کالمکشور ناہیدلکھاری

شاید امن کی فاختہ کا سفید رنگ واپس آجائے۔۔کشور ناہید

پہلے کہا جاتا تھا، ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ پھر ہم نے اس محاورے کو بدل دیا کہ ایجادات اور فیشن ضرورت بن جاتے ہیں۔ ہم نے فیشن میں قیمتی گاڑیاں ایم۔ این۔ اے بنتے ہی خریدنی شروع کر دیں۔ خواتین نے ڈیزائنر سوٹ، ٹکڑوں کی شکل میں خرید کر پہننے شروع کر دئیے۔ وہ ہماری اماں جب ٹکڑیاں جوڑ کر دسترخوان بناتی تھیں۔ ان کو جوڑ کر سندھ میں ٹوپیاں بنیں تو اجرک کا ستیاناس مارنے کے لئے ہم نے اس کو بھی فیشن بنا دیا۔ ہم نے کیا ساری دنیا نے ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود کولڈڈرنکس پینی جاری رکھیں۔خوب برگر کھا کر اپنی امارت اور بچوں کو ماڈرن بنانے کا اظہار کیا۔ ہمارے خادم اعلیٰ ترکی گئے تو اورنج ٹرین بنانے لگے۔ وہ تو شہر کی بات ہے کہ آرکیٹکچرز نے عدالت سے رجوع کیا تو چو برجی، شالیمار اور جی پی او کی عمارتیں بچ گئیں۔ ویسے اس منصوبے کے نامکمل اسٹرکچر سے جو لاہور میں خاک اڑ رہی ہے۔ اس کو دیکھ کر منیر نیازی کا مصرعہ سچا معلوم ہوتا ہے کہ ”اس شہر سنگدل کو جلا دینا چاہئے اور اس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئے۔
اب آجائیں میرے ساتھ یورپ چلیں۔ میں مستنصر کی طرح تاریخ اور عشق ملا کر کہانی نہیں بنا سکتی۔ البتہ معاشرتی اور معاشرے کی تصویر کشی کر سکتی ہوں۔ اٹلی میں عوام کو اپنے ماضی پر بہت فخر ہے۔ اسی لئے جس جگہ پر پرانی جیل تھیںان میں سے ایک بڑے رقبے پر یونیورسٹی کی نئی توسیع کر دی گئی ہے اور ایک حصہ خواتین کے مسائل حل کرنے والی تنظیموں کو دے دیا گیا ہے۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ہماری طرح لوگوں کے گھروں، تھڑوں اور دکانوں کو نہیں گرایا، بلکہ ٹریفک اور سڑکوں کی اس طرح تقسیم کی گئی ہے کہ تمام سڑکوں کو ایک رویہ بنا دیاہے۔ سڑک کو چار حصوں میں منقسم کر کے ایک طرف فلیٹوں میں رہنے والوں کی گاڑیاں کھڑی کرنے کے لئے جگہ چھوڑ دی ہے۔سڑک کا دوسرا حصہ ٹرام چلانے اور تیسرا بسوں کے چلانے کے لئے ہے، چوتھا حصہ ٹیکسیوں کے لئے جو باقاعدہ میٹر اور رسید کے ساتھ چلتی ہیں۔ یہ ہے چار حصوںمیں منقسم سڑک۔ آپ سوچیں اس کا حل لوگوں نے کیا نکالا۔ زیادہ تر لوگوں نے چھوٹی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنی شروع کر دیں، شہر کے قریب مضافاتی آبادیاں بنا لیں جہاں چار پانچ سو گھر یا فلیٹ بنا لئے۔ سمندر کا کنارہ ہر طرف موجود ہے۔ مضافات میں ٹیکس بھی کم ہیں اور بچوں، مریضوں کے لئے ہر طرح کی سہولت اور بسوں کی آمدورفت موجود ہے۔ جہاں کہیں بھی رہ رہے ہوں، موبائل کے ذریعے ٹرین اور جہاز کی بکنگ ،اب تومیوزیم کے سامنے رش نہیں کہ لوگ موبائل کے ذریعے، ریسٹورنٹ تک میں بکنگ کرا لیتے ہیں۔ سارے دوستوں سے گفتگو ہم بھی موبائل سے کرتے ہیں۔ مگرہ وہ تو ہر کام ہی کاغذ کے بجائے موبائل اور کمپیوٹر سے کرتے ہیں۔ شہر میں تو لوگ بہت کم ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ البتہ ہفتہ، اتوار کو پٹرول اور ہوٹلوں کے ریٹ زیادہ ہوتے ہیں۔5 اسٹار ہوٹلوں کے علاوہ ، باقی تمام ہوٹل صرف صبح کا ناشتہ فری دیتے ہیں۔دوپہر کے کھانے کی علت نہیں ہے۔ لوگ ہر گلی میں کھلے پذیریا میں جا کر ایک ٹکڑا پیزاکھالیتے ہیں۔ پانچ یورو میں کام بن جاتا ہے۔ تمام دفتر والے اور اسٹوڈننس آدھے گھنٹے کی بریک میں عیش کرتے ہیں۔ البتہ ہفتہ اتوار کو دکانیں رات بارہ بجے تک کھلی رہتی ہیں اور تمام کلب اور بار، رات دوبجے تک کھلے رہتے ہیں۔
اب تک جو باتیں کیں وہ خوش کلامی کی تھیں۔ اب ذرا وہ کچھ جو ہر ملک کا مسئلہ ہے۔ اٹلی میں بھی بہت ہجرت کرنےوالے لوگ ہیں۔ جن کی رضا کارانہ مدد، میری یونیورسٹی کی دوست کرتی ہیں۔ کبھی مختلف سفارت خانوںسے رابطہ کرتی اور کبھی ان کے رہنے سہنے کا اہتمام کرتی رہتی ہیں۔ یوں تو کئی ہزار طالب علم پاکستان کے اٹلی کی مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک بھی نہیں سوچتا کہ واپس وطن جا کر کام کرینگے۔ اپنے خاندانوں میں نوکری پیشہ لوگوں کا انجام دیکھ کر وہ بہت بددل ہیں۔ کہتے ہیں اگر واپس گئے تو اپنا کام کرینگے یا پھر یہیں فیملی بنا لینگے۔ اٹلی میں مراکش، بنگلہ دیش، پاکستان، عراق ، شام اور یمن کے مہاجرین کی کچھ تو غیر سرکاری ادارے مدد کر رہے ہیں اور کچھ حکومت بھی ان کی آبادکاری کے بارے میں سنجیدہ ہے۔
یہاں تک تو رستے ہی میں بلکہ جہاز ہی میں لکھ لیا تھا۔ مگر وطن واپسی، مجھے نمونیے کی گود میں لے گئی۔ پتہ نہیں سینہ جکڑا ہوا ہے کہ پھیپھڑے بلغم کو اپنی گود میں لے لیتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی خطرناک دوائیوں کو بھی جسم نے قبول نہیں کیا۔ بلغم کے ساتھ سینہ کوبی چل رہی ہے۔ وہ میری طرح ڈھیٹ ہے۔ ملک بھر سے میرے دوست ٹوٹکے بتا رہے ہیں اور میں ہوں کہ ادرک کی چائے اور گڑ کی ڈلی پربھی کھانسی پہنے بیٹھی ہوں۔ ہر سال بی بی کی یاد میں چھلکتی آنکھوں کیساتھ سوچ رہی ہوں۔ نیا سال اور قدرت بلاول کو اپنی پناہ میں رکھے۔ ورنہ پتہ نہیں کیوں پاکستان میں گدھ بہت بڑھ گئے ہیں۔ اس ملک میں دندان ساز، غالب پر لکھی ہوئی تقریر کرنے لگے ہیں۔ 2018ءنے بہت صحافیوں اور سیاسی لوگوں کے جنازے، اغوا کرنے کے ہولناک منظر دکھائے ہیں۔
اللہ کرے مذہب کے نام پر دھرنے کی سیاست 2019 ءمیں ختم ہو جائے۔ نیا سال نئے قدم، نئے نظریات اس لئے چاہتا ہے کہ ٹرمپ جیسا ظالم بھی فوجیں بھیج بھیج کر تنگ آچکا ہے اور دلی میں ریختہ میں انتظار حسین کو یاد کرتے ہوئے ، بی جے پی شرارت کرنے سے باز رہی، امن کی فاختہ کا سفید رنگ شاید یہ سال واپس لے آئے۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker