ہیں۔
انتہا تو یہ ہے کہ ایک طرف گیس اور بجلی نہیں اور دوسری طرف قیمتیں اسی مہینے میں دوسری دفعہ بڑھائی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی چینی اور خوردنی تیل کی قیمتیں بھی بڑھائی گئی ہیں۔ تنخواہیں وہی، پنشن وہی۔ اگر بجٹ میں پیسے نہیں تو یہ نئے شہر اور نئی سڑکیں مت بنائیں۔ پاکستان کے اسکولوں کی عمارتوں کی طرف توجہ دیں اور اسکولوں میں استادوں کو بھرتی کریں کہ پچاس فیصد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔
یوں تو چاروں طرف سے چن صاحب کے استعفیٰ پر داد مل رہی ہے۔ مجھے کیا ساری دنیا کو انتظار ہے کہ الیکشن کے قریب ان کا رخ کونسی شمع کی طرف ہوگا۔ہزارہ بستی کی بچیوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ والدین تو مر گئے، اب ہمارے شناختی کارڈ کیسے بنیں گے ،یہ سن کر اور ملول ہوئی۔ اس قیامت کا جواب کیا حکومت کے پاس ہے؟حکومت نےتو جب ملیشیا میں جہاز کے اترتے ہی اس پر قبضہ کیا گیا،مسافروں اور عملے کو بے آسرا چھوڑ دیا۔ اب مسافر اور عملہ حکومت کی طرف اور حکومت بغلیں جھانک رہی تھی۔کوئی ایک موسوی صاحب اچانک منظر عام پر آکر بار بار کہہ رہے ہیں کہ ایک ارب ڈالر کی کہانی تو حکومت پاکستان کے علم میں ہے اور گونگے نے جو گڑ کھایا تھا، وہی ہماری کیفیت ہے۔ساری دنیا میں کووڈ19کے علاج کے لئے ویکسین تیار ہوگئی۔ ہمارے دشمن ملک میں دھڑا دھڑ انجکشن لگ رہے ہیں ۔ ہم ابھی سوچ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ شاید فروری تک آجائے گی۔
پچھلے دنوں، طالبان نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ کم شادیاں کرو اور کم بچے پیدا کرو کہ مغربی ممالک ہم پر باتیں بناتے ہیں۔ بعدازاں یہ گل کھلایا کہ دو خواتین ججز دن دہاڑے گولی مار کے ٹھنڈی کر دی گئیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک طرف طالبان قطر میں امریکیوں کے مشورے سے امریکی فوجیں، افغانستان سے نکالتے اور افغانستان میں امن قائم کرنے کے مشورے کررہے تھے۔ دوسری طرف اس سال کے پہلے مہینے میں دو خودکش حملے کر دیئے گئے۔ کیسا اندھیر ہے کہ اندھیرا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker