کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہیدکا کالم:گھروں سے رخصت ہوتی دلہنیں

ہماری سب کی بیٹی بختاور کی خیرو عافیت سے رخصتی ہوئی۔ سارے میڈیا نے خوب کور کیا ۔ جوڑوں کے رنگ اور زیوروں کی تفصیلات لکھیں۔ بڑے لوگوں کی شادیوں میں آپ کہیں گے یہی کچھ ہوتا ہے۔ یاد ہے نا ہیری اورمیگن مارکل کی شادی کو دنیا کے چینلز نے کتنی تفصیل سے کور کیا تھا۔ ہماری فنکار خواتین کی شادیوں کو بھی یونہی چٹاخ پٹاخ سے حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے مگر اس وقت مجھے جرمنی کی چانسلر انجلا مراکل یاد آرہی ہیں جو 18سال تک حکومت کرنے کے بعد ریٹائر ہورہی ہیں۔ صحافیوں اور خاص کر خواتین صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بہت دلچسپ جوابات دیے۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ اپنے گھر (ذاتی گھر) میں ہی اپنے پورے دورِ اقتدار کے دوران مقیم رہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ گھر میں کھانا کون بناتا ہے؟ اُنہوں نے کہا ہم میاں بیوی، جب پوچھا گیا کہ کپڑے کون دھوتا ہے؟ جواب تھا ’’کپڑے میں مشین میں ڈالتی جاتی ہوں میرے شوہر مشین چلاکر، کپڑے نکال لیتے ہیں‘‘۔ جب پوچھا گیا آپ بہت کم نئے ڈیزائن کے کپڑے پہنتی ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں ایک ملازم رہی ہوں۔ میں کوئی ماڈل نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا میں مشرقی جرمنی میں پیدا ہوئی تھی۔ میں نے بہت مشکل دن دیکھے ۔ ساری عمر اس طرح کی زندگی میرے ذہن میں رہی ہے، اس لئے عام آدمی کو سہولت فراہم کرنے کا جنون ہے۔
ہمارے ذہن بہت برے ہیں۔ فوراً اپنے ملک کے سربراہان سے تقابل کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ 18برس تک تو نواز اور شہباز نے بھی بلاکسی تعطل (شاید) سربراہانِ وطن رہنے کی کوشش میں کچھ بہت اچھے کام بھی کئے مگر گرفتاری اور سزا ان وجوہات پر ہوئی کہ جن کی نشاندہی کرنے کے لئے ڈھائی سال کا عرصہ گزر گیا۔ انہیں ہم مظلوم اور ساتھ ہی سزاوار زنداں اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ الزام اپنی حقیقتوں کی تلاش میں ہیں۔ کمال یہ ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں جرم ثابت ہوئے بغیر جیل میں نہیں ڈالا جاتا اور وہ بھی برسوں تک مگر جس طرح ہماری حکومتیں اپنے کارندے دو توقعات پر پالتی ہیں۔ ایک تو اندرون خانہ غیرقانونی جو کچھ ہو سکے، وہ کر لیا جائے اور دوسرا جب وقت پڑے یا پکڑے جائیں تو کارندے میڈیا پر آکر شوروغل کر سکیں اور ان کی معصومیت کے لئے ڈھنگ کے ثبوت فراہم کرسکیں۔ روزانہ شام 7بجے سے آدھی رات تک یہی ڈرامہ۔
پاکستانی دودھ کے دھلے تو نہیں کہ ساری دنیا میں بدعنوانیاں ہوں اورہم پاکباز رہیں مگر ہمارے یہاں تو آنکھوں میں دھول جھونکنے اور پھر دنیا بھر میں فراڈ چھپانے والی اور خود حصہ دار بن کر کمانے والی بے شمار ایجنسیاں بھی ہیں۔ یہیں مجھے مصر کے بادشاہ فاروق کی ملک بدری اور شہنشاہ ایران کے ساتھ جو سلوک ہوا کہ کہیں قیام کی اجازت نہیں مل رہی تھی اور دور کیوں جائیے، اسکندر مرزا کو پاکستان بدر ہونے کے بعد تاریخ بتاتی ہے کہ ہوٹلوں میں برتن دھونے پڑے تھے جبکہ پاکستان میں اقتدار کے بعد نو دولتیے بننے والوں کو پناہ دینے کے علاوہ مزید سرمایہ بنانے کے لئے ہمارے ہی تیل کا دھن رکھوانے والے ممالک کا آسرا، کوئی نہ کوئی محل مل جاتا ہے۔ جاپان، کوریا تو دور کی بات ہے، ہمارے سابق اور حاضر سیاست دانوں و افسروں کے ہوٹلز، جزیرے اور ائرلائنز ہیں جو کہ یورپ میں بھی اور آسڑیلیا میں بھی ہیں اور خیر سے ان کے خاندان (جو لوگ ہاتھ نہیں لگے اور جن پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے) خوش و خرم رہ رہے ہیں۔
میرے دفتر میں کام کرنے والا آدمی، سعودیہ سے آئے ہوئے اپنے آٹھویں پاس بیٹے کا ایم اے پاس لڑکی سے رشتہ کرکے آیا۔ لڑکا سعودیہ سے پانچ لاکھ روپے لیکر آیا تھا، اس نے تین تولے کا سیٹ اور پانچ جوڑے بنائے۔ لڑکی والوں نے کہا یہ تو ہمارے خاندان کو منظور نہیں۔ 5تولے کا سیٹ اور آٹھ سو بندوں کا کھانا ہونا چاہئے۔ مرتا کیا نہ کرتا، سب کچھ قرضوں سے خوب ہوا، پورے گائوں میں واہ واہ ہوئی۔ اب ایک طرف بوجھ ہے کہ ڈھائی لاکھ روپے کا قرض چڑھ گیا۔ آپ سوچیں گے کہ اس ایم اے پاس لڑکی کا کیا ہوا؟ اس کو زیور اور ایک شوہر مل گیا۔ میاں بیوی راضی۔ ابھی تو لڑکا پاکستان میں ہے۔ دیکھا جائے گا، جب لڑکا سعودیہ واپس جاکے قرض کی رقم اتار ےگااور بیوی، خدا کرے خوش باش رہے۔
مت سوچیں، یہ بے جوڑ شادی ہے۔ ابھی تک ڈگری کی نہیں، کرنسی کی قدر ہے۔ دبئی ہو کہ لندن کہ نیویارک، سب جگہ آج کل ایسا ہی ہورہا ہے۔ ہمارے پاکستان کی بیٹی بختاور بھی بیاہ کر دبئی رخصت ہوئی ہے مگر رشتہ کاروباری شخص سے ہوا ہے۔ شادی بھی سادگی سے ہوئی۔ دلہن نے صرف ایک ہیروں کا سیٹ پہنا تھا۔ ویسے آج کل لڑکیاں بھی بس ایک ہیرے کی انگوٹھی مانگتی ہیں۔ اور وہ لڑکیاں بھی ہیں جو تین کپڑوں میں رخصت ہوکر، اپنی نوکری کے ذریعہ بہتر زندگی بنانے کے خواب دیکھتی اور خوابوں کو سچ کر دکھاتی ہیں۔ ہماری جیسی جب پہلی تنخواہ ملتی ہے تو ایک کرسی خرید کر ساری رات اسے دیکھتی رہتی ہیں۔ اللہ محنت میں برکت دیتا ہے۔ اللہ ساری بچیوں کے نصیب اچھے کرے اور محبت کرنے والا شوہر دے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker