کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہیدکاکالم:کیا ہم مغرب کی کالونی ہیں؟

یہ وہ وقت ہے کہ جس میں تمام ملک اپنے پیاروں کی طرف شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور جستجو یہ ہے کہ ان میں سے کون بغل میں چھری لئے ہوئے ہے۔ سارا میڈیا اس’’ لن ترانی‘‘ پہ قائم ہے کہ اگر طالبان افغانستان سے پاکستان کی جانب بھی پیش قدمی کر گئے تو کیا بنے گا؟ مغربی میڈیا کے ساتھ خواتین کے لباس کے حوالے سے وزیر اعظم کا ارشاد، وہ جھنجھنا بنا ہوا ہے جو وقتاً فوقتاً مسلمان ممالک کی دوعملی کو قابل تکذیب سمجھتا ہے۔ ہمارے لکھنے والے اور صحافی یہ غور کیوں نہیں کرتے کہ طالبان اور منشیات کا چولی دامن کا ساتھ ہے کہ بقول مغربی میڈیا، جب افیون کی پیداوار اور اس سے متعلق دیگر اشیا، جیسے ہیروئن اور آئس، جیسے مرکبات ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں تو وہ دولت اسلامیہ کو بھیج دیتے ہیں۔ باقی سے ضرورت کا اسلحہ اور ٹینک وغیرہ خرید لیتے ہیں۔ جب میں یہ رپورٹ پڑھ رہی تھی اور ان کی بھتہ خوری، فیکٹریوں اور دیگر وار لارڈز کے ذرائع پر نظر پڑی تو اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے، کراچی اور پورے سندھ میں پتنگ والوں کے یہی رویے حکومتوں اور عوام نے سہے۔ گزشتہ 25برس میں ہجرت کرنے والوں میں زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کو لوٹنے اور جگہ بہ جگہ ناجائز دفاتر بنانے کے لئے، کٹی پہاڑی اور قبضہ مافیا اور ظلم کی داستانیں بنانے والوں سے تنگ آکر بھرے گھر چھوڑ کر جہاں سینگ سمائے ہجرت کر گئے۔ جس زمانے میں پاکستان نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا، امریکہ نے اپنے حامی وار لاڈرز کو بلا بلا کر ویزے دئیے تھے۔ ویت نام کی شکست کے بعد، افغانستان کی شکست کو کیا نام دیں گے کہ اب پاکستان بھی کسی ساربان کی طرح اونٹ کے گلے میں تھینک یو کا بورڈ لٹکائے، کراچی کی سڑکوں پر نہیں نظر آئے گا۔ پاکستان بننے کے بعد، امریکیوں کی جانب جھکاؤ کا یہ دوسرا موقع تھا کہ پہلے تو لیاقت علی خان، روس کے دعوت نامے کو رد کرکے، امریکہ گئے اور بیگم لیاقت علی خان کے غرارے بیگم ممتاز دولتانہ نے بنوائے تھے۔
وہ جو محاورہ ہے کہ منہ کو خون ایک دفعہ لگ جائے، یعنی امریکی گندم کی امداد سے لے کر بڈابیر کا امریکی اڈہ اور پھر ہر حکومت نے گلے میں غربت، جہالت اور مذہب کا ڈھول ڈال کر امریکیوں کے علاوہ جتنے فلاحی ادارے قائم تھے ان سب کے سامنے غریبوں سے محبت کا رونا انگریزی میں رویا۔ عوام معصوم، ویسے یہ بین الاقوامی فلاحی ادارے بھی کم چالاک نہیں۔ اداروں نے شہروں کی دو سڑکیں، گائوں میں ایک ٹیوب ویل، چھوٹے شہروں میں زچہ بچہ کے نام پہ پہلے دو کمرے، پھر چار دیواری، پھر ایک ڈسپنسری اور پھر بچی کھچی دوائیں خریدنے کا نام لے کر ڈالر کلچر کو غریب ملکوں میں ایسا پھیلایا کہ فنڈز آتے رہے، افسران تربیت کے لئے مختلف ترقی یافتہ ممالک میں انگریزی ہی میں لیکچر سن کر، نئے سوٹ اور کٹ گلاس کے سجانے کے لئے عجائبات لاتے لاتے، آخر ریٹائر ہوجاتے ہیں۔
