پٹرول کی قیمت دیکھ کر یہ طے ہے کہ اب گاڑی نہیں چلائی جا سکتی تو پھر کیا سائیکل یا پھر پیدل، دونوں چیزوں کا وقت گزر چکا کہ جوانی میں سائیکل اور وہ بھی ٹریل پر چلانے کا مزہ خوب آتا تھا مگر یہ کام کرنے سے منع کر دیا گیا۔ پیدل چلنا بھی جوانی ہی میں ممکن ہے کہ اب تو باتھ روم تک جانا بھی مشقت لگتا ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے حالات تو یہ ہیں کہ پنشن والوں کو دس فیصد اضافے کی خبر، اب تک بس خبر ہے کہ روز بینک کا چکر لگانے کے بعد نفی میں ملے جواب کا غصہ کس پر اتاریں۔ نصرت جاوید نے دیہاڑی کا ذکر کر کے ہماری انگلیوں اور تحریروں کو بے اثر کر دیا ہے۔ چاروں طرف لوگ پوچھ رہے ہیں۔ ایک زمانے میں شہباز شریف نے دو روپے کی روٹی کر کے خوب نام کمایا مگر جب پتا چلا کہ خزانہ خالی ہو گیا۔ دو روپے کی روٹی، دانش اسکولوں کی طرح ماضی کا قصہ بن گئی۔ مجھے ایوب خان کے زمانے میں بنی بنائی روٹی کا شوشہ یاد آگیا۔ الطاف گوہر کے ذہن کی یہ اختراع تھی۔ شہزاد احمد کو بھی وہیں ملازمت ملی۔ بڑا چرچا ہوا کہ عورت کو چولہے چکی سے نکال کر دیگر منفعت بخش کاموں میں لگایا جائے گا مگر ہمارے گھروں کے راجے مہاراجے جو گھر آکر رات کو دو بجے بھی تازہ گرم پھلکا مانگتے ہیں، ان کو شکایت تھی کہ بھئی یہ پکی پکائی روٹی ٹھنڈی ہوتی ہے، پھر سب سے بڑی بات یہ کہ اس کا نوالہ نہیں بنتا، تو قورمہ اور آلو گوشت کا شوربہ کیسے کھایا جائے۔ چنانچہ ہمارے گھروں کے مردوں نے اس روٹی کو ناپسند کیا اور وہ فیکٹری خسارے میں چلنے کے باعث اسٹیل مل کی طرح بند ہو گئی۔
پٹرول کی مہنگائی سے پریشان ہو کر بہت سے دوستوں سے مل کر یہ منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ چند لوگ مل کر ایک گاڑی میں دفتر جائیں تو شاید خرچہ کم ہو۔ جب جائزہ کیا تو کسی کا دفتر جی12، تو کسی کا دفتر جی 8میں۔ ارے یوں تو پٹرول اور زیادہ خرچ ہو گا۔ پاکستان میں نہیں امریکہ کے چھوٹے گھروں میں ایک سوئمنگ پول ہوتا ہے جسے سب استعمال کرتے ہیں۔ پھر ایک واشنگ مشین ہوتی ہے۔ سب باری باری استعمال کرتے ہیں۔ ایک اِن ڈور گیم اور ایک آؤٹ ڈور بیڈ منٹن اور ٹینس کھیلنے کے لئے ہوتا ہے۔ لوگ ان جگہوں کے استعمال کے پیسے دیتے ہیں۔ کسی کے بچے کو ہماری طرح بوتل پی کر اور چپس کھا کر تھیلا پھینکنے کی اجازت نہیں، بلکہ جرمانہ ہوتا ہے۔ ہم تو موٹروے پہ چلتے ہوئے کیلے کے چھلکوں سے لے کر مونگ پھلی کے چھلکے تک پھینک دیتے ہیں۔
جن فلیٹوں میں مَیں رہتی ہوں وہاں بھی سوئمنگ پول تھا۔ چند ہفتے فیملیز نے استعمال کیا۔ بند اس لئے کر دیا گیا کہ رات کو تمام خانسامے، اپنے کپڑوں سمیت ڈبکی لگاتے، صبح کو پول کا پانی اتنا گندا اور چکنا ہوتا کہ کوئی صاف کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا۔بھئی سب ٹھیک ہے، مگر یہ 118 روپے لیٹر پٹرول کیسے برداشت کریں۔ اٹلی کی طرح ہم میں سے زیادہ لوگ چھوٹی گاڑیاں رکھتے ہیں۔ کچھ سال تک تو گیس سے گاڑیاں چلائیں۔ اب یہ نسخہ بھی بے کار کہ گھر میں جلانے کو گیس آئے تو شکر کیجئے، ہفتے میں دو دن گیس ملتی ہے ہر جگہ ایک فرلانگ لمبی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔
اچھا یاد آیا، وہ کسی میٹنگ میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بنائیں گے مگر بجلی کون سی سستی ہے۔ ایک بندے نے پانی سے چلنے والی گاڑی کا شوشہ چھوڑا تھا۔ وہ تو بھلا ہو سائنس دانوں کا، انہوں نے اس کا انٹرویو کیا تو اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔
اب سینیٹرز پہ بے جا خرچہ کیا ہے۔ وہی پٹرول کی وزارت کو دیئے ہوتے تو ہم 118روپے لیٹر پٹرول خریدنے سے بچ جاتے۔ میں نے گھبرا کر پوچھا ’’وہ جو ہماری پنشن میں دس فیصد اضافہ ہوا تھا، وہ دیں، میں جا کر پٹرول ڈلواؤں‘‘۔ منیجر نے ہنس کے کہا میڈم سرکار کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ابھی اضافہ نہیں ہوا۔ اب گھبرا کر سیونگ سنٹر گئی۔ میں نے 2012ء میں سرٹیفکیٹس لئے تھے۔ سوچا منافع اب تو ساڑھے بارہ فیصد ہو گیا ہے۔ چلو وہیں سے پیسے لا کر پٹرول ڈلوا لوں۔ میں نے جب پوچھا کہ یہ منافع اتنا کم کیوں ہے۔ جواب تھا، نئے منافع کے ریٹس تو نئے سرٹیفکیٹس پہ ملیں گے۔
اپنے آپ سے غصہ ہونے کا نقصان بھی خود کو ہی ہوتا ہے۔ ان چکروں میں مجھے مائیگرین ہو گئی۔ کیمسٹ کے پاس دوائی لینے گئی تو پھر جھلا گئی۔ ہنس کر بولتے آپ تو وزیراعظم یا پھر خاتونِ اول سے بات کر سکتی ہیں۔ مجھے پھر غصہ آگیا ’’آپ کیا مجھے فردوس عاشق اعوان سمجھ رہے ہیں۔ میں نے ایک عرضی لکھی تھی۔ میری مائی غریب اور بوڑھی ہے۔ اسے کچھ پیسے دے دیں۔ 18جون سے لے کر آج کا دن آگیا۔ غریبوں کے نصیب ویسے کسی دور میں بھی نہیں جاگے۔ ان کے ہاتھ میں تو روٹی کی قیمت بدلوانے کی ہمت نہیں ہے۔ پٹرول کی قیمت 118سے کیسے کم کریں گے۔
رہے تاجر، وہ تو ہمارا خون چوسیں گے۔ پیکٹ میں پنیر جو کل تک 200روپے کی تھی آج 470میں مل رہی ہے۔ پھر مثال انڈیا کی، وہاں تو گلی گلی اور ہر غریب دہی اور پنیر دونوں وقت کھانے کے ساتھ کھاتا ہے اور ہمارا یہ حال ہے کہ اب تو چائے میں بھی دودھ، تھوڑا سا ڈالتے ہیں۔ سننے والے دوست نے کہا ’’یہ کرو بلیک ٹی اور بلیک کافی پیو۔ وزن بھی کم ہوگا‘‘۔ میں نےکہا پوری قوم کا 118روپے لیٹر پٹرول کا سن کر ہی خون پانی بن گیا ہے۔ یہ زمانہ پھر بھی بہتر ہے۔ خود وزیراعظم نے کہا ہے کہ ابھی اگلے سال تک مشکل مالی حالات رہیں گے۔ اور پھر… اور پھر ہم اس کے عادی ہو جائیں گے۔ اب تو میں سوتے ہوئے چیخ پڑی، 118روپے لیٹر پٹرول یااللہ رحم کر۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

