Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, فروری 10, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • اسیں لہور سجائیے : وجاہت مسعود کا کالم
  • تہران : انسانی حقوق کی نوبل انعام یافتہ کارکن نرگس محمدی کو مزید ساڑھے سات سال قید کی سزا
  • ناصر ملک ایک ہمہ جہت شاعر و ادیب : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا بلاگ
  • گزران: ایک حسّاس روح کی سرگزشت : محمد عمران کا کتاب کالم
  • ندیم الرحمان : خدا کا دوست خدا کے حوالے :رضی الدین رضی کا اختصاریہ
  • ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : خوفزدہ بہار اور ہارا ہوا حوصلہ
  • وزیراعلیٰ پنجاب کا کل بسنت کی اپنی تمام مصروفیات منسوخ کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی، 169 زخمی
  • لاہور کی بسنت نے ملتان میں پتنگوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں : فی پتنگ ریٹ 1000 روپے
  • لندن: بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی طبیعت انتہائی ناساز، اتوار سے ہسپتال میں زیرِ علاج
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»غنچے کے مزار پر لکھی نظمیں۔۔کشور ناہید
کالم

غنچے کے مزار پر لکھی نظمیں۔۔کشور ناہید

ایڈیٹرنومبر 29, 201929 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
kishwar-naheed
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