قوم بچے پیدا کرتی رہی، فنڈنگ ایجنسیوں کے لوگ بھاری مشاہرے اور فرسٹ کلاس ہوائی سفر کے ساتھ پانچ ستاروں والے ہوٹلوں میں ٹھہر کر پہلے تو کچھ پاکستانیوں کی طرح افسروں اور بیگمات کے گھروں میں پاکستانی کلچر کے نام پر کھانے کھاتے ہیں، پھر تھوڑے دنوں بعد، افسران کے کزن کے نام سے این جی او بنا کر دوستی کا حق ادا کرتے ہیں۔ یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں سارے افریقہ اور میکسیکو سے لے کر جنوبی امریکہ میں فنڈنگ کے بہروپ کو موٹی موٹی رپورٹوں کا نام دے کر، نوآبادیاتی سسٹم کو اور بھی تقویت ایسے پہنچاتے ہیں کہ دیہات کا تو وہی حال رہے البتہ کہیں کوئی اسکول کی چار دیواری، یا لڑکیوں کے لئے الگ باتھ روم اور ضبطِ تولید کی گولیاں دے کر، گرافک ڈسپلے اور غربت زدہ لڑکیوں کی تصویریں لگاکر، قابل تعریف اعداد و شمار کے ساتھ، سرکار بھی مطمئن اور فنڈ دینے والے بھی۔
دراصل بادشاہتوں اور ریاستی نظام ختم ہونے کے بعد، مالتھیوس تھیوری بھی ختم ہوگئی۔ نئے مالیاتی نظام کے ذریعہ، ڈالروں کی زنجیر میں جہاں اور جو بھی حکومت رہی چاہے وہ مارشل لا ہو، وہ اپنا دھندہ چلاتے رہتے ہیں۔ یہ نیا مالیاتی نظام دراصل مچھلی پکڑنا نہیں، مچھلی کھانا سکھاتا ہے۔ اس وقت ساری دنیا میں برگر کلچر اور پاستا کلچر ہے۔ ہر چند خود امریکہ اور یورپ میں موٹاپے کے خلاف بہت شور ہے۔ سبزیاں کھانے کے لئے کہا جارہا ہے۔ ہمارے یہاں تو بکرے کی پٹھ اور مغز جب تک کھایا نہ جائے، میز پہ کھانا ہی نہیں لگتا۔ بلوچستان میں بچہ منہ میں سوکھی روٹی پہلے منہ کے لعاب سے نرم کرتا اور چاکلیٹ کی طرح کھا جاتا ہے۔
اگر آپ بہت بڑبولے بن کر وزیر اعظم یا وزیروں کی پلٹن کے سامنے ایسی بات کریں، فوری جواب ملے گا، آپ بہت یاسیت پسند ہیں، ملک بہت ترقی کررہا ہے، ہم نے بچوں کا نصاب یکساں بنادیا ہے، ریل کے حادثات بہت تھے، ہم نے ریلیں کم کردی ہیں۔ ہم نے ثمرقند اور بخارا دیکھا ہے۔ امام بخاریؒ کی پناہ میں سارے وسطی ایشیائی ممالک میں ہم نے پہلی دفعہ قرآن بانٹے تھے۔ وہ ناراض ہوگئے تھے اب انہیں چکڑ چھولے اور افغانی نان کھلائیں گے تاشقند سے کاشغر تک ہمارے ٹرک، ٹرالر، اگر ممکن ہوا تو پوست کی کاشت وہاں تک پہنچا دیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker