کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہیدکا کالم:بند آنکھوں کو کھولنے کیلئے

مجھے یاد ہے 1945میں دوسری جنگ عظیم بندہو گئی تھی۔ سارے ہندوستان میں راشن پہ مٹی کا تیل ،آٹا اور کپڑا تک ملتا تھا۔ وہ بھی ہفتہ وار، ہر خاندان کے لیے۔ میں اور چھوٹا بھائی، ایک ایک تیل کی بوتل لینے جاتے۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ الگ لگ کھڑے ہونا ،ورنہ ایک بوتل ملے گی۔ آج یوٹیلیٹی اسٹورزپہ بھی یہی نقشہ ہے۔
آپ پوچھیں گے، اتنی عمر کے بعد ،یہ کیوں یاد آیا! بس یونہی ٹرکوں میں آیا آٹا لینے آنے کیلئے عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے سے آگے ہاتھ پھیلاتے دیکھ کر دل نے کہا ،ایٹمی زمانے بھی دھمکیاں دے دے کر، سرد جنگ اور ملکوں کے بٹوارے کے باوجود، کچھ بھی تو ہمارے ملک میں نہیں بدلا، 1947 میں جو چھرا گھونپا گیا تھا وہ اب تک، عصمت دری اب تک، ہاں اس وقت ان کی فلمیں نہیں بنائی جاتی تھیں ۔مسجدیں کم تھیں مگر نمازی زیادہ تھے۔ بی اماں تھیں۔ بیگم شاہنواز ،فاطمہ جناح تھیں۔ قائد اعظم کے ساتھ حسرت موہانی جیسے لوگ تھے جو پوت کے پائوں پنگھوڑے میں دیکھ کر بددل ہو کر کہیں اور چلے گئے تھے۔ قائد اعظم بھی یہ منظر گوارا نہ کر سکے۔ انگریز نے بھگت سنگھ کو پھانسی پہ چڑھایا ۔پھانسی دے کر بھٹو صاحب کو، دل نہیں بھرا تو بے نظیر کو منظر سے ہٹا دیا ۔میرا دل دماغ دونوں کیوں ہمیشہ یاسیت کی طرف جاتے ہیںجب کہ اللہ کی عنایات کے باعث میرا قلم، زندگی لکھتا ہے۔
اور زندگی سامنے کیا دیکھ رہی ہے۔ ایک طرف ٹیکس، سپر ٹیکس، حتیٰ کہ قبر پر بھی ٹیکس،’’ دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن،‘‘ شاہ حسینؒ نے ہمارے لیے کہا تھا۔ کاغذ کا بحران، اتنا بڑھ گیا کہ ماں باپ بچوں کی کاپیاں نہیں خرید سکیں گے۔ نان بائی اب کس میں لپیٹ کے نان دیں گے۔ دودھ کے ڈبوں کیلئے ہمارے بچے ترس جائیں گے۔
یہ حکومت کو کیا ہو گیا؟ افسروں کی ترقی کے بارے میں رپورٹ آئی ایس آئی کے افسر لکھیں گے۔ وہی فقیہہ اور محتسب ہوں گے جب کہ کسی بھی دور میں داخلی معاملات پر رائے دینے کا کوئی اختیار نہ تھا۔ اب تو جہاں دیدہ لوگ سامنے آ کر ہمارے نو جوان صحافی کو کہہ رہے ہیں کہ ’’اپنے جنازے کی تیاری کرو۔‘‘
ویسے تو ہم غریب ملکوں کی بےوقار آزادی ہے۔ اب دو دھاری تلوار سامنے آ چکی ہے۔ عمران کو سنیں تو سیاسی دیوالیہ پن سامنے آتا ہے۔ شہباز شریف کا چہرہ دیکھیں تو کشتی کے پتوار ہی نہیں۔ہاتھوں میں کاغذی گھوڑے ہیں اور ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں۔‘‘دنیا بھی کمال کر رہی ہے۔ایک طرف افغاستان کی حکومت کو مع ہمارے کوئی نہیں مان رہا۔ ادھر پکتیکا میں شہر کے شہر ریت ہو گئے۔ کتنے گھروں میں دب گئے اور کتنی عورتیں کہ ان کو تو انسان شمار کرتے ہی نہیں طالبان،پھر بھی دنیا اس قیامت سے انسانوں کو بچانے کے لیے بہت امداد دینے کو آگے آئی ۔ اب بھی طالبان شرم کریں۔ عورتوں کو انسان سمجھیں۔