چند سال ہوئے کوہستان کے علاقے میں شادی کے موقع پر لڑکے ڈانس کر رہے تھے اور لڑکیاں تالی بجا رہی تھیں۔ جرگے نے ان سب کو عدالت کے منع کرنے کے باوجود قتل کر دیا۔ یہ واقعہ مجھے اسلئے یاد آیا کہ وزیرستان کے شاعر اور فوٹو گرافر احسان اللہ نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں شادیوں پر مرد عورتیں اکٹھے رقص کرتے تھے۔ جسکو ”رتن “ کہا جاتا تھا یہ دونوں باتیں مظہر ہیں اس صورت کی کہ پاکستان کا معاشرہ کتنا ابتر ہو گیا ہے۔ ابھی سندھ میں تیرہ سالہ لڑکی نے ایک بچی کو جنم دیا ہے۔ اسکے باپ کا نام لڑکی کو معلوم نہیں۔ ماں باپ نے بھی گھر سے نکال دیا وہ جو آجکل پناہ گاہوں کا چرچا ہے وہ کیا عورتوں کیلئے نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اول تو سیاسی پارٹیاں خود بھی بحران کے علاوہ شکست و ریخت سے دوچار ہیں۔ ویسے بھی ان جماعتوں میں میری بھاوج اور تیری بہن کے علاوہ اور کون آیا ہے، سوائے نفیسہ یا شیری رحمان کے۔ انکو بھی اپنے گرفتار رہنماﺅں کے بارے میں گفتگو سے فرصت نہیں ملتی۔ اب جبکہ افغانی عورتوں نے بارودی سرنگیں صاف کرنا شروع کردی ہیں۔ وزیرستان میں بھی یہ تیز اور جلدی اسلئے کیا جائے کہ ابھی گزشتہ ہفتے ہمارے جوان باردوی سرنگوں کے پھٹنے کے باعث شہید ہو گئے تھے۔
ان واقعات کو لکھتے لکھتے میری نظر ایک مضمون پر پڑی جو میں ایک مدت سے تلاش کر رہی تھی۔ سبب یہ کہ افغانستان سے ہجرت کرنے والی اور طالبان سے تنگ آئی خواتین کچھ تو لکھ رہی ہوںگی فوراً میری نظر فوزیہ رہگزر کی شاعری پر پڑی، اس دیار میں عورت کا کوئی نام نہیں۔
”اے عزیز خاتون، اے تنہا دردمند، میں تمہارے شکستہ چہرے پر زردی کھنڈتی دیکھ رہی ہوں۔ تم نے اپنی سرکشی قفس کے درد سے بھرپور گوشے میں مدفون کر دی ہے۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ تم ”ایک شہرِ بےنور اور ایک شہر بےچراغ کی رہائشی ہو گئی ہو“۔ کتاب کا دوسرا صفحہ پلٹا شاعرات پہ قدغن کا منظر نامہ سامنے تھا۔
میں نے اپنے سبھی اشعار کا سر قلم کر دیا اور لفظ عشق سنگسار کر ڈالا۔ افغان عورت کو الفاظ کا رفیق نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں تو شاعرہ کا نام بھی نہیں تھا۔ اگلے صفحے پر زہرا زیدی کی نظم نے پکڑ لیا۔” کتابیں میرا مدفن بنیں گی اور تم انہیں آگ لگا دو گے۔ میرے تمام جسم سے جلے ہوئے اشعار کی بو اٹھے گی۔ میں کاغذ کے تراشے جھاڑو پھیر کر چنبیلی کے پودے کے پاس اکٹھا کروں گی۔ میں اندھی، گونگی بھی ہو جاﺅں گی، تم عالم مستی میں رقص کرو گے اور راکھ اڑا دو گے، میں گریہ کروں گی اور چنبیلی کے غنچوں سے دل لگاﺅں گی، اب بنی ہوں مگر گرہستن اندھی اور گونگی اور میرے جسم سے ادھ جلے اشعار کی بو اٹھ رہی ہے“۔
یہ نظم پڑھنے کے بعد، میں نے کتاب بند کر دی۔ یہ خواتین افغانستان سے باہر بلکہ بہت سی ایران میں ہیں مگر اپنے اوپر سامراج کے ظلم اور پدر شاہی نظام کو نہیں بھولی ہیں۔ انہیں افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں سرعام تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ یہ نظمیں اسلئے بھی آپ کو سنا رہی ہوں کہ ابھی تک طالبان جو یقیناً، نئی آنے والی حکومت میں شریک کار ہوں گے، وہ کیا عورتوں کے ساتھ وہی سلوک کریں گے۔ ایک اور شاعرہ لکھتی ہے۔ ”ہماری آنکھوں کے دریا پر بند نہ باندھو، میرا دل پتھر اور سیمنٹ سے خوف زدہ ہے۔ مت کہو۔ تنہائی خوبصورت چیز ہے۔ میرا دل دیواریں خوب پہچانتا ہے“۔
ایک اور شاعرہ کی نظم کا حصہ ”مجھے کتنے سمندروں جتنا رونا پڑے گا کہ میرے دکھوں کے مرکز ےمیں گھری ہوئی گریہ و زاریاں آزاد ہو سکیں۔ مجھے اپنے خدوخال بنانے والی مہیم لکیروں سے نفرت ہے۔ میں کبھی انہیں پہچان نہ پائی۔ مجھے پتھر کی شفاف دیواروں سے وحشت ہے“۔
اب ایک نظم جو اس بچے کے نام جو ہجرت کی یخ بستگی میں مر گیا ”میں تمہیں تا ابد یاد رکھوں گی اور تمہارے ہاتھوں کی یخ بستگی کا قصہ ہر ایک کو سناﺅں گی۔ اور تمہارے سرد ننھے وجود کی کہانی۔ گرم لحاف میں خوابیدہ ہر شخص کو سناﺅں گی اور تمہاری ماں کے خاک پہ قطرہ قطرہ ٹپکتے آنسوﺅں کا مقصد/ کاغذ پہ اتاروں گی، مہاجرین ترین بچے، کونسی زمین تمہارے تن رنجیدہ کی پناہ گاہ بنی“۔
جنگ کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل کو گزشتہ 20برس سے افغانستان میں موجود اور دیگر ممالک میں ہجرت کرنے والیاں کیسے سنا رہی ہیں۔ یہی حال سوڈان، یمن اور شام میں بھی ہے۔ پاکستان میں بھی کوئی بہت اچھی صورتحال نہیں ہے۔ پھر بھی ہم جیسے گزشتہ پچاس برس سے بول رہے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر، فہمیدہ ریاض، پروین رحمان اور رضیہ بھٹی کے علاوہ بےنظیر نے بھی حق و صداقت کے لئے جان دی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleپوچھیں جو پوچھنا ہے!۔۔عطا ءالحق قاسمی
Next Article نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور۔۔رﺅف کلاسرا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اسیں لہور سجائیے : وجاہت مسعود کا کالم

فروری 9, 2026

تہران : انسانی حقوق کی نوبل انعام یافتہ کارکن نرگس محمدی کو مزید ساڑھے سات سال قید کی سزا

فروری 9, 2026

ناصر ملک ایک ہمہ جہت شاعر و ادیب : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا بلاگ

فروری 8, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • اسیں لہور سجائیے : وجاہت مسعود کا کالم فروری 9, 2026
  • تہران : انسانی حقوق کی نوبل انعام یافتہ کارکن نرگس محمدی کو مزید ساڑھے سات سال قید کی سزا فروری 9, 2026
  • ناصر ملک ایک ہمہ جہت شاعر و ادیب : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا بلاگ فروری 8, 2026
  • گزران: ایک حسّاس روح کی سرگزشت : محمد عمران کا کتاب کالم فروری 8, 2026
  • ندیم الرحمان : خدا کا دوست خدا کے حوالے :رضی الدین رضی کا اختصاریہ فروری 8, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.