ساتھ ہی دیکھتے جائیں کہ ہمارے بائیں ہاتھ پر اسرائیل اور عرب ممالک میں دفاعی اور فضائی اتحاد کی باتیں ہو رہی ہیں۔ شمال میں جائیں تو یوکرین کی اتنی آبادی کو لقمۂ اجل بنانے کے بعد، یورپین یونین میں شامل ہو کر ،بڑی خوشی ہو رہی ہے۔ کیا سبب ہے کہ ہم روس سے گیس ،گندم اور تیل ہی نہیں لے رہے جب کہ ان کی طرف سے بار بار یہ پیغام مل رہاہےکہ ہم تو اسٹیل مل بھی دوبارہ چلا کر دکھا دیں گے۔
بلوچستان میں بلدیاتی الیکشن ہو چکے ہیں، جس میں بہت سی خواتین کامیاب ہوئی ہیں۔ سندھ کے انتخابات میں وہی عدم برداشت حاوی رہی جس کو ہم آئندہ ہونے والے قومی انتخابات میں بھی دیکھیں گے۔ ابھی تو نئے لگائے گئے ٹیکسوں کا پرنٹ آئوٹ آئے گا۔
تو پھر ہم پاکستانی کیا کریں گے؟وہی جو میں نے کالم کے شروع میں لکھا ہے۔ جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کا منظر تھا، وہی ہمیں بحیثیت قوم برداشت کرنا پڑے گا۔ ہمارےساتھ ہی افریقی ملک صومالیہ میں دکانیں بند ہو گئی ہیں کہ قیمتیں زیادہ ہیں۔ خریدار میں سکت نہیں ہے۔ اگر نمائش کی شادیاں اور پارٹیاں بند ہو جائیں تو شاید دوسرے بھی مثال قائم کریں۔مگر سیاسی دعوتوں میں تو ہرن کا گوشت اور بٹیرے اضافی ہوتے ہیں۔ میں نے کتنی دفعہ لکھا ہے کہ یہ سارے ڈی سی اوز، ڈی آئی جیز کے ایکڑوںپر پھیلے گھروں کی زمین لے کر غریبوں کو دیں اوران کو کہیں کہ وہ خود اپنی لیبر لگا کر اپنی چھت ڈالیں، ان کو معاوضے کے طور پر مزدوری دیں۔ 46فیصد آبادی کو اس طرح کام،روزی ،روٹی دیں، ان کو ایک بار آزمائیں ، ان میں حوصلہ ہے اور امنگ ہے اپنے ملک کی خدمت کرنے کی۔ سب کو معلوم ہے کہ 60فیصد پاکستانیوں کے گھروں میں کم از کم ایک بیکار ہے۔ اب وقت ہے کہ عورت مرد سب کام کر کے روٹی کھائیں۔ تب ہی معاشی غربت میں کمی آ سکتی ہے۔جماعت اسلامی کے سربراہ کارکنوں کو مہنگائی ٹرین چلانے کی بجائے سب نوجوانوں اور خواتین کو بیکار کے ان احتجاجوں کی جگہ مثبت کاموں کی جانب راغب کریں۔ سب دنیا دیکھ رہی ہے کہ کل جو بیجنگ میں عالمی ترقی پر مذاکرات ہوئے ہیں ان میں پاکستان کا مسئلہ شامل نہیں کہ وہ سب جانتے ہیں کہ ہم نے ڈیموں، سی پیک اور دیگر منصوبوں میں چینی حکومت اور مزدوروں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا۔ اس کے باوجود چین پاکستان کے ادھورے فیصلوں کو مکمل کرنے کیلئے مستعد ہے۔
معیشت کے اس بحران پر کوئی ہے جو تنقید کرنے والے سربراہ کو سمجھائے کہ جب گھاس نہیں ہوگی تو گھوڑا گھاس کہاں سے کھائے گا؟ حکومت میں جو کیا وہ بھی دنیا جان گئی اور اب یہ واویلا بند کریں۔ مجھے کیا ساری قوم کو اندازہ ہے کہ بھاری منافع کمانے والے کبھی اپنی تجوریوں کے منہ نہیں کھولیں گے۔ حکمرانوں کے اپنے گھروں اورفیکٹریوں میں بہت کچھ ہے۔ مثال قائم کرنی ہے تو اپنے ہاتھ اور گھر کے دروازوں کے پیچھے جو گدڑی ہے اس میں ہی لعل و گوہر نکل آئیں گے۔تھوڑا کہنے کو بہت سمجھیں۔ نواز شریف بیان دینے کے بجائے ’’دان‘‘ دیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھیں شہنشاہ ایران کے پاس کیا نہیں تھا۔مگر اختتام کیا تھا، جنرل اسکندر مرزا، ملک سے نکل کر ہوٹلوں میں برتن مانجھتے رہے۔ بلاول بھی اپنے ابا کو کہیں اپنی زمینوں اور جائیدادوں پر پورے سندھ میں نظر دوڑائیں۔ پیر پگاڑا بھی نذرانے وصول کر کے ،قومی بجٹ میں شامل کر دیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)مجھے یاد ہے 1945میں دوسری جنگ عظیم بندہو گئی تھی۔ سارے ہندوستان میں راشن پہ مٹی کا تیل ،آٹا اور کپڑا تک ملتا تھا۔ وہ بھی ہفتہ وار، ہر خاندان کے لیے۔ میں اور چھوٹا بھائی، ایک ایک تیل کی بوتل لینے جاتے۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ الگ لگ کھڑے ہونا ،ورنہ ایک بوتل ملے گی۔ آج یوٹیلیٹی اسٹورزپہ بھی یہی نقشہ ہے۔
آپ پوچھیں گے، اتنی عمر کے بعد ،یہ کیوں یاد آیا! بس یونہی ٹرکوں میں آیا آٹا لینے آنے کیلئے عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے سے آگے ہاتھ پھیلاتے دیکھ کر دل نے کہا ،ایٹمی زمانے بھی دھمکیاں دے دے کر، سرد جنگ اور ملکوں کے بٹوارے کے باوجود، کچھ بھی تو ہمارے ملک میں نہیں بدلا، 1947 میں جو چھرا گھونپا گیا تھا وہ اب تک، عصمت دری اب تک، ہاں اس وقت ان کی فلمیں نہیں بنائی جاتی تھیں ۔مسجدیں کم تھیں مگر نمازی زیادہ تھے۔ بی اماں تھیں۔ بیگم شاہنواز ،فاطمہ جناح تھیں۔ قائد اعظم کے ساتھ حسرت موہانی جیسے لوگ تھے جو پوت کے پائوں پنگھوڑے میں دیکھ کر بددل ہو کر کہیں اور چلے گئے تھے۔ قائد اعظم بھی یہ منظر گوارا نہ کر سکے۔ انگریز نے بھگت سنگھ کو پھانسی پہ چڑھایا ۔پھانسی دے کر بھٹو صاحب کو، دل نہیں بھرا تو بے نظیر کو منظر سے ہٹا دیا ۔میرا دل دماغ دونوں کیوں ہمیشہ یاسیت کی طرف جاتے ہیںجب کہ اللہ کی عنایات کے باعث میرا قلم، زندگی لکھتا ہے۔
اور زندگی سامنے کیا دیکھ رہی ہے۔ ایک طرف ٹیکس، سپر ٹیکس، حتیٰ کہ قبر پر بھی ٹیکس،’’ دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن،‘‘ شاہ حسینؒ نے ہمارے لیے کہا تھا۔ کاغذ کا بحران، اتنا بڑھ گیا کہ ماں باپ بچوں کی کاپیاں نہیں خرید سکیں گے۔ نان بائی اب کس میں لپیٹ کے نان دیں گے۔ دودھ کے ڈبوں کیلئے ہمارے بچے ترس جائیں گے۔
یہ حکومت کو کیا ہو گیا؟ افسروں کی ترقی کے بارے میں رپورٹ آئی ایس آئی کے افسر لکھیں گے۔ وہی فقیہہ اور محتسب ہوں گے جب کہ کسی بھی دور میں داخلی معاملات پر رائے دینے کا کوئی اختیار نہ تھا۔ اب تو جہاں دیدہ لوگ سامنے آ کر ہمارے نو جوان صحافی کو کہہ رہے ہیں کہ ’’اپنے جنازے کی تیاری کرو۔‘‘
ویسے تو ہم غریب ملکوں کی بےوقار آزادی ہے۔ اب دو دھاری تلوار سامنے آ چکی ہے۔ عمران کو سنیں تو سیاسی دیوالیہ پن سامنے آتا ہے۔ شہباز شریف کا چہرہ دیکھیں تو کشتی کے پتوار ہی نہیں۔ہاتھوں میں کاغذی گھوڑے ہیں اور ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں۔‘‘دنیا بھی کمال کر رہی ہے۔ایک طرف افغاستان کی حکومت کو مع ہمارے کوئی نہیں مان رہا۔ ادھر پکتیکا میں شہر کے شہر ریت ہو گئے۔ کتنے گھروں میں دب گئے اور کتنی عورتیں کہ ان کو تو انسان شمار کرتے ہی نہیں طالبان،پھر بھی دنیا اس قیامت سے انسانوں کو بچانے کے لیے بہت امداد دینے کو آگے آئی ۔ اب بھی طالبان شرم کریں۔ عورتوں کو انسان سمجھیں۔
ساتھ ہی دیکھتے جائیں کہ ہمارے بائیں ہاتھ پر اسرائیل اور عرب ممالک میں دفاعی اور فضائی اتحاد کی باتیں ہو رہی ہیں۔ شمال میں جائیں تو یوکرین کی اتنی آبادی کو لقمۂ اجل بنانے کے بعد، یورپین یونین میں شامل ہو کر ،بڑی خوشی ہو رہی ہے۔ کیا سبب ہے کہ ہم روس سے گیس ،گندم اور تیل ہی نہیں لے رہے جب کہ ان کی طرف سے بار بار یہ پیغام مل رہاہےکہ ہم تو اسٹیل مل بھی دوبارہ چلا کر دکھا دیں گے۔
بلوچستان میں بلدیاتی الیکشن ہو چکے ہیں، جس میں بہت سی خواتین کامیاب ہوئی ہیں۔ سندھ کے انتخابات میں وہی عدم برداشت حاوی رہی جس کو ہم آئندہ ہونے والے قومی انتخابات میں بھی دیکھیں گے۔ ابھی تو نئے لگائے گئے ٹیکسوں کا پرنٹ آئوٹ آئے گا۔
تو پھر ہم پاکستانی کیا کریں گے؟وہی جو میں نے کالم کے شروع میں لکھا ہے۔ جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کا منظر تھا، وہی ہمیں بحیثیت قوم برداشت کرنا پڑے گا۔ ہمارےساتھ ہی افریقی ملک صومالیہ میں دکانیں بند ہو گئی ہیں کہ قیمتیں زیادہ ہیں۔ خریدار میں سکت نہیں ہے۔ اگر نمائش کی شادیاں اور پارٹیاں بند ہو جائیں تو شاید دوسرے بھی مثال قائم کریں۔مگر سیاسی دعوتوں میں تو ہرن کا گوشت اور بٹیرے اضافی ہوتے ہیں۔ میں نے کتنی دفعہ لکھا ہے کہ یہ سارے ڈی سی اوز، ڈی آئی جیز کے ایکڑوںپر پھیلے گھروں کی زمین لے کر غریبوں کو دیں اوران کو کہیں کہ وہ خود اپنی لیبر لگا کر اپنی چھت ڈالیں، ان کو معاوضے کے طور پر مزدوری دیں۔ 46فیصد آبادی کو اس طرح کام،روزی ،روٹی دیں، ان کو ایک بار آزمائیں ، ان میں حوصلہ ہے اور امنگ ہے اپنے ملک کی خدمت کرنے کی۔ سب کو معلوم ہے کہ 60فیصد پاکستانیوں کے گھروں میں کم از کم ایک بیکار ہے۔ اب وقت ہے کہ عورت مرد سب کام کر کے روٹی کھائیں۔ تب ہی معاشی غربت میں کمی آ سکتی ہے۔جماعت اسلامی کے سربراہ کارکنوں کو مہنگائی ٹرین چلانے کی بجائے سب نوجوانوں اور خواتین کو بیکار کے ان احتجاجوں کی جگہ مثبت کاموں کی جانب راغب کریں۔ سب دنیا دیکھ رہی ہے کہ کل جو بیجنگ میں عالمی ترقی پر مذاکرات ہوئے ہیں ان میں پاکستان کا مسئلہ شامل نہیں کہ وہ سب جانتے ہیں کہ ہم نے ڈیموں، سی پیک اور دیگر منصوبوں میں چینی حکومت اور مزدوروں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا۔ اس کے باوجود چین پاکستان کے ادھورے فیصلوں کو مکمل کرنے کیلئے مستعد ہے۔
معیشت کے اس بحران پر کوئی ہے جو تنقید کرنے والے سربراہ کو سمجھائے کہ جب گھاس نہیں ہوگی تو گھوڑا گھاس کہاں سے کھائے گا؟ حکومت میں جو کیا وہ بھی دنیا جان گئی اور اب یہ واویلا بند کریں۔ مجھے کیا ساری قوم کو اندازہ ہے کہ بھاری منافع کمانے والے کبھی اپنی تجوریوں کے منہ نہیں کھولیں گے۔ حکمرانوں کے اپنے گھروں اورفیکٹریوں میں بہت کچھ ہے۔ مثال قائم کرنی ہے تو اپنے ہاتھ اور گھر کے دروازوں کے پیچھے جو گدڑی ہے اس میں ہی لعل و گوہر نکل آئیں گے۔تھوڑا کہنے کو بہت سمجھیں۔ نواز شریف بیان دینے کے بجائے ’’دان‘‘ دیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھیں شہنشاہ ایران کے پاس کیا نہیں تھا۔مگر اختتام کیا تھا، جنرل اسکندر مرزا، ملک سے نکل کر ہوٹلوں میں برتن مانجھتے رہے۔ بلاول بھی اپنے ابا کو کہیں اپنی زمینوں اور جائیدادوں پر پورے سندھ میں نظر دوڑائیں۔ پیر پگاڑا بھی نذرانے وصول کر کے ،قومی بجٹ میں شامل کر دیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